Tag Archive | "Nbsp"

Tags: , , , ,

غیر مسلح پٹھان اور جہاد اکبر

Posted on 26 May 2009 by Ibrahim Sajid Malick

ماضی کی تاریکیوں میں بھولی بسری تہذیبوں کو تلاش کر کے ذہنوں میں کندہ کرنے اور اُن پر فخر کی کئی قابل فہم وجوہات ہو سکتی ہیں۔ اگر یہ تہذیبیں طاقت کا مرکز نہ بھی رہی ہوں تو بھی اُن کا ذکر فخر سے کیا جا سکتا ہے۔ حالات کا رُخ موڑ دینے والی تحریکوں کو قوموں کی تاریخ کا حصہ بنانے میں کوئی بھی کوتاہی ایسی قوم کی نشاندہی کرتی جس کا دھارا صرف تنزلی کی سمت میں بہتا ہے ، لیکن جب انہونی کا آغاز ہوتا ہے اور ملک محض چند افراد کی بے لگام طاقت کے سامنے بے بس ہو جاتا ہے تو یہی تاریخی ورثے قوموں کو نئی توانائی اور زندگی کی تازگی بخشتے ہیں۔
کچھ دن پہلے بھارتی دانشور Mukulika Banerjee کی کتاب کا مطالعہ کرتے ہوئے ذہن کے بند دریچوں میں جھانکا تو یہ سوال آن کھڑا ہوا کہ پاکستانی قوم کس طرح خدائی خدمت گار تحریک کو بھول چکی ہے۔ Mukulika Banerjee اپنی دلچسپ کتاب Unarmed Pathan”” میں ہمیں یاد دلاتی ہیں کہ 1930 سے 1947 کے دوران سترہ سال تک صوبہ سرحد میں عروج پر رہنے والی خدائی خدمت گار تحریک دنیا بھر میں سول نافرمانی کی سب سے بڑی تحریک ہے۔نو آبادیاتی دور کے خلاف یہ تحریک اپنے وقت کی ثقافت کو یکجا کرتے ہوئے بالکل نئے نظریئے سے شروع ہوئی اور پروان چڑھی۔
تحریک کے غیر مسلح ارکان پشتون قوم کا وقار اور حوصلہ لے کر دشمن کی مسلح فوجوں کے خلاف میدان عمل میں نکلے .آج ”پٹھان” یا ”صوبہ سرحد” کا لفظ سامنے آتے ہی ہمارے ذہن میں ایک مذہبی جنونی شخص کا تصور ابھرتا ہے، لیکن انہی گاؤں اور پہاڑوں میں چند دہائیاں پہلے سول نافرمانی کی تحریک پورے عروج پر تھی۔ اُس وقت بھی آج ہی کی طرح وسطی ایشیاء پر تسلط کے لئے برطانیہ اور روس کے درمیان محاز آرائی جاری تھی، لیکن اسی قوم نے ان دونوں طاقتوں کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دیا۔
حکومت کی جانب سے تعلیم، صحت اور دیگر فلاحی کاموں میں عدم دلچسپی کے باعث خان عبدالغفار خان اور اُن کے ساتھیوں نے معاشرے کے اندر اصلاحات کی بنیاد رکھی۔ انہوں نے گاؤں گاؤں میں صفائی مہم شروع کی، پرائمری تک تعلیم کے لئے آزاد اسکول قائم کئے ۔ ان کاموں کی وجہ سے خدائی خدمت گاروں کو کافر کا لقب دیا گیا۔ انہیں ہندو ثابت کرنے کے لئے مختلف الزام لگائےگئے اور بچوں کو تعلیم دلانے پر کہا گیا کہ وہ جہنم کی آگ میں جلیں گے، لیکن اس کے ارکان اپنے موقف پر ثابت قدمی سے جمے رہے۔
