Tag Archive | "Dictator"

Tags: , , , , ,

جسٹس افتخار کي بحالي۔ ايک نئي روشني کا سراغ۔۔۔

Posted on 17 March 2009 by Ibrahim Sajid Malick

 ميري خوشي کا اُس وقت کوئي ٹھکانہ نہيں رہتا جب ميں حقيقت سے قريب کسي سچائي کا ذکر سنتا ہوں۔ ميں اُس وقت بھي بہت خوش ہوتا ہوں جب کسي ملک کے بُرے ليڈرز کے بہت ہي خراب فيصلوں سے امن اور محبت کے لئے وہاں کے لوگوں کا عزم پہلے سے بھي زيادہ ہو جاتا ہے۔ ميرے ملک پاکستان کے چيف جسٹس افتخار محمد چوہدري بھي ايک لمبي کوشش کے بعد بحال ہو گئے ہيں اور اس فيصلے سے پاکستان کے اندر اور باہر کے لوگ خوشي سے جھوم گئے ہيں۔ پاکستان کي گليوں ميں لوگوں کي خوشي ديکھ کر ميرے ايک ايسے پرانے دوست جو بيس سال سے واپس پاکستان نہيں گئے تھے۔

 
 خوش ہو کر کہنے لگے کہ اب واپس اپنے ملک ميں جانے کا وقت آ گيا ہے۔ کاميابي کا يہي وقت تھا جب ہم نے سوچا کہ ہمارا آئيڈيلزم ہي ہمارے لئے سب سے زيادہ اہم ہے، ليکن کاميابي کا يہي لمحہ ہميں يہ بھي ياد دلاتا ہے کہ اب ہم پر نئي ذمہ داري بھي آ گئي ہے۔
 
اچھي سوسائٹي بنانے کے لئے بعض دفعہ لوگ انصاف کے ايسے رستے پر بھي چلتے ہيں جس ميں کوئي کاميابي نہيں ہوتي بلکہ صرف مشکل ہي سامنے آتي ہے۔ مجھے بہت خوشي ہے کہ پاکستان کے چيف جسٹس کو وہ انصاف مل گيا ہے جس کے وہ مستحق ہيں۔ اب وقت ہي بتائے گا کہ کيا جسٹس افتخار محمد چوہدري ميں اتني جرات ہے کہ وہ پاکستان کے امير اور غريب اور ہر جگہ کے رہنے والوں کو انصاف دے سکيں گے۔ سابقہ دو سال کے دوران معزول چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری اور دوسرے ججوں کی بحالی اور آزاد عدلیہ کے لیے چلائی جانے والی وکلاء کی تحریک پاکستان کی تاریخ میں سب سے بڑی تحریک بن کر سامنے آئي ہے۔ اس تحريک کو کئي مشکليں بھي پيش آئيں۔ سابق حکومت نے جسٹس افتخار کي حمايت کرنے والے کئي وکلاء کو نوکریاں بھي ديں، ليکن پھر بھي يہ لوگ چلتے ہي رہے۔
 
 نو مارچ سن دو ہزار سات کو سابق صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف نے جسٹس افتخار محمد چوہدری کے خلاف ریفرنس دائر کیا تھا جس کو سپریم جوڈیشل کونسل بھجوایا گیا۔ پھر جسٹس خلیل الرحمن رمدے کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے بینچ نے حکومتی الزامات کو مسترد کرتے ہوئے اُنہیں بیس جولائی سن دوہزار سات کو بحال کر دیا۔ پھر يہ ہوا کہ افتخار محمد چوہدری اور اُس وقت کی حکومت کے درمیان تعلقات خراب ہوئے اور پرویز مشرف سے تین نومبر سن دو ہزار سات کو ایمرجنسی نافذ کرکے اُن سمیت ساٹھ ججوں کو معزول کر کے گھروں میں نظر بند کر دیا۔ سابق صدر پرویز مشرف کے خلاف سپریم کورٹ میں درخواستيں سني جا رہي تھيں۔
 
 سپریم کورٹ نے جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کو چھ اکتوبر سن دو ہزار سات کو صدارتی انتخابات میں حصہ لینے کی اجازت تو دے دی، لیکن الیکشن کميشن کو يہ ہدایت بھي کی کہ وہ اُس وقت تک کسی بھی اُمیدوار کی کامیابی کا نوٹیفکیشن جاری نہ کرے جب تک اُن درخواستوں پر فیصلہ نہیں ہوجاتا۔ پرویز مشرف کامیاب تو ہوئے، لیکن نوٹیفکیشن جاری نہیں ہوا اور اسي وجہ سے اُنہیں خطرہ تھا کہ سپریم کورٹ اُن کے خلاف کوئی فیصلہ نہ دے دے۔ اسي وجہ سے تین نومبر سن دو ہزار سات کو انہوں نے ایمرجنسی نافذ کرنے کے بعد جسٹس عبدالحمید ڈوگر کو پی سی او کے تحت سپریم کورٹ کا چیف جسٹس بنا