<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss version="2.0"
	xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"
	xmlns:wfw="http://wellformedweb.org/CommentAPI/"
	xmlns:dc="http://purl.org/dc/elements/1.1/"
	xmlns:atom="http://www.w3.org/2005/Atom"
	xmlns:sy="http://purl.org/rss/1.0/modules/syndication/"
	xmlns:slash="http://purl.org/rss/1.0/modules/slash/"
	>

<channel>
	<title>Perspicacity &#187; imperialism</title>
	<atom:link href="http://ibrahimsajidmalick.com/tag/imperialism/feed/" rel="self" type="application/rss+xml" />
	<link>http://ibrahimsajidmalick.com</link>
	<description>Technology, Politics and Economy</description>
	<lastBuildDate>Sat, 21 Apr 2012 23:42:47 +0000</lastBuildDate>
	<language>en</language>
	<sy:updatePeriod>hourly</sy:updatePeriod>
	<sy:updateFrequency>1</sy:updateFrequency>
	<generator>http://wordpress.org/?v=3.3.2</generator>
		<item>
		<title>حسن نا صر کسی تعارف کا محتاج نہیں</title>
		<link>http://ibrahimsajidmalick.com/%d8%ad%d8%b3%d9%86-%d9%86%d8%a7-%d8%b5%d8%b1-%da%a9%d8%b3%db%8c-%d8%aa%d8%b9%d8%a7%d8%b1%d9%81-%da%a9%d8%a7-%d9%85%d8%ad%d8%aa%d8%a7%d8%ac-%d9%86%db%81%db%8c%da%ba/376/</link>
		<comments>http://ibrahimsajidmalick.com/%d8%ad%d8%b3%d9%86-%d9%86%d8%a7-%d8%b5%d8%b1-%da%a9%d8%b3%db%8c-%d8%aa%d8%b9%d8%a7%d8%b1%d9%81-%da%a9%d8%a7-%d9%85%d8%ad%d8%aa%d8%a7%d8%ac-%d9%86%db%81%db%8c%da%ba/376/#comments</comments>
		<pubDate>Sat, 14 Nov 2009 05:00:43 +0000</pubDate>
		<dc:creator>Ibrahim Sajid Malick</dc:creator>
				<category><![CDATA[Articles]]></category>
		<category><![CDATA[Communist Party of Pakistan]]></category>
		<category><![CDATA[Hassan Nasir]]></category>
		<category><![CDATA[imperialism]]></category>
		<category><![CDATA[pakistan]]></category>
		<category><![CDATA[Pakistan independence]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://ibrahimsajidmalick.com/?p=376</guid>
		<description><![CDATA[Hassan Nasir was tortured to death on November 13th. Today we remember this great leader of Pakistan. This article was published in Awami Jadoojahad in November 1993 by Asim Ali Shah.]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p><img class="aligncenter size-full wp-image-374" title="hassan nasir articl side 1" src="http://ibrahimsajidmalick.com/wp-content/uploads/2009/11/hassan-nasir-articl-side-1.jpg" alt="hassan nasir articl side 1" width="482" height="604" /></p>
<p><img class="aligncenter size-full wp-image-375" title="hassan nasir articl side 2" src="http://ibrahimsajidmalick.com/wp-content/uploads/2009/11/hassan-nasir-articl-side-2.jpg" alt="hassan nasir articl side 2" width="463" height="604" /></p>
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://ibrahimsajidmalick.com/%d8%ad%d8%b3%d9%86-%d9%86%d8%a7-%d8%b5%d8%b1-%da%a9%d8%b3%db%8c-%d8%aa%d8%b9%d8%a7%d8%b1%d9%81-%da%a9%d8%a7-%d9%85%d8%ad%d8%aa%d8%a7%d8%ac-%d9%86%db%81%db%8c%da%ba/376/feed/</wfw:commentRss>
		<slash:comments>1</slash:comments>
		</item>
		<item>
		<title>تنگ نظری کی تاریکی میں ڈوبا ہوا معاشرہ</title>
		<link>http://ibrahimsajidmalick.com/%d8%aa%d9%86%da%af-%d9%86%d8%b8%d8%b1%db%8c-%da%a9%db%8c-%d8%aa%d8%a7%d8%b1%db%8c%da%a9%db%8c-%d9%85%db%8c%da%ba-%da%88%d9%88%d8%a8%d8%a7-%db%81%d9%88%d8%a7-%d9%85%d8%b9%d8%a7%d8%b4%d8%b1%db%81/355/</link>
		<comments>http://ibrahimsajidmalick.com/%d8%aa%d9%86%da%af-%d9%86%d8%b8%d8%b1%db%8c-%da%a9%db%8c-%d8%aa%d8%a7%d8%b1%db%8c%da%a9%db%8c-%d9%85%db%8c%da%ba-%da%88%d9%88%d8%a8%d8%a7-%db%81%d9%88%d8%a7-%d9%85%d8%b9%d8%a7%d8%b4%d8%b1%db%81/355/#comments</comments>
		<pubDate>Thu, 12 Nov 2009 17:46:54 +0000</pubDate>
		<dc:creator>Ibrahim Sajid Malick</dc:creator>
				<category><![CDATA[Uncategorized]]></category>
		<category><![CDATA[fundamentalists]]></category>
		<category><![CDATA[imperialism]]></category>
		<category><![CDATA[islam]]></category>
		<category><![CDATA[Major Nidal Malik Hassan]]></category>
		<category><![CDATA[pakistan]]></category>
		<category><![CDATA[USA]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://ibrahimsajidmalick.com/?p=355</guid>