تحریک کی قیادت نے دوسروں کے لئے بھی مثال قائم کی اور باچا خان کا اپنا بیٹا بھی آزاد اسکول میں تعلیم حاصل کرنے لگا۔ خود باچا خان ہر روز میلوں سفر طے کر کے لوگوں کو تحریک کی موقف پر قائل کرتے تھے۔ وہ کفایت شعاری پر مبنی کھانا کھاتے اور کھانے کے وقت اپنے ساتھ کسی کو لازمی طور پر شریک کر لیا کرتے۔ آج کی دنیا میں ایسے انسان دوست کاموں کی مثال کم ہی ملتی ہے، لیکن اسی وجہ سے پٹھان قوم نے ہزاروں کی تعداد میں اس تحریک میں شمولیت اختیار کی اور 1990 کی دہائی تک اس کے نقوش ذہنوں پر چھائے رہے اور لوگ اپنے بچوں کو اُس سحر انگیز شخصیت کی باتیں سناتے تھے ۔
باچا خان کا لباس فقیروں جیسا لیکن دل بادشاہوں جیسا تھا۔ یہی وہ شخص تھا جس نے نہایت سادہ کاموں کے ذریعے معاشرے میں تبدیلی لانے کا عمل اپنے ہاتھوں میں لے کر پشتون قوم کو اُس کی عزت نفس واپس دلائی جس کے نتیجے میں لوگوں کو بنیادی تعلیم اور صحت کی سہولتیں مل سکیں۔
آج جب صوبہ سرحد اور اس کے دیگر علاقے مذہبی دہشت گردوںکے قبضے میں ہیں تو یہ سوچنا پشتون قوم کی ذمہ داری ہے کہ ایسے عناصر کے ایجنڈے کے ذریعے مقامی لوگوں کی بنیادی اور انسانی ضروریات کی تکمیل کس حد تک ہو سکتی ہے؟ کیا یہ لوگ اُن کے بچوں کے لئے تعلیم، صحت اور اُن کے گاؤں کے لئے خوشحالی کا کوئی پیغام لا سکتے ہیں؟
خدائی خدمت گاروں نے اپنے عمل سے ثابت کیا کہ اللہ تعالیٰ کی رضا اور اُس ذات اقدس کو راضی کرنے کا سب سے بہترین طریقہ خدمت خلق ہے۔ بندہ اپنے نفس پر قابو پا کر جہاد اکبر کے ذریعے اسلام کی حقیقی روح کو پہچان سکتا ہے اور نفس کا جہاد کسی بھی مسلح جدوجہد سے کہیں زیادہ معتبر ہے۔
آج بہت سے قابل عزت اور بہادر پٹھان ہم میں موجود نہیں رہے جن کی سنائی ہوئی کہانیوں سے اُس دور کے کارنامے اور تہذیب و تمدن کی عظیم یادگار جھلکتی تھی اور  ہم نے اپنی کتابوں سے یہ کہانی ختم کر دی ہے جس کا نقصان ہمیں ہو رہا ہے۔ آج یہ ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم اُس تحریک کو مشعل راہ بنا کر مستقبل کے بارے میں غور کریں اور ماضی کے حالات سے سبق سیکھ کر منزل تک پہنچنے کے لئے راستے کا تعین کریں۔

