میجر ندال ملک کی حماقت، جہالت اور جہادیت پر جب میں نے اپنے بلاگ پر مضمون لکھا تو امید نہیں تھی کہ اتنی جلدی اُس کے حمایتی سامنے آ جائیں گے۔ ایسی امید نہ رکھنا درحقیقت میری خوش فہمی تھی۔ ہمارا معاشرہ تنگ نظری کی اُیسی گہرائیوں میں ڈوب چکا ہے جہاں بصیرت کی روشنی نہیں پہنچ پاتی۔ آپ اپنے ملک کے کسی نوجوان سے پوچھیں گے کہ آپ سبط حسن کو جانتے ہیں تو نوے فیصد نے نام بھی نہیں سنا ہو گا۔ اگر آپ اُنہیں ‘‘موسی سے مارکس’’ تک کا حوالہ دیں گے تو جواب ملے گا کہ آپ سید قطب شہید کی کتاب‘‘ معرکہ اسلام اور سرمایہ داری’’ پڑھ لیں، اس میں بھی سامراج کی سازش اور سرمایہ دارانہ نظام پر تنقید ملے گی۔ اور یہ ہے ہمارے ملک میں رجعت پسندی کی معراج۔ امید ہے کہ آپ اس سے اتفاق کریں گے کہ رجعت پسندی سائنسی علوم کی دشمن ہے اور جیسے جیسے سید قطب جیسے لوگ ہمارے ملک کے ‘‘اسکالرز’’ گردانتے جائیں گے، ہمارا معاشرہ اُتنا ہی تاریک ہوتا جائے گا کہ روشنی صرف خودکش حملہ آوروں کے جسم میں لگے بم کے پھٹنے سے ہی ہوا کرے گی۔
مجھے حیرت ہے کہ بظاہر پڑھے لکھے نوجوان جنہوں نے سطحی تعلیم حاصل کر کے، مغربی لباس پہن کر، انگریزی موسیقی اور ایم ٹی وی پر میوزک ویڈیو بھی دیکھے ہیں، لیکن بخدا اس ظاہری ڈارمے کے نیچے میں ایسے بدشکل بنیاد پرست نکلتے ہیں کہ اُن سے کوفت ہونے لگتی ہے۔ امریکا کے خلاف ایسی تقریریں کرتے ہیں کہ جسیے Chavez ہوں۔ سامراج دشمنی جیسے انہی اللہ کے پیاروں نے شروع کی تھی اور سرمایہ دارانہ نظام تو انہیں جچتا ہی نہیں۔ ان سے پوچھوں کہ بچو۔ جب 1990 میں امریکا ایران پر حاوی ہوا تھا تو آپ کہاں تھے؟ جب 1980 میں افغانستان پر حملے کر رہا تھا تو آپ کہاں تھے؟ اُس وقت تہمارا سب سے بڑا دشمن سوشلزم کیوں تھا؟ اسلام کے ان جیالوں کی امریکی نفرت کی بنیاد نہ تو قومی ہے اور نہ ہی انسانی ہمدردی اور انصاف۔ یہ سب تشخص کا مسئلہ ہے۔ ہمارے ملک کی شناخت صرف اسلام سے ہوتی ہے اور جدیدیت اس یک سطحی شناخت کی توڑ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ غلبہ اسلام کی تحریک کے مفکرین کے لئے یہ کافی نہیں کہ پاکستان ایک اسلامی ملک ہے بلکہ وہ یہ سوچتے ہیں کہ اسلام کو عمل کرنے کے لئے اقتدار ملنا ناگزیر ہے۔ اُن کا کہنا ہے کہ یہ دین عبادت گاہوں اور حجروں میں بند یا صرف دلوں اور ضمیروں میں جاگزیں رہنے کے لئے نہیں آیا بلکہ اس کا مقصد یہ ہے کہ زندگیوں پر حکم چلائے اور اُن کا رخ موڑے۔ زندگی سے متعلق اپنے نظریات کے موافق معاشرہ قائم کرے جس کے لئے وعظ اور اشاروں بلکہ قانون سازی سے بھی مدد لی جائے۔ مولانا قطب کا دعویٰ ہے کہ اسلام کا اقتدار نہایت ضروری ہے ورنہ اسلام مسائل کو درست انداز میں حل نہیں کر سکتا اور غلبہ اسلام کی یہ تحریک ہماری نئی نسل کے معصوم ذہنوں میں کوٹ کرٹ کر بھر دی گئی ہے۔
آج امریکا کی دشمنی کرنے والے یہ تو بتائیں کہ اُن کا ضمیر اُس وقت کہاں سو رہا تھا جب مصدق اور سوئیکارنو کے تختے الٹے گئے اور امریکا نے ویتنام پر 25 سال جنگ برپا کئے رکھی؟ آپ براہ کرم یہ نہ سمجھیں کہ میں امریکا کے ظلم کی حمایت یا کوریسٹ امریکا کی حفاظت کرتا ہوں۔ میری التجا صرف اتنی سی ہے کہ امریکا دشمنی ہمیشہ سامراج دشمنی نہیں ہوتی۔
ایران میں ترقی پسند قوتیں بیوقوف بن گئی تھیں۔ اُن کا خیال تھا کہ ملاؤں کے ساتھ مل کر انقلاب برپا کریں گی اور بعد میں حالات قابو میں آجائیں گے، لیکن ایسا نہ ہو سکا اور اب یہ عالم ہے کہ وہاں جددیت اور ترقی پسندی کے نام لینے والوں کی زبانیں تک کھینچ لی جاتی ہیں۔ تو میرے لبرل اور ترقی پسند بھائیو اور بہنو: اس سے پہلے کہ ملاؤں کی بحث تمہیں قائل کرے، لاحول پڑھ کر سیدھے راستے پر نکل آؤ۔ جہاں انصاف ہر ایک کا حق ہے۔ جہاں مظلوم کی حمایت میں کھڑے ہونے سے پہلے اُس کا مذہب دریافت نہیں کیا جاتا، جہاں کسی کو اپنے عقیدے پر تکبر نہیں۔ جہاں کوئی مذہب، کوئی فرقہ، کوئی سائنس اور طرز حکومت اپنے آخری اور ابدی ہونے دعویٰ نہ کرے۔ جہاں لوگوں کو بدلتے وقت کا ادراک ہو۔ میرے بھائیو اور بہنو، ہزار سال سے زائد کا عرصہ گزر چکا ہے، آج کی دنیا میں عربی حملہ آوروں نے فتح پا کر خلافت نہیں جمائی۔ اپنی سوچوں کو ساقی میں منجمند نہ رکھو۔ صدیوں سے خود پسندی اور فخر کے جس غار میں آپ بند ہیں وہ اب پہاڑوں کی حرکت سے گر رہا ہے۔ اگر آپ اس سے باہر نہیں نکلے تو ہمیشہ کے لئے اسی میں دن ہو جائیں گے۔ آپ غازی ہیں تو علم کی جیت کی خواہش کریں، شاہین ہیں تو سائنس کے افکار میں پرواز کریں۔ ہمیں خودکش بمبار نہیں بلکہ بے لوث مجاہدوں کی ضرورت ہے جو گاؤں گاؤں جا کر علم پھیلائیں۔ ہمیں ایسے جیالوں کی ضرورت ہے جو علم کے لئے آواز بلند کر سکیں۔ مجھے اپنی بہنوں کی ضرورت ہے جو ہماری قیادت کر سکیں۔
ختم