		<description><![CDATA[ اسلام کے ان جیالوں کی امریکی نفرت کی بنیاد نہ تو قومی ہے اور نہ ہی انسانی ہمدردی اور انصاف۔ یہ سب تشخص کا مسئلہ ہے۔ ہمارے ملک کی شناخت صرف اسلام سے ہوتی ہے اور جدیدیت اس یک سطحی شناخت کی توڑ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ غلبہ اسلام کی تحریک کے مفکرین کے لئے یہ کافی نہیں کہ پاکستان ایک اسلامی ملک ہے بلکہ وہ یہ سوچتے ہیں کہ اسلام کو عمل کرنے کے لئے اقتدار ملنا ناگزیر ہے۔]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p align="right"><strong> </strong></p>
<p align="right"><strong>میجر ندال ملک کی حماقت، جہالت اور جہادیت پر جب میں نے اپنے بلاگ پر مضمون لکھا تو امید نہیں تھی کہ اتنی جلدی اُس کے حمایتی سامنے آ جائیں گے۔ ایسی امید نہ رکھنا درحقیقت میری خوش فہمی تھی۔ ہمارا معاشرہ تنگ نظری کی اُیسی گہرائیوں میں ڈوب چکا ہے جہاں بصیرت کی روشنی نہیں پہنچ پاتی۔ آپ اپنے ملک کے کسی نوجوان سے پوچھیں گے کہ آپ سبط حسن کو جانتے ہیں تو نوے فیصد نے نام بھی نہیں سنا ہو گا۔ اگر آپ اُنہیں ‘‘موسی سے مارکس’’ تک کا حوالہ دیں گے تو جواب ملے گا کہ آپ سید قطب شہید کی کتاب‘‘ معرکہ اسلام اور سرمایہ داری’’ پڑھ  لیں، اس میں بھی سامراج کی سازش اور سرمایہ دارانہ نظام پر تنقید ملے گی۔ اور یہ ہے ہمارے ملک میں رجعت پسندی کی معراج۔ امید ہے کہ آپ اس سے اتفاق کریں گے کہ رجعت پسندی سائنسی علوم کی دشمن ہے اور جیسے جیسے سید قطب جیسے لوگ ہمارے ملک  کے ‘‘اسکالرز’’ گردانتے جائیں گے، ہمارا معاشرہ اُتنا ہی تاریک ہوتا جائے گا کہ روشنی صرف خودکش حملہ آوروں کے جسم میں لگے بم کے پھٹنے سے ہی ہوا کرے گی۔</strong></p>
<p dir="rtl"><strong>مجھے حیرت ہے کہ بظاہر پڑھے لکھے نوجوان جنہوں نے سطحی تعلیم حاصل کر کے، مغربی لباس پہن کر، انگریزی موسیقی اور ایم ٹی وی پر میوزک ویڈیو بھی دیکھے ہیں، لیکن بخدا اس ظاہری ڈارمے کے نیچے میں ایسے بدشکل بنیاد پرست نکلتے ہیں کہ اُن سے کوفت ہونے لگتی ہے۔ امریکا کے خلاف ایسی تقریریں کرتے ہیں کہ جسیے Chavez ہوں۔ سامراج دشمنی جیسے انہی اللہ کے پیاروں نے شروع کی تھی اور سرمایہ دارانہ نظام تو انہیں جچتا ہی نہیں۔ ان سے پوچھوں کہ بچو۔ جب 1990 میں امریکا ایران پر حاوی ہوا تھا تو آپ کہاں تھے؟ جب 1980 میں افغانستان پر حملے کر رہا تھا تو آپ کہاں تھے؟ اُس وقت تہمارا سب سے بڑا دشمن سوشلزم کیوں تھا؟ اسلام کے ان جیالوں کی امریکی نفرت کی بنیاد نہ تو قومی ہے اور نہ ہی انسانی ہمدردی اور انصاف۔ یہ سب تشخص کا مسئلہ ہے۔ ہمارے ملک کی شناخت صرف اسلام سے ہوتی ہے اور جدیدیت اس یک سطحی شناخت کی توڑ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ غلبہ اسلام کی تحریک کے مفکرین کے لئے یہ کافی نہیں کہ پاکستان ایک اسلامی ملک ہے بلکہ وہ یہ سوچتے ہیں کہ اسلام کو عمل کرنے کے لئے اقتدار ملنا ناگزیر ہے۔ اُن کا کہنا ہے کہ یہ دین عبادت گاہوں اور حجروں میں بند یا صرف دلوں اور ضمیروں میں جاگزیں رہنے کے لئے نہیں آیا بلکہ اس کا مقصد یہ ہے کہ زندگیوں پر حکم چلائے اور اُن کا رخ موڑے۔ زندگی سے متعلق اپنے نظریات کے موافق معاشرہ قائم کرے جس کے لئے وعظ اور اشاروں بلکہ قانون سازی سے بھی مدد لی جائے۔ مولانا قطب کا دعویٰ ہے کہ اسلام کا اقتدار نہایت ضروری ہے ورنہ اسلام مسائل کو درست انداز میں حل نہیں کر سکتا اور غلبہ اسلام کی یہ تحریک ہماری نئی نسل کے معصوم ذہنوں میں کوٹ کرٹ کر بھر دی گئی ہے۔</strong></p>
<p align="right"><strong>آج امریکا کی دشمنی کرنے والے یہ تو بتائیں کہ اُن کا ضمیر اُس وقت کہاں سو رہا تھا جب مصدق اور سوئیکارنو کے تختے الٹے گئے اور امریکا نے ویتنام پر 25 سال جنگ برپا کئے رکھی؟ آپ براہ کرم یہ نہ سمجھیں کہ میں امریکا کے ظلم کی حمایت یا کوریسٹ امریکا کی حفاظت کرتا ہوں۔ میری التجا صرف اتنی سی ہے کہ امریکا دشمنی ہمیشہ سامراج دشمنی نہیں ہوتی۔</strong></p>
<p align="right"><strong>ایران میں ترقی پسند قوتیں بیوقوف بن گئی تھیں۔ اُن کا خیال تھا کہ ملاؤں کے ساتھ مل کر انقلاب برپا کریں گی اور بعد میں حالات قابو میں آجائیں گے، لیکن ایسا نہ ہو سکا اور اب یہ عالم ہے کہ وہاں جددیت اور ترقی پسندی کے نام لینے والوں کی زبانیں تک کھینچ لی جاتی ہیں۔ تو میرے لبرل اور ترقی پسند بھائیو اور بہنو: اس سے پہلے کہ ملاؤں کی بحث تمہیں قائل کرے، لاحول پڑھ کر سیدھے راستے پر نکل آؤ۔ جہاں انصاف ہر ایک کا حق ہے۔ جہاں مظلوم کی حمایت میں کھڑے ہونے سے پہلے اُس کا مذہب دریافت نہیں کیا جاتا، جہاں کسی کو اپنے عقیدے پر تکبر نہیں۔ جہاں کوئی مذہب، کوئی فرقہ، کوئی سائنس اور طرز حکومت اپنے آخری اور ابدی ہونے دعویٰ نہ کرے۔ جہاں لوگوں کو بدلتے وقت کا ادراک ہو۔ میرے بھائیو اور بہنو، ہزار سال سے زائد کا عرصہ گزر چکا ہے، آج کی دنیا میں عربی حملہ آوروں نے فتح پا کر خلافت نہیں جمائی۔ اپنی سوچوں کو ساقی میں منجمند نہ رکھو۔ صدیوں سے خود پسندی  اور فخر کے جس غار میں آپ بند ہیں وہ اب پہاڑوں کی حرکت سے گر رہا ہے۔ اگر آپ اس سے باہر نہیں نکلے تو ہمیشہ کے لئے اسی میں دن ہو جائیں گے۔ آپ غازی ہیں تو علم کی جیت کی خواہش کریں، شاہین ہیں تو سائنس کے افکار میں پرواز کریں۔ ہمیں خودکش بمبار نہیں بلکہ بے لوث مجاہدوں کی ضرورت ہے جو گاؤں گاؤں جا کر علم پھیلائیں۔ ہمیں ایسے جیالوں کی ضرورت ہے جو علم کے لئے آواز بلند کر سکیں۔ مجھے اپنی بہنوں کی ضرورت ہے جو ہماری قیادت کر سکیں۔</strong></p>
<p align="right"><strong> </strong></p>
<p align="right">ختم   </p>
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://ibrahimsajidmalick.com/%d8%aa%d9%86%da%af-%d9%86%d8%b8%d8%b1%db%8c-%da%a9%db%8c-%d8%aa%d8%a7%d8%b1%db%8c%da%a9%db%8c-%d9%85%db%8c%da%ba-%da%88%d9%88%d8%a8%d8%a7-%db%81%d9%88%d8%a7-%d9%85%d8%b9%d8%a7%d8%b4%d8%b1%db%81/355/feed/</wfw:commentRss>
		<slash:comments>24</slash:comments>
		</item>
		<item>
		<title>ہیں کواکب کچھ، نظر آتے ہیں کچھ</title>
		<link>http://ibrahimsajidmalick.com/%db%81%db%8c%da%ba-%da%a9%d9%88%d8%a7%da%a9%d8%a8-%da%a9%da%86%da%be%d8%8c-%d9%86%d8%b8%d8%b1-%d8%a2%d8%aa%db%92-%db%81%db%8c%da%ba-%da%a9%da%86%da%be/302/</link>
		<comments>http://ibrahimsajidmalick.com/%db%81%db%8c%da%ba-%da%a9%d9%88%d8%a7%da%a9%d8%a8-%da%a9%da%86%da%be%d8%8c-%d9%86%d8%b8%d8%b1-%d8%a2%d8%aa%db%92-%db%81%db%8c%da%ba-%da%a9%da%86%da%be/302/#comments</comments>
		<pubDate>Sun, 04 Oct 2009 22:21:42 +0000</pubDate>
		<dc:creator>Ibrahim Sajid Malick</dc:creator>
				<category><![CDATA[Uncategorized]]></category>
		<category><![CDATA[America]]></category>
		<category><![CDATA[China]]></category>
		<category><![CDATA[gas pipeline]]></category>
		<category><![CDATA[imperialism]]></category>
		<category><![CDATA[India]]></category>
		<category><![CDATA[ipi]]></category>
		<category><![CDATA[iran]]></category>
		<category><![CDATA[Noam Chomsky]]></category>
		<category><![CDATA[pakistan]]></category>
		<category><![CDATA[USA]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://ibrahimsajidmalick.com/?p=302</guid>
		<description><![CDATA[لیکن یہ دیکھ کر  حیرت کی انتہا نہ رہی کہ پاکستان کے نجی ٹی وی چینل ‘‘آج’’ کا نمائندہ پہلے سے وہاں موجود تھا۔ یقینی طور پر وہ بھی بہت سے پیچیدہ اور الجھے ہوئے سوالوں کے جواب تلاش کرنے آیا ہو گا، لیکن میرے لئے بہرحال یہ ایک خوشگوار حیرت تھی کہ کوئی دوسرا پاکستانی صحافی بھی Noam Chomsky کے خیالات پاکستان کے عوام تک پہنچانے کی کوشش کر رہا ہے]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p dir="rtl">دنیا بھر میں Noam Chomsky کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ہے۔  اُن کی وجہ شہرت امریکا کی خارجہ پالیسیوں کو تنقید کا نشانہ بنانا ہے۔ یہ کام وہ آج سے نہیں بلکہ انیس سو ساٹھ کی دہائی میں ویتنام جنگ سے کر رہے ہیں۔ وہ متعدد کتابوں کے مصنف بھی ہیں۔</p>
<p dir="rtl">اس بار میں اُن سے ملاقات کے لئے پہنچا تو ذہن میں دو سوال تھے۔ ایک یہ کہ عالمی سطح پر بھارت کی خارجہ پالیسی کیا ہے اور دوسرا امریکا کے جنوبی ایشیاء میں کیا مقاصد ہیں؟۔ دل میں خوش تھا کہ اس بار بھی میں اُن سے انٹرویو کرنے والا پہلا پاکستانی صحافی ہوں گا، لیکن یہ دیکھ کر  حیرت کی انتہا نہ رہی کہ پاکستان کے نجی ٹی وی چینل ‘‘آج’’ کا نمائندہ پہلے سے وہاں موجود تھا۔ یقینی طور پر وہ بھی بہت سے پیچیدہ اور الجھے ہوئے سوالوں کے جواب تلاش کرنے آیا ہو گا، لیکن میرے لئے بہرحال یہ ایک خوشگوار حیرت تھی کہ کوئی دوسرا پاکستانی صحافی بھی Noam Chomsky کے خیالات پاکستان کے عوام تک پہنچانے کی کوشش کر رہا ہے۔</p>