Comments (5)

Tags: , , , , , , , , , ,

پاکستان طويل عرصے سے نزع کے عالم سے گزر رہا ہے

Posted on 19 May 2009 by Ibrahim Sajid Malick

اتوار کو امريکي ٹي وي ديکھتے ہوئے مجھے مغرب کے عظيم اسکالر Michele Focoult ياد آئے۔ وہ کہا کرتے تھے کہ دنيا ميں دانشوروں کي سوچ محدود جبکہ نظريات کثير تعداد ہيں۔ ايسا لگتا ہے کہ امريکا کے صحافيوں کي سوچ بھيخاصي محدود ہے۔
آج کي دنيا ميں نظريات دانشوروں کي سوچ کے برعکس زيادہ متحرک، مضبوط اور مذاحمت کے حامل ہے ۔ ہميں اس سوچ اور نظريات کے وجود کي موجودگي کا احساس اس لئے نہيں ہو پاتا کيونکہ ہم کتابي کيڑے اور ٹي وي پروگراموں کي زينت بن کر رہ گئے ہيں۔ ہميں نظريات کو کتابوں ميں تلاش کرنے کے بجائے ان کے ظہور کا گواہ ہونا چاہيے۔ ان خيالات کے نتيجے ميں شروع ہونے والي تحريک عمومي طور پر دانشوروں اور صحافيوں کي نظر سے اس لئے اوجھل ہوتي ہے کہ يہ اُس سوچ کے دائرے سے ہي باہر ہوتے ہيں۔
ان کي باتوں سے ايسا لگتا ہے کہ پاکستان بہت جلد ناکام رياست بن جائے گا يا طويل عرصے سے نزع کے عالم سے گزر رہا ہے۔ ہم عرصے سے سنتے آرہے ہيں کہ پاکستان ناکام رياست بن چکا ہے، ليکن اس کے ناکام رياست ہونے يا اس کے دہانے پر پہنچنے کی کوئی وضاحت نہيں ہے۔
دنيا بھر کے سياسي مبصرين اور مختلف ادوار کا گہرا مطالعہ رکھنے والوں کا اس پر بڑي حد تک اتفاق ہو چکا ہے، تاہم پاکستان کي مختصر تاريخ کا مطالعہ رکھنے والے اچھي طرح جانتے ہيں کہ يہ سوچ کوئي نئي نہيں ۔اس سوچ کا بيج دراصل 1960 کي دہائي میں بويا ۔
طويل عرصے سے جاري ناکام رياست کي یہ رٹ اس بات کي عماز ہے کہ امريکا نے اسلام آباد کے بارے ميں کسي دور انديشي کا مظاہرہ کرنے کے بجائے مختصر مدت کے مقاصد پر نظر رکھي۔ امريکا کے لئے پاکستان کے مسائل کا حل ہميشہ سے ہی فوج کے مضبوط کردار کي صورت ميں موجود رہا ہے۔
پہلے پہل فيلڈ مارشل محمد ايوب خان کے فوجي دور ميں پاکستان کو سرد جنگ کے دنوں کا ساتھي اور ترقي پذير ملکوں کا ماڈل قرار ديا گيا۔ کہا جاتا ہے کہ ايوب خان کے دور حکومت ميں پاکستان نے نام نہاد ”ترقي يافتہ ڈکٹيٹر شپ ” کي حيثيت سے فائدے حاصل کئے – امريکا نے ايک قدم اور آگے بڑھ کر 1965 ميں ايوب خان کو انتخابات ميں فتح دلانے میں بھی بنیادی کردار ادا کيا، ليکن اس کے فوراً بعد ہی ايوب خان بھارت کے ساتھ جنگ کي بيوقوفي کر بیٹھے۔ يوں اُن کي شہرت کا گراف گرتا چلا گيا۔
اُن کے وزير خارجہ ذوالفقار علي بھٹو نے سماجي برابري کے اصولوں پر جمہوريت کے لئے ملک گير مہم شروع کر دي۔ ذوالفقار علي بھٹو کي يہ سوچ کميونزم مخالف امریکی ”ڈومينو تھيوري” کے برعکس تھي اور اسی وجہ سے پہلي بار ناکام رياست کا تاج پاکستان کے سر پر سجايا گيا۔
