ماضی کی تاریکیوں میں بھولی بسری تہذیبوں کو تلاش کر کے ذہنوں میں کندہ کرنے اور اُن پر فخر کی کئی قابل فہم وجوہات ہو سکتی ہیں۔ اگر یہ تہذیبیں طاقت کا مرکز نہ بھی رہی ہوں تو بھی اُن کا ذکر فخر سے کیا جا سکتا ہے۔ حالات کا رُخ موڑ دینے والی تحریکوں کو قوموں کی تاریخ کا حصہ بنانے میں کوئی بھی کوتاہی ایسی قوم کی نشاندہی کرتی جس کا دھارا صرف تنزلی کی سمت میں بہتا ہے ، لیکن جب انہونی کا آغاز ہوتا ہے اور ملک محض چند افراد کی بے لگام طاقت کے سامنے بے بس ہو جاتا ہے تو یہی تاریخی ورثے قوموں کو نئی توانائی اور زندگی کی تازگی بخشتے ہیں۔
کچھ دن پہلے بھارتی دانشور Mukulika Banerjee کی کتاب کا مطالعہ کرتے ہوئے ذہن کے بند دریچوں میں جھانکا تو یہ سوال آن کھڑا ہوا کہ پاکستانی قوم کس طرح خدائی خدمت گار تحریک کو بھول چکی ہے۔ Mukulika Banerjee اپنی دلچسپ کتاب Unarmed Pathan”” میں ہمیں یاد دلاتی ہیں کہ 1930 سے 1947 کے دوران سترہ سال تک صوبہ سرحد میں عروج پر رہنے والی خدائی خدمت گار تحریک دنیا بھر میں سول نافرمانی کی سب سے بڑی تحریک ہے۔نو آبادیاتی دور کے خلاف یہ تحریک اپنے وقت کی ثقافت کو یکجا کرتے ہوئے بالکل نئے نظریئے سے شروع ہوئی اور پروان چڑھی۔
تحریک کے غیر مسلح ارکان پشتون قوم کا وقار اور حوصلہ لے کر دشمن کی مسلح فوجوں کے خلاف میدان عمل میں نکلے .آج ”پٹھان” یا ”صوبہ سرحد” کا لفظ سامنے آتے ہی ہمارے ذہن میں ایک مذہبی جنونی شخص کا تصور ابھرتا ہے، لیکن انہی گاؤں اور پہاڑوں میں چند دہائیاں پہلے سول نافرمانی کی تحریک پورے عروج پر تھی۔ اُس وقت بھی آج ہی کی طرح وسطی ایشیاء پر تسلط کے لئے برطانیہ اور روس کے درمیان محاز آرائی جاری تھی، لیکن اسی قوم نے ان دونوں طاقتوں کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دیا۔
حکومت کی جانب سے تعلیم، صحت اور دیگر فلاحی کاموں میں عدم دلچسپی کے باعث خان عبدالغفار خان اور اُن کے ساتھیوں نے معاشرے کے اندر اصلاحات کی بنیاد رکھی۔ انہوں نے گاؤں گاؤں میں صفائی مہم شروع کی، پرائمری تک تعلیم کے لئے آزاد اسکول قائم کئے ۔ ان کاموں کی وجہ سے خدائی خدمت گاروں کو کافر کا لقب دیا گیا۔ انہیں ہندو ثابت کرنے کے لئے مختلف الزام لگائےگئے اور بچوں کو تعلیم دلانے پر کہا گیا کہ وہ جہنم کی آگ میں جلیں گے، لیکن اس کے ارکان اپنے موقف پر ثابت قدمی سے جمے رہے۔
تحریک کی قیادت نے دوسروں کے لئے بھی مثال قائم کی اور باچا خان کا اپنا بیٹا بھی آزاد اسکول میں تعلیم حاصل کرنے لگا۔ خود باچا خان ہر روز میلوں سفر طے کر کے لوگوں کو تحریک کی موقف پر قائل کرتے تھے۔ وہ کفایت شعاری پر مبنی کھانا کھاتے اور کھانے کے وقت اپنے ساتھ کسی کو لازمی طور پر شریک کر لیا کرتے۔ آج کی دنیا میں ایسے انسان دوست کاموں کی مثال کم ہی ملتی ہے، لیکن اسی وجہ سے پٹھان قوم نے ہزاروں کی تعداد میں اس تحریک میں شمولیت اختیار کی اور 1990 کی دہائی تک اس کے نقوش ذہنوں پر چھائے رہے اور لوگ اپنے بچوں کو اُس سحر انگیز شخصیت کی باتیں سناتے تھے ۔
باچا خان کا لباس فقیروں جیسا لیکن دل بادشاہوں جیسا تھا۔ یہی وہ شخص تھا جس نے نہایت سادہ کاموں کے ذریعے معاشرے میں تبدیلی لانے کا عمل اپنے ہاتھوں میں لے کر پشتون قوم کو اُس کی عزت نفس واپس دلائی جس کے نتیجے میں لوگوں کو بنیادی تعلیم اور صحت کی سہولتیں مل سکیں۔
آج جب صوبہ سرحد اور اس کے دیگر علاقے مذہبی دہشت گردوںکے قبضے میں ہیں تو یہ سوچنا پشتون قوم کی ذمہ داری ہے کہ ایسے عناصر کے ایجنڈے کے ذریعے مقامی لوگوں کی بنیادی اور انسانی ضروریات کی تکمیل کس حد تک ہو سکتی ہے؟ کیا یہ لوگ اُن کے بچوں کے لئے تعلیم، صحت اور اُن کے گاؤں کے لئے خوشحالی کا کوئی پیغام لا سکتے ہیں؟
خدائی خدمت گاروں نے اپنے عمل سے ثابت کیا کہ اللہ تعالیٰ کی رضا اور اُس ذات اقدس کو راضی کرنے کا سب سے بہترین طریقہ خدمت خلق ہے۔ بندہ اپنے نفس پر قابو پا کر جہاد اکبر کے ذریعے اسلام کی حقیقی روح کو پہچان سکتا ہے اور نفس کا جہاد کسی بھی مسلح جدوجہد سے کہیں زیادہ معتبر ہے۔
آج بہت سے قابل عزت اور بہادر پٹھان ہم میں موجود نہیں رہے جن کی سنائی ہوئی کہانیوں سے اُس دور کے کارنامے اور تہذیب و تمدن کی عظیم یادگار جھلکتی تھی اور ہم نے اپنی کتابوں سے یہ کہانی ختم کر دی ہے جس کا نقصان ہمیں ہو رہا ہے۔ آج یہ ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم اُس تحریک کو مشعل راہ بنا کر مستقبل کے بارے میں غور کریں اور ماضی کے حالات سے سبق سیکھ کر منزل تک پہنچنے کے لئے راستے کا تعین کریں۔