<p dir="rtl">Noam Chomsky نے میرے سوال تحمل سے سنے اور نہایت دھیمے، لیکن مدلل انداز میں جواب دینا شروع کیے۔ بھارت کی پیچیدہ خارجہ پالیسی کے بارے میں Noam Chomsky نے تمہید باندھے بغیر کہا کہ بھارت پیچیدہ جنگ لڑ رہا ہے۔ ایک طرف چین سے اُس کے تعلقات استوار ہیں تو دوسری طرف تنازعات بھی چھیڑ رکھے ہیں، یہ تو مبہم بات ہے۔ کہنے لگے کہ بھارت نے ایران سے بھی تعلقات قائم رکھے ہوئے ہیں جبکہ یہ بات امریکا کو پسند نہیں ہے۔ اسی وجہ سے بھارت پاک ایران گیس پائپ لائن سے تو پیچھے ہٹ گیا ہے، لیکن اپنے مقاصد کے پیچھے اب بھی بھاگ رہا ہے۔ امریکا دیکھ رہا ہے کہ بھارت کیا کر رہا ہے۔ اُس کی نظریں ایران کی جانب سے ایٹمی ہتھیاروں کے حصول کی کوششوں پر بھی ہیں۔ آپ دیکھتے ہیں کہ ایسی خبریں روزانہ اخبارات کے پہلے صفحہ کی زینت بنتی ہیں۔ کبھی اُس کے نئے ایٹمی پلانٹ کا ذکر سامنے آجاتا ہے اور کبھی میزائلوں کا۔ یہ سوال بھی زیر بحث ہے کہ آیا وہ امریکا اور یورپ پر حملے کی صلاحیت رکھتا ہے یا نہیں۔ تو اس وقت ہماری تمام توجہ ایران کی ایٹمی سرگرمیوں پر ہے۔ اسی سلسلے میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے قرارداد بھی منظور کی ہے جس کا خصوصی ہدف ایران ہی تھا، لیکن آپ یہ دیکھیں کہ عین قرارداد کی منظوری کے وقت بھارت نے سرعام اعلان کیا وہ این پی ٹی پر دستخط نہیں کرے گا۔ وہ کہتا ہے کہ اُس کے پاس 2004 ٹن ایٹمی ہتھیار ہیں اور یہ امریکا اور روس کی جدید ترین جوہری صلاحیت کے برابر ہے۔ ابھی چند دن پہلے ہی آئی اے ای اے نے اپنی قرارداد میں اسرائیل سے کہا ہے وہ ایٹمی ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ کی کوششوں میں معاونت کرے اور اپنی تنصیبات کے معائنے کی اجازت دے۔ امریکا اور یورپ نے یہ قرارداد رکوانے کی کوشش کی اور ناکامی پر اس کی مخالفت میں ووٹ دیا۔ خود اسرائیل نے بھی یہ قرارداد مسترد کر دی ہے۔</p>
<p dir="rtl">اپنی بات جاری رکھتے ہوئے Noam Chomsky  مزید کہنے لگے کہ اگر بھارت پہلے سے موجود اہم ایٹمی پروگرام کو توسیع دیتا ہے تو پاکستان بھی ایسا ہی کرے گا۔ ماضی میں یہ دونوں ملک دو بار ایٹمی جنگ کے قریب پہنچ چکے ہیں۔ دراصل دنیا میں تین ملکوں نے کبھی این پی ٹی پر دستخط نہیں کئے۔ اُن میں بھارت، پاکستان اور اسرائیل شامل ہیں۔ ان تینوں نے ایسا امریکا کی حمایت سے ہی کیا ہے۔ اسرائیل کو تو امریکا کی کھلی حمایت حاصل ہے۔ پاکستان کو امریکی صدر ریگن کے زمانے کی حمایت حاصل رہی جب وہاں ضیاء الحق امریکی انتظامیہ کا فیورٹ ڈکٹیٹر تھا، لیکن وہ ہتھیار تو بنا رہا تھا۔ بھارت نے ایک سال پہلے ہی امریکا سے ایٹمی شعبے میں تعاون کا معاہدہ کیا ہے۔ بظاہر تو اس کے الفاظ یہ ہیں کہ امریکا ایٹمی آپریشنل انرجی میں بھارت کی مدد کرے گا، لیکن حتمی طور پر یہ سب تو ایٹمی ہتھیاروں میں ہی بدل جائے گا۔ وہ یہاں Noam Chomsky کچھ دیر کو رکے اور اگلے ہی لمحے کہنے لگے ‘‘حقیقت میں اقوام متحدہ کی قرارداد صرف ایران کے خلاف ہی نہیں بلکہ ان تنیوں ملکوں کے خلاف بھی ہے جنہوں نے این پی ٹی پر دستخط نہیں کئے’’۔</p>
<p dir="rtl">وہ کہتے ہیں کہ سلامتی کونسل کی قرارداد تمام ملکوں پر زور دیتی ہے کہ وہ طاقت کے استعمال کی دھمکیاں نہ دیں۔ انہوں نے میری طرف دیکھتے ہوئے سوال کیا کہ طاقت کے استعمال کی دھمکیاں کون دے رہا ہے؟۔ پھر خود ہی کہنے لگے کہ ایسا تو امریکا اور اسرائیل ہی کر رہے ہیں ناں۔ تو یہ قرارداد بذات خود امریکا،ا بھارت، اسرائیل اور کسی حد تک پاکستان کے خلاف ہے۔</p>
<p dir="rtl">Noam Chomsky بحث کو مزید وسیع کرتے ہوئے یورپ میں امریکی میزائل ڈیفینس سسٹم کی تنصیب سے پیدا ہونے والے تنازع کی طرف لے گئے۔ کہنے لگے کہ یورپ میں امریکا کی جانب سے میزائل سسٹم نصب کرنے کا جو تنازع پیدا ہوا ہے، دراصل اُس کا محور بھی ایک ہی یعنی ممکنہ ایرانی حملے کا دفاع کرنا ہے۔ کیا کسی نے اس بات پر سنجیدگی سے غور کیا ہے کہ ایران کی جانب سے امریکا اور یورپ پر حملہ اُس کے لئے کس قدر تباہ کن ثابت ہو گا۔ اُس کے لئے تو یہ خودکشی کے برابر ہو گا۔ دراصل یہ دفاع کے لئے تیار کردہ میزائل نظام نہیں بلکہ پیشگی حملہ کرنے کا مہلک ہتھیار ہے۔ کوئی بھی میزائل نظام پیشگی حملے کا سسٹم ہی ہوتا ہے۔ دوسرا یہ کہ یہ امریکا اور اسرائیل کی جانب سے طاقت کے استعمال کی دھمکیوں کو توسیع دینے کی ایک اور کوشش ہے۔</p>
<p dir="rtl">اب اگر آپ دوسری طرف نظر دوڑائیں تو دیکھیں گے کہ امریکا کئی ممالک میں اپنے بڑے سفارتخانے بنا رہا ہے۔ اس سلسلے میں بغداد، کابل اور پاکستان کی مثال سامنے ہے۔ ایک طرح سے وہ ان ملکوں میں مستقل ٹھکانہ بنا رہا ہے جو طویل عرصے تک وہاں قیام کرنے کے اُس کے ارادوں کا مظہر ہے۔</p>