1979 ميں افغانستان پر سابق سويت يونين کے حملے کے وقت پاکستان پر دوسرے فوجي حکمران ضياء الحق کا قبضہ تھا۔ ايک بار پھر پاکستان امريکا کے قريبي اتحادي کے ”درجے” پر فائز ہوا جس کے نتيجے ميں سرحد کي دونوں جانب مجاہدين کو بے دريغ اسلحہ اور رقم مہيا کي جاتي رہي۔
فوجي تنازع کے اُس دور ميں امريکا کي جانب سے دي گئي اربوں ڈالر کي امداد کے نتائج آج ہم دو صورتوں میں بھگت رہے ہیں۔ ایک يہ کہ پاکستان آرمي کے سامنے جمہوري اور سول حکومتیں کمزور دکھائي ديتي ہیں۔ دوسرا يہ کہ روسي فوج کو افغانستان سے نکالنے والے جنگجو اب پاکستان کي سرحدوں پر آن پہنچے ہيں۔ پھر 1988 ميں جنرل ضياء کي حکومت ختم ہونے کے بعد جب پاکستان جمہوريت کي طرف لوٹا تو ايک بار پھر اس کو ناکام رياست کے لقب سے نواز ديا گيا۔
1990کي دہائي ميں جب پاکستان غير ملکي قرضوں کے بوجھ تلے دبي ہوئي معيشت کے باوجود ايٹمي طاقت بنتا ہے تو ناکام رياست کي بازگشت ايک بار پھر ہر طرف گونجنے لگتي ہے۔
11 سمتبر کو امريکا پر حملوں کے بعد پیدا ہونے والے حالات ايک بار پھر پاکستان اور امريکا کي قربت کا باعث بنے۔ اس بار اسلام آباد دہشت گردي کے خلاف جنگ کي مہم کے دوران جنرل ريٹائرڈ پروز مشرف کے دور ميں واشنگٹن کا قريبي ساتھ بن بيٹھا جنہوں نے 1999 ميں جمہوري حکومت کو ہٹا کر اقتدار پر قبضہ کيا تھا۔
2007 ميں سابق صدر پرويز مشرف نے ملک کے چيف جسٹس افتخار محمد چوہدري کو عہدے سے ہٹايا تو ملک بھر ميں ايسا احتجاج شروع ہوا جس کا منطقي انجام چيف جسٹس کي بحالي کي صورت ميں سامنے آيا۔ پيپلز پارٹي کي جلاوطن رہنما اور پيپلز پارٹي کي چيئرپرسن بے نظير بھٹو اور مسلم ليگ نواز کے سربراہ مياں نواز شريف نے تقريباً دس سال کے طويل عرصے کے بعد وطن آکر انتخابات ميں حصہ ليا۔ اب ايک بار پھر پاکستان کے خلاف باتوں کا طوفان امڈ آيا۔ اکتوبر 2007 ميں مشہور ميگزين نيوز ويک نے سر ورق اسٹوري ميں پاکستان کو دنيا کا خطرناک ترين ملک قرار دے ديا۔
کئي دہائيوں سے پاکستان کے ناکام رياست ہونے کے تاثر يا اس کے عدم استحکام کی باتوں کے رجحان سے ظاہر ہوتا ہے کہ ساڑھے سترہ کروڑ عوام کے ملک پاکستان کے بارے ميں دنيا کو نہايت کم معلومات ميسر ہيں۔ اسي ملک کے عوام نے 2007 ميں کسی خون خرابے کے بغیر ايک فوجی آمر کو اقتدار سے نکال باہر کیا اور 1997 کے بعد پہلي بار انتخابات کے ذريعے دائيں بازو کي سخت گير جماعتوں کو يکسر مسترد کرتے ہوئے انصاف کے لئے ايک سيکولر تحريک کا سنگ بنياد رکھا۔ ہميں پاکستان کے بارے ميں ان حقيقتوں سے اس لئے اندھيرے ميں رکھا جاتا ہے کہ پاکستان کو انتہاپسندوں کي جانب سے مسلسل خطرے کا سامنا ہے جس کا اظہار امريکي محکمہ خارجہ بھي کر چکا ہے۔
امريکي ميڈيا کے لوگ اشارہ دے رہے ہيں کہ پاکستان ميں طالبانائزيشن سے نمٹنے ميں ناکامي کو کاميابي ميں بدلنے اور ايٹمي اثاثوں کو شدت پسندوں کے ہاتھ لگنے سے محفوظ رکھنے کيلئے فوج کا اقتدار ميں آنا واحد راستہ ہے۔
پاکستان نہ تو صوماليہ ہے اور نہ ہي سوڈان۔ نہ يہ عراق ہے اور نہ ہي افغانستان۔ پاکستان ایک موثر انتظامي ڈھانچے پر مشتمل جديد رياست ہے جس ميں متحرک ميڈيا پوري آزادي سے کام کر رہا ہے۔ اس کی متحرک اور عالمي سطح کي معيشت ہے جبکہ خطے ميں چين اور ايران جيسے بڑے ملکوں کے ساتھ مستحکم تعلقات استوار ہيں۔ يہ ناکام رياست ہوتا تو عالمي بينک اور آئي ايم ايف کو قرضوں کي واپسي ميں کس طرح کامیاب ہو سکتا تھا۔ نہ صرف يہ بلکہ يہاں پيشہ ورانہ مہارت کي حامل سول بيورو کريسي بھي پوري طرح کام کرنے کي اہل ہے۔ يہ تمام حقائق ناکام رياست کي سوچ کو يکسر مسترد کرتے ہيں۔
پاکستان ميں مذہب کي بنياد پر بننے والي جماعتيں کسي بھي اليکشن ميں دس فيصد سے زيادہ نشستيں حاصل نہیں کر پائیں۔ 1973 کے آئين کے مطابق پاکستان ايک اسلامي رياست ہے، ليکن يہاں مسلمانوں کي اکثريت طالبان کے مکتبہ فکر ديوبندي ازم کے بجائے ديگر مکاتب فکر پر مشتمل ہے۔۔ صوبہ پنجاب ميں لوگ لساني ، فرقہ پرستي ، سياسي اور اقتصادي طور پر سوات کے عوام کے مقابلے ميں بہت مختلف ہيں۔۔۔ پنجاب ميں ايسا طبقہ موجود ہے جو کسي بھي طرح طالبان کي تابعداري کيلئے تيار نہيں ہوسکتا۔۔ سندھ دھرتي کا اپنا مذاج اور رسم و رواج ہيں جبکہ شہري علاقوں ميں طاقتور جماعت ايم کيو ايم نے کسي بھي طور پر طالبان کو تسليم نہيں کيا۔
اگرچہ پاکستان پر طالبان کے قبضے کا کوئي امکان نہيں، ليکن پھر بھر اس کو کئي طرح کے ايسے خطرات نے گھير رکھا ہے جو ہماري توجہ دوسري طرف مبذول کرا سکتے ہيں۔
سابق صدر پرويز مشرف کي پاليسيوں کے باعث 2005 کے بعد سے بلوچستان ميں خانہ جنگي جيسي صورتحال کا سامنا ہے۔ درحقيقت اس صورتحال کا کوئي فوجي حل موجود ہي نہيں ہے۔ دوسري جانب امريکي جاسوس طياروں کے حملوں سے ملک بھر ميں امريکا مخالف جذبات ميں بھي اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ امريکا کے خلاف عوام ميں غم و غصہ فطري بات ہے کيونکہ اگست 2008 کے بعد سے امريکي جاسوس طياروں کے حملوں ميں کم از کم ايک ہزار شہري ہلاک ہو چکے ہيں۔ ڈرون حملوں کے نتیجے میں مذہبي قدامت پسند حلقے يکجا ہو رہے ہيں اور امريکي حملے اُن کی طاقت کا باعث بن رہے ہیں۔
پاکستان پر ”ناکام رياست” کے الزامات نازک جمہوريت پر عدم اطمينان بھي ظاہر کرتے ہيں جو جمہوري حکومت کے مقابلے ميں فوجي اور انتہاپسندوں کے دعوؤں کو تقويت پہنچانے کا باعث بنتے ہيں۔ پاکستاني قوم کي بقاء ماضی میں بھی فوج کے ہاتھوں ميں نہيں رہي اور نہ ہي کبھي ايسا ہو گا۔ پاکستان کے مستقبل کا دارو مدار اُن کروڑوں عوام کے ہاتھوں ميں ہے جو جمہوريت کي بقاء اور کاميابي کي جدوجہد ميں مصروف ہيں۔ پاکستان کو ناکام ریاست بننے سے بچانے کے لئے عوام کے عزم اور طاقت کا دفاع یقینی بنایا ناگزیر اور وقت کی اہم ضرورت بن چکا ہے۔