<p dir="rtl">پہلے سوال کا اس قدر تفصیلی اور جامع جواب پا کر میں نے دوسرا سوال کیا کہ امریکا جنوبی ایشیاء میں کیا چاہتا ہے اور وہاں اس کے مقاصد کیا ہیں؟۔ Noam Chomsky کا کہنا تھا کہ افغانستان اور پاکستان نہایت اسٹریٹیجک مقام پر واقع ہیں۔ ایک طرف اس خطے کی سرحدیں مشرق وسطیٰ سے ملتی ہیں تو دوسری طرف بے پناہ وسائل سے مالا مال ہے۔ توانائی کے وسائل اور پیداوار کے حوالے سے اس کی اہمیت اور حیثیت مسلمہ ہے اور بیک وقت سورس آف انرجی اور سیکنڈ سورس آف انرجی ہے۔ یہ خطہ سرحدوں اور وسائل پر کنٹرول کے لحاظ سے بھی کئی تنازعات میں گھرا ہوا ہے۔ شنگھائی تعاون تنظیم خطے کے لحاظ سے اہم کردار ادا کر رہی ہے جس میں چین، روس اور وسط ایشیائی ریاستیں شامل ہیں جبکہ پاکستان نے مبصر کے طور پر شرکت کی ہے۔ اس تنظیم کا مقصد ایشین انرجی سیکورٹی کا قیام عمل میں لانا ہے جو امریکا سے بالکل الگ ہے۔ دراصل اس تنظیم کے رکن ملک طے کر چکے ہیں کہ امریکا خطے سے واپس چلا جائے اور  انہیں وسائل پر حق دیا جائے۔ جنوبی ایشیاء میں ایک اور اہم تنازع ابھرتی ہوئی معیشت بھارت کی جانب سے توانائی کے حصول کی کوششیں ہیں۔ دیکھنا یہ ہے کہ بھارت کس طرح توانائی کی ضروریات پوری کرتا ہے کیونکہ ایران سے گیس کے حصول کا ارادہ اس نے ترک کر دیا ہے۔ اگر وہ اس منصوبے میں حصہ لیتا ہے تو امریکا اس کی مخالفت کرے گا کیونکہ امریکا ایران کو تنہا کرنا چاہتا ہے۔ اب امریکا کی خواہش ہو گی کہ بھارت اپنی ضروریات ترکمانستان کے گیس کے وسیع ذخائر سے پوری کرے۔ افغانستان، بھارت، پاکستان اور ترکمانستان کے درمیان گیس پائپ لائن پرانا آئیڈیا ہے، لیکن یہ ابھی بھی ڈرائنگ بورڈ پر موجود ہے۔ امریکا کا مقصد بھارت کو ایران سے گیس کے حصول سے روک کر ترکمانستان کی طرف راغب کرنا ہے تا کہ وہ تہران پر ایٹمی پروگرام روکنے کے لئے دباؤ ڈال سکے جبکہ روس بھی نئی دہلی کا دوست ہے۔ خطے میں افغانستان کی اہمیت کے حوالے سے Noam Chomsky کا کہنا تھا کہ افغان صوبہ قندھار متنازع ہونے کے ساتھ ساتھ نہایت اہمیت کا حامل بھی ہے۔</p>
<p dir="rtl">بعض ماہرین کا حوالہ دیتے ہوئے وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ جنوبی ایشیاء میں دراصل وسائل پر قبضے کی جنگ جاری ہے۔ امریکا مشرق وسطیٰ میں تیل کے ذخائر کی عالمی اہمیت کو سمجھ چکا ہے اور مستقبل میں طاقت کا انحصار اسی خطے کے وسائل کے استعمال پر ہو گا۔ اسٹریٹیجک لحاظ سے یہ دنیا کا سب سے اہم علاقہ ہے اور اس کے قدرتی وسائل پر قبضہ کرنے والا ملک ہی پوری دنیا پر قبضہ کر سکتا ہے۔ امریکا اپنے اسی خواب کو شرمندہ تعبیر کرنا چاہتا ہے۔ یہ تمام باتیں کسی سے ڈھکی چھپی نہیں بلکہ دنیا کے سامنے آ چکی ہیں۔ ہاں مگر۔ اس معاملے میں پاکستان کو مرکزی حیثیت حاصل ہو چکی ہے ۔ پاکستان کے چین سے نہ صرف دوستانہ تعلقات ہیں بلکہ معاشی اور اقتصادی میدان میں بھی دونوں کے رابطے کافی گہرے ہیں۔ امریکا کو اس بات پر تشویش ہے کہ مستقبل میں چین خودمختار طاقت کے طور  پر سامنے آ سکتا ہے۔ اس سلسلے میں بڑی پیش رفت شنگھائی تعاون تنظیم کا قیام ہے۔ اس تنظیم کو اقوام متحدہ قبول کر چکی ہے جبکہ امریکا اس سے خوش نہیں ہے۔</p>
<p>مجھے میرے سوالوں کا مکمل اور تفصیلی جواب مل گیا تھا۔ جو آپ کی خدمت میں حاضر ہے۔<span id="_marker"> </span></p>
<p class="MsoNormal" style="margin: 0in 0in 10pt;" dir="rtl"><span style="font-size: small;"><span style="font-family: Arial; mso-ascii-font-family: Calibri; mso-hansi-font-family: Calibri;" lang="ER">دنیا بھر میں </span><span style="font-family: Calibri;"><span style="mso-fareast-font-family: Calibri; mso-bidi-font-family: Symbol; mso-fareast-language: JA;" dir="ltr">Noam Chomsky</span><span dir="rtl"> </span></span><span style="font-family: Arial; mso-ascii-font-family: Calibri; mso-hansi-font-family: Calibri;" lang="ER"><span dir="rtl"> </span> کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ہے۔ <span style="mso-spacerun: yes;"> </span>اُن کی وجہ شہرت امریکا کی خارجہ پالیسیوں کو تنقید کا نشانہ بنانا ہے۔ یہ کام وہ آج سے نہیں بلکہ انیس سو ساٹھ کی دہائی میں ویتنام جنگ سے کر رہے ہیں۔ وہ متعدد کتابوں کے مصنف بھی ہیں۔ </span></span></p>
<p class="MsoNormal" style="margin: 0in 0in 10pt;" dir="rtl"><span style="font-size: small;"><span style="font-family: Arial; mso-ascii-font-family: Calibri; mso-hansi-font-family: Calibri;" lang="ER">اس بار میں اُن سے ملاقات کے لئے پہنچا تو ذہن میں دو سوال تھے۔ ایک یہ کہ عالمی سطح پر بھارت کی خارجہ پالیسی کیا ہے اور دوسرا امریکا کے جنوبی ایشیاء میں کیا مقاصد ہیں؟۔ دل میں خوش تھا کہ اس بار بھی میں اُن سے انٹرویو کرنے والا پہلا پاکستانی صحافی ہوں گا، لیکن یہ دیکھ کر<span style="mso-spacerun: yes;">  </span>حیرت کی انتہا نہ رہی کہ پاکستان کے نجی ٹی وی چینل ‘‘آج’’ کا نمائندہ پہلے سے وہاں موجود تھا۔ یقینی طور پر وہ بھی بہت سے پیچیدہ اور الجھے ہوئے سوالوں کے جواب تلاش کرنے آیا ہو گا، لیکن میرے لئے بہرحال یہ ایک خوشگوار حیرت تھی کہ کوئی دوسرا پاکستانی صحافی بھی </span><span style="font-family: Calibri;"><span style="mso-fareast-font-family: Calibri; mso-bidi-font-family: Symbol; mso-fareast-language: JA;" dir="ltr">Noam Chomsky</span><span dir="rtl"> </span></span><span style="font-family: Arial; mso-ascii-font-family: Calibri; mso-hansi-font-family: Calibri;" lang="ER"><span dir="rtl"> </span> کے خیالات پاکستان کے عوام تک پہنچانے کی کوشش کر رہا ہے۔</span></span></p>