Comments (0)

Tags: , , , , , , , , , , , , , ,

ملاؤں کو پوري قوت سے جواب دينا ہو گا

Posted on 09 March 2009 by Ibrahim Sajid Malick

گذشتہ منگل کو جب سري لنکا کي کرکٹ ٹيم دوسرے ٹيسٹ کے تيسرے دن کا کھيل کھيلنے کے لئے لاہور کے ہوٹل سے قذافياسٹيڈيمکےلئےچليتوکھلاڑيوںکيآنکھوںميںجيتےکےکئيخوابسجےتھے۔ شاہد انہيں معلوم ہي نہيں تھا کہ اگلے موڑ پر دہشت اُن کا انتظار کر رہي ہے۔ پھر وہ منحوس لمحہ بھي آيا جب درجن بھر دہشت گردوں نے سري لنکا کي کرکٹ ٹيم پر حملہ کر ديا۔ يہ واقعہ اچانک سامنے نہيں آيا بلکہ اس کے پيچھے باقاعدہ تاريخ ہے۔
اس سے پہلے ملاؤں نے جب سائنس کے اداروں پر حملے کئے تو ہم نے نظريں پھير ليں۔
انہوں نے جب ہمارے آرٹ کو تباہ کيا تو ہم خاموش تماشائي بنے رہے۔
جب اسکول جلائے تو بھي ہم کچھ نہ کر سکے۔
جب ہم نے انہيں پوري قوت سے جواب نہيں ديا تو آج اُن کي ہمت اتني ہو گئي ہے کہ انہوں نے ايک مہمان کرکٹ ٹيم پر پاکستان کے مرکزي شہر لاہور ميں سر عام حملہ کر ديا۔
اب مزيد برداشتکي گنچاشنہيں
وقت آ گيا ہے کہ ہم ملاؤں کے اسلام کو قبول کرنے کے بجائے اسلام کي حقيقي روح کو پہچانيں جو امن، محبت اور خلوص کا سبق ديتا ہے۔
اب وقت آ گيا ہے کہ ہم اپني خاموشي توڑيں اور کھل کر دہشت گردوں کا مقابلہ کريں۔
لاہور ميں سري لنکا کي ٹيم پر بارہ دہشت گردوں کا حملہ اس بات کا ثبوت ہے کہ اب دہشت گرد کسي بھي جگہ پہنچ کر کارروائي کر سکتے ہيں۔
آج يہ تمام پاکستانيوں کي ذمہ داري ہے کہ اسلامي انتہا پسندوں کو مکمل طور پر مسترد کر ديں۔
عہدکرنيں کہان انتہا پسندوں،جہاديعناصراورخودکشبمباروںکواپنيزندگياںتباہکرنےکياجازتنہيںديںگے۔
ہم اپنے معاشرے ميں موجود ايسے لوگوں کو اس بات کي اجازت بالکل نہيں ديں گے کہ وہ اپني کمر سے بم باندھ کر کسي بھي مقام پر خود کو دھماکے سے اڑا ليں اور اس کے نتيجے ميں کئي زندگياں ختم کر ديں۔
ہميں اس بات کا وعدہ کرنا ہو گا کہ ہم ايسے لوگوں کو اپني عورتوں کو پردے کے نام پر قيد کرنے کي اجازت بھي ہر گز نہيںديںگے۔
ہميں فيصلہ کرنا ہو گا کہ ہم ان دہشت گرد لوگوں کو اپنا کلچر، سائنس اور انسانيت کو تباہ کر کے اپنے ملک کو کسي ويرانے ميں تبديل کرنے کي اجازت نہيں ديں گے۔
اب وہ وقت بھي نہيں ہے کہ ہم اپني ہر ناکامي کا ذمہ دار غير ملکي ہاتھ پر ڈال ديں اور پھر اپني ذمہ داري سے الگ ہو جائيں۔ ہميں اپني اندروني ناکاميوں کا ذمہ دار کسي اور کو نہيں ٹھہرانا چاہيئے بلکہ حقيقت يہ ہے کہ ايسے عناصر ہمارے اندر ہي موجود ہيں۔
جہادي عناصر کا مقصد کچھ بھي ہو، ليکن سچ يہ ہے کہ وہ ہمارے ملک کے دشمن ہيں۔ چاہے وہ فلسطيني، لبنان، عراقي، ايراني، افغاني يا کشميري عوام کے لئے لڑ رہے ہوں ليکن يہ بات تو طے ہے کہ وہ پاکستان کو نقصان پہنچا رہے ہيں۔
مجھ سميت زيادہ تو لوگوں نے اپني قسمت کا فيصلہ خود کرنا چھوڑ ديا ہے۔ہماپنےہرروزکےمعاملاتميںزبردستيمذہبکولانےکاسلسلہمستردکرنےکےبجائےملاؤںسےڈرتےرہےہيں۔
آج عہدکرنيںکہ اب ہم اپنے معاشرے کے اندر موجود انتہا پسندوں کے سامنے نہيں جھکيں گے۔
ابوقتآگياہےکہہماپنےآئينکودوبارہسےلکھيں۔ہمارےآئينميںلازميطورپردواصولوںکوشاملکياجاناچاہيئے۔ايکتويہکہمختلفمذہبوںاورفرقوںسےتعلقرکھنےوالےتماملوگقانون،آئيناورحکومتکيپاليسيکےسامنےبرابرہوںگے۔دوسرايہکہمذہباوررياستکوايکدوسرےسےالگہيں۔
ہميںاپنےآئينکوموجودہدورکےمطابقبناتےہوئےاسميںتبديليکرنيچاہيئےہماريسوسائٹيکےمعاملوںميںمذہبکوزبردستيداخلکرنےسےروکاجاناچاہيئے۔
آج ہميں اچھي طرح سمجھ لينا چاہيئے کہ جمہوريت کا مطلب صرف لوگوں کو ووٹ کاسٹ کرنے کا حق دينا ہي نہيں بلکہ اس کے اداروں تک لوگوں کو پہنچ بھي دينا ضروريہے۔
دہشتگردوںکےخلافکارروائيکےلئےصرفسيکورٹيکاانتظامبہتربنانےسےکامنہيںچلےگابلکہيہبھيضروريہےکہپاکستانکےعوامکوانصافدياجائے۔
معاشرتي اور معاشي کاميابي کا نتيجہ تمام لوگوں تک پہنچنا چاہيئے۔
ہم نے اس سے پہلے ايک لمبے عرصے تک جن مسئلوں کي طرف توجہ نہيں دي تو آج ہم اس کا نتيجہ بھي ديکھ رہے ہيں،اسيلئےآجضروريہوگياہےکہہماسباتکواچھيطرحسمجھيںکہترقيکےساتھساتھلوگوںکيبھلائيکےکامبھيکئےجائيںاوراسيطريقےسےانتہاپسنديکےمسئلےکاايساحلنکالاجاسکتاہےجولمبےعرصےتککامکرسکے۔
اب وقت آ گيا ہے کہ حکومت لوگوں کو تعليم دے تا کہ اُن کي سوچ اور زندگي گزارنے کا طريقہ تبديل ہو سکے اور وہ کسي بہتر انداز ميں اچھے شہري بن سکيں۔
آج وقت آ گيا ہے کہ اب ہم زبردستي عقيدوں پر عمل کرنے والوں کو مسترد کر ديں۔اپنيزندگياورمعاشرےکودنياکيذمہداريوںکومحسوسکريںاورنبھانےکيکوششکريں۔
وقتآگياہےکہہممسائلحلکرنےکےلئےسائنسيطريقےاختيارکريںاوراسکيبنياديوجہتلاشکريں۔ہميںلوگوںکيشخصيزندگي،اسکيآزادياورذمہداريکااحساسکرناہوگا۔ہميںانسانيقدروںکومحفوظبنانےاوربرداشتکرنےکوفروغديناہوگا۔
ابوقتآگياہےکہہمتشدداورماردھاڑکومستردکرتےہوئےانچيزوںکےخلافاُٹھکھڑےہوںاوراُنکامقابلہکريںتاکہہماپنينئينسلکيزندگياںمحفوظبناسکيں۔

Comments (1)

Tags: , , , ,

يہاں بچے کھيلنے آتے تھے A Poem by Malik Akhtar Rashid

Posted on 09 March 2009 by Ibrahim Sajid Malick

 يہاں بچے کھيلنے آتے تھے

خوش ہوتے شور مچاتے تھے

سہ پہروں اور شاموں کي آوازوں ميں

ہم بھوک اور گرمي بھول کے گانے گاتے تھے

 
يہاں بچے کھيلنے آتے تھے
 

آج يہاں خاموشي ہے بچوں کا کوئي کھيل نہيں

اب کھيل ہے بندوقوں کا

اس کھيل ميں کوئي جيتا نہيں

سب جيتنے والے ہارے ہيں

ظالم کے بھي اوپر ديکھو

ظالم آنے والے ہیں

Comments (0)

Find Work in USA






  • Bookmark and Share