<p class="MsoNormal" style="margin: 0in 0in 10pt;" dir="rtl"><span style="font-size: small;"><span style="font-family: Calibri;"><span style="mso-fareast-font-family: Calibri; mso-bidi-font-family: Symbol; mso-fareast-language: JA;" dir="ltr">Noam Chomsky</span><span dir="rtl"> </span></span><span style="font-family: Symbol; mso-ascii-font-family: Calibri; mso-hansi-font-family: Calibri; mso-fareast-font-family: Calibri; mso-bidi-font-family: Symbol; mso-fareast-language: JA;"><span dir="rtl"> </span> </span><span style="font-family: Arial; mso-ascii-font-family: Calibri; mso-hansi-font-family: Calibri;" lang="ER">نے میرے سوال تحمل سے سنے اور نہایت دھیمے، لیکن مدلل انداز میں جواب دینا شروع کیے۔ بھارت کی پیچیدہ خارجہ پالیسی کے بارے میں </span><span style="font-family: Calibri;"><span style="mso-fareast-font-family: Calibri; mso-bidi-font-family: Symbol; mso-fareast-language: JA;" dir="ltr">Noam Chomsky</span><span dir="rtl"> </span></span><span style="font-family: Symbol; mso-ascii-font-family: Calibri; mso-hansi-font-family: Calibri; mso-fareast-font-family: Calibri; mso-bidi-font-family: Symbol; mso-fareast-language: JA;"><span dir="rtl"> </span> </span><span style="font-family: Arial; mso-ascii-font-family: Calibri; mso-hansi-font-family: Calibri;" lang="ER">نے تمہید باندھے بغیر کہا کہ بھارت پیچیدہ جنگ لڑ رہا ہے۔ ایک طرف چین سے اُس کے تعلقات استوار ہیں تو دوسری طرف تنازعات بھی چھیڑ رکھے ہیں، یہ تو مبہم بات ہے۔ کہنے لگے کہ بھارت نے ایران سے بھی تعلقات قائم رکھے ہوئے ہیں جبکہ یہ بات امریکا کو پسند نہیں ہے۔ اسی وجہ سے بھارت پاک ایران گیس پائپ لائن سے تو پیچھے ہٹ گیا ہے، لیکن اپنے مقاصد کے پیچھے اب بھی بھاگ رہا ہے۔ امریکا دیکھ رہا ہے کہ بھارت کیا کر رہا ہے۔ اُس کی نظریں ایران کی جانب سے ایٹمی ہتھیاروں کے حصول کی کوششوں پر بھی ہیں۔ آپ دیکھتے ہیں کہ ایسی خبریں روزانہ اخبارات کے پہلے صفحہ کی زینت بنتی ہیں۔ کبھی اُس کے نئے ایٹمی پلانٹ کا ذکر سامنے آجاتا ہے اور کبھی میزائلوں کا۔ یہ سوال بھی زیر بحث ہے کہ آیا وہ امریکا اور یورپ پر حملے کی صلاحیت رکھتا ہے یا نہیں۔ تو اس وقت ہماری تمام توجہ ایران کی ایٹمی سرگرمیوں پر ہے۔ اسی سلسلے میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے قرارداد بھی منظور کی ہے جس کا خصوصی ہدف ایران ہی تھا، لیکن آپ یہ دیکھیں کہ عین قرارداد کی منظوری کے وقت بھارت نے سرعام اعلان کیا وہ این پی ٹی پر دستخط نہیں کرے گا۔ وہ کہتا ہے کہ اُس کے پاس 2004 ٹن ایٹمی ہتھیار ہیں اور یہ امریکا اور روس کی جدید ترین جوہری صلاحیت کے برابر ہے۔ ابھی چند دن پہلے ہی آئی اے ای اے نے اپنی قرارداد میں اسرائیل سے کہا ہے وہ ایٹمی ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ کی کوششوں میں معاونت کرے اور اپنی تنصیبات کے معائنے کی اجازت دے۔ امریکا اور یورپ نے یہ قرارداد رکوانے کی کوشش کی اور ناکامی پر اس کی مخالفت میں ووٹ دیا۔ خود اسرائیل نے بھی یہ قرارداد مسترد کر دی ہے۔ </span></span></p>
<p class="MsoNormal" style="margin: 0in 0in 10pt;" dir="rtl"><span style="font-size: small;"><span style="font-family: Arial; mso-ascii-font-family: Calibri; mso-hansi-font-family: Calibri;" lang="ER">اپنی بات جاری رکھتے ہوئے </span><span style="font-family: Calibri;"><span style="mso-fareast-font-family: Calibri; mso-bidi-font-family: Symbol; mso-fareast-language: JA;" dir="ltr">Noam Chomsky</span><span dir="rtl"> </span></span><span style="font-family: Arial; mso-ascii-font-family: Calibri; mso-hansi-font-family: Calibri;"> <span lang="ER"><span style="mso-spacerun: yes;"> </span>مزید کہنے لگے کہ اگر بھارت پہلے سے موجود اہم ایٹمی پروگرام کو توسیع دیتا ہے تو پاکستان بھی ایسا ہی کرے گا۔ ماضی میں یہ دونوں ملک دو بار ایٹمی جنگ کے قریب پہنچ چکے ہیں۔ دراصل دنیا میں تین ملکوں نے کبھی این پی ٹی پر دستخط نہیں کئے۔ اُن میں بھارت، پاکستان اور اسرائیل شامل ہیں۔ ان تینوں نے ایسا امریکا کی حمایت سے ہی کیا ہے۔ اسرائیل کو تو امریکا کی کھلی حمایت حاصل ہے۔ پاکستان کو امریکی صدر ریگن کے زمانے کی حمایت حاصل رہی جب وہاں ضیاء الحق امریکی انتظامیہ کا فیورٹ ڈکٹیٹر تھا، لیکن وہ ہتھیار تو بنا رہا تھا۔ بھارت نے ایک سال پہلے ہی امریکا سے ایٹمی شعبے میں تعاون کا معاہدہ کیا ہے۔ بظاہر تو اس کے الفاظ یہ ہیں کہ امریکا ایٹمی آپریشنل انرجی میں بھارت کی مدد کرے گا، لیکن حتمی طور پر یہ سب تو ایٹمی ہتھیاروں میں ہی بدل جائے گا۔ وہ یہاں </span></span><span style="font-family: Calibri;"><span style="mso-fareast-font-family: Calibri; mso-bidi-font-family: Symbol; mso-fareast-language: JA;" dir="ltr">Noam Chomsky</span></span><span style="font-family: Symbol; mso-ascii-font-family: Calibri; mso-hansi-font-family: Calibri; mso-fareast-font-family: Calibri; mso-bidi-font-family: Symbol; mso-fareast-language: JA;"> </span><span style="font-family: Arial; mso-ascii-font-family: Calibri; mso-hansi-font-family: Calibri;" lang="ER">کچھ دیر کو رکے اور اگلے ہی لمحے کہنے لگے ‘‘حقیقت میں اقوام متحدہ کی قرارداد صرف ایران کے خلاف ہی نہیں بلکہ ان تنیوں ملکوں کے خلاف بھی ہے جنہوں نے این پی ٹی پر دستخط نہیں کئے’’۔ </span></span></p>
<p class="MsoNormal" style="margin: 0in 0in 10pt;" dir="rtl"><span style="font-family: Arial; mso-ascii-font-family: Calibri; mso-hansi-font-family: Calibri;" lang="ER"><span style="font-size: small;">وہ کہتے ہیں کہ سلامتی کونسل کی قرارداد تمام ملکوں پر زور دیتی ہے کہ وہ طاقت کے استعمال کی دھمکیاں نہ دیں۔ انہوں نے میری طرف دیکھتے ہوئے سوال کیا کہ طاقت کے استعمال کی دھمکیاں کون دے رہا ہے؟۔ پھر خود ہی کہنے لگے کہ ایسا تو امریکا اور اسرائیل ہی کر رہے ہیں ناں۔ تو یہ قرارداد بذات خود امریکا،ا بھارت، اسرائیل اور کسی حد تک پاکستان کے خلاف ہے۔ </span></span></p>
<p class="MsoNormal" style="margin: 0in 0in 10pt;" dir="rtl"><span style="font-size: small;"><span style="font-family: Calibri;"><span style="mso-fareast-font-family: Calibri; mso-bidi-font-family: Symbol; mso-fareast-language: JA;" dir="ltr">Noam Chomsky</span></span><span style="font-family: Symbol; mso-ascii-font-family: Calibri; mso-hansi-font-family: Calibri; mso-fareast-font-family: Calibri; mso-bidi-font-family: Symbol; mso-fareast-language: JA;"> </span><span style="font-family: Arial; mso-ascii-font-family: Calibri; mso-hansi-font-family: Calibri;" lang="ER">بحث کو مزید وسیع کرتے ہوئے یورپ میں امریکی میزائل ڈیفینس سسٹم کی تنصیب سے پیدا ہونے والے تنازع کی طرف لے گئے۔ کہنے لگے کہ یورپ میں امریکا کی جانب سے میزائل سسٹم نصب کرنے کا جو تنازع پیدا ہوا ہے، دراصل اُس کا محور بھی ایک ہی یعنی ممکنہ ایرانی حملے کا دفاع کرنا ہے۔ کیا کسی نے اس بات پر سنجیدگی سے غور کیا ہے کہ ایران کی جانب سے امریکا اور یورپ پر حملہ اُس کے لئے کس قدر تباہ کن ثابت ہو گا۔ اُس کے لئے تو یہ خودکشی کے برابر ہو گا۔ دراصل یہ دفاع کے لئے تیار کردہ میزائل نظام نہیں بلکہ پیشگی حملہ کرنے کا مہلک ہتھیار ہے۔ کوئی بھی میزائل نظام پیشگی حملے کا سسٹم ہی ہوتا ہے۔ دوسرا یہ کہ یہ امریکا اور اسرائیل کی جانب سے طاقت کے استعمال کی دھمکیوں کو توسیع دینے کی ایک اور کوشش ہے۔ </span></span></p>
<p class="MsoNormal" style="margin: 0in 0in 10pt;" dir="rtl"><span style="font-family: Arial; mso-ascii-font-family: Calibri; mso-hansi-font-family: Calibri;" lang="ER"><span style="font-size: small;">اب اگر آپ دوسری طرف نظر دوڑائیں تو دیکھیں گے کہ امریکا کئی ممالک میں اپنے بڑے سفارتخانے بنا رہا ہے۔ اس سلسلے میں بغداد، کابل اور پاکستان کی مثال سامنے ہے۔ ایک طرح سے وہ ان ملکوں میں مستقل ٹھکانہ بنا رہا ہے جو طویل عرصے تک وہاں قیام کرنے کے اُس کے ارادوں کا مظہر ہے۔ </span></span></p>
<p class="MsoNormal" style="margin: 0in 0in 10pt;" dir="rtl"><span style="font-size: small;"><span style="font-family: Arial; mso-ascii-font-family: Calibri; mso-hansi-font-family: Calibri;" lang="ER">پہلے سوال کا اس قدر تفصیلی اور جامع جواب پا کر میں نے دوسرا سوال کیا کہ امریکا جنوبی ایشیاء میں کیا چاہتا ہے اور وہاں اس کے مقاصد کیا ہیں؟۔ </span><span style="font-family: Calibri;"><span style="mso-fareast-font-family: Calibri; mso-bidi-font-family: Symbol; mso-fareast-language: JA;" dir="ltr">Noam Chomsky</span></span><span style="font-family: Symbol; mso-ascii-font-family: Calibri; mso-hansi-font-family: Calibri; mso-fareast-font-family: Calibri; mso-bidi-font-family: Symbol; mso-fareast-language: JA;"> </span><span style="font-family: Arial; mso-ascii-font-family: Calibri; mso-hansi-font-family: Calibri;" lang="ER">کا کہنا تھا کہ افغانستان اور پاکستان نہایت اسٹریٹیجک مقام پر واقع ہیں۔ ایک طرف اس خطے کی سرحدیں مشرق وسطیٰ سے ملتی ہیں تو دوسری طرف بے پناہ وسائل سے مالا مال ہے۔ توانائی کے وسائل اور پیداوار کے حوالے سے اس کی اہمیت اور حیثیت مسلمہ ہے اور بیک وقت سورس آف انرجی اور سیکنڈ سورس آف انرجی ہے۔ یہ خطہ سرحدوں اور وسائل پر کنٹرول کے لحاظ سے بھی کئی تنازعات میں گھرا ہوا ہے۔ شنگھائی تعاون تنظیم خطے کے لحاظ سے اہم کردار ادا کر رہی ہے جس میں چین، روس اور وسط ایشیائی ریاستیں شامل ہیں جبکہ پاکستان نے مبصر کے طور پر شرکت کی ہے۔ اس تنظیم کا مقصد ایشین انرجی سیکورٹی کا قیام عمل میں لانا ہے جو امریکا سے بالکل الگ ہے۔ دراصل اس تنظیم کے رکن ملک طے کر چکے ہیں کہ امریکا خطے سے واپس چلا جائے اور <span style="mso-spacerun: yes;"> </span>انہیں وسائل پر حق دیا جائے۔ جنوبی ایشیاء میں ایک اور اہم تنازع ابھرتی ہوئی معیشت بھارت کی جانب سے توانائی کے حصول کی کوششیں ہیں۔ دیکھنا یہ ہے کہ بھارت کس طرح توانائی کی ضروریات پوری کرتا ہے کیونکہ ایران سے گیس کے حصول کا ارادہ اس نے ترک کر دیا ہے۔ اگر وہ اس منصوبے میں حصہ لیتا ہے تو امریکا اس کی مخالفت کرے گا کیونکہ امریکا ایران کو تنہا کرنا چاہتا ہے۔ اب امریکا کی خواہش ہو گی کہ بھارت اپنی ضروریات ترکمانستان کے گیس کے وسیع ذخائر سے پوری کرے۔ افغانستان، بھارت، پاکستان اور ترکمانستان کے درمیان گیس پائپ لائن پرانا آئیڈیا ہے، لیکن یہ ابھی بھی ڈرائنگ بورڈ پر موجود ہے۔ امریکا کا مقصد بھارت کو ایران سے گیس کے حصول سے روک کر ترکمانستان کی طرف راغب کرنا ہے تا کہ وہ تہران پر ایٹمی پروگرام روکنے کے لئے دباؤ ڈال سکے جبکہ روس بھی نئی دہلی کا دوست ہے۔ خطے میں افغانستان کی اہمیت کے حوالے سے </span><span style="font-family: Calibri;"><span style="mso-fareast-font-family: Calibri; mso-bidi-font-family: Symbol; mso-fareast-language: JA;" dir="ltr">Noam Chomsky</span></span><span style="font-family: Arial; mso-ascii-font-family: Calibri; mso-hansi-font-family: Calibri;" lang="ER"> کا کہنا تھا کہ افغان صوبہ قندھار متنازع ہونے کے ساتھ ساتھ نہایت اہمیت کا حامل بھی ہے۔ </span></span></p>
<p class="MsoNormal" style="margin: 0in 0in 10pt;" dir="rtl"><span style="font-family: Arial; mso-ascii-font-family: Calibri; mso-hansi-font-family: Calibri;" lang="ER"><span style="font-size: small;">بعض ماہرین کا حوالہ دیتے ہوئے وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ جنوبی ایشیاء میں دراصل وسائل پر قبضے کی جنگ جاری ہے۔ امریکا مشرق وسطیٰ میں تیل کے ذخائر کی عالمی اہمیت کو سمجھ چکا ہے اور مستقبل میں طاقت کا انحصار اسی خطے کے وسائل کے استعمال پر ہو گا۔ اسٹریٹیجک لحاظ سے یہ دنیا کا سب سے اہم علاقہ ہے اور اس کے قدرتی وسائل پر قبضہ کرنے والا ملک ہی پوری دنیا پر قبضہ کر سکتا ہے۔ امریکا اپنے اسی خواب کو شرمندہ تعبیر کرنا چاہتا ہے۔ یہ تمام باتیں کسی سے ڈھکی چھپی نہیں بلکہ دنیا کے سامنے آ چکی ہیں۔ ہاں مگر۔ اس معاملے میں پاکستان کو مرکزی حیثیت حاصل ہو چکی ہے ۔ پاکستان کے چین سے نہ صرف دوستانہ تعلقات ہیں بلکہ معاشی اور اقتصادی میدان میں بھی دونوں کے رابطے کافی گہرے ہیں۔ امریکا کو اس بات پر تشویش ہے کہ مستقبل میں چین خودمختار طاقت کے طور<span style="mso-spacerun: yes;">  </span>پر سامنے آ سکتا ہے۔ اس سلسلے میں بڑی پیش رفت شنگھائی تعاون تنظیم کا قیام ہے۔ اس تنظیم کو اقوام متحدہ قبول کر چکی ہے جبکہ امریکا اس سے خوش نہیں ہے۔ </span></span></p>
<p><span style="font-size: 11pt; line-height: 115%; font-family: Arial; mso-ascii-font-family: Calibri; mso-hansi-font-family: Calibri; mso-fareast-font-family: 'MS Mincho'; mso-fareast-language: EN-US; mso-bidi-language: ER; mso-ansi-language: EN-US;" dir="rtl" lang="ER">مجھے میرے سوالوں کا مکمل اور تفصیلی جواب مل گیا تھا۔ جو آپ کی خدمت میں حاضر ہے۔</span></p>
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://ibrahimsajidmalick.com/%db%81%db%8c%da%ba-%da%a9%d9%88%d8%a7%da%a9%d8%a8-%da%a9%da%86%da%be%d8%8c-%d9%86%d8%b8%d8%b1-%d8%a2%d8%aa%db%92-%db%81%db%8c%da%ba-%da%a9%da%86%da%be/302/feed/</wfw:commentRss>
		<slash:comments>3</slash:comments>
		</item>
	</channel>
</rss>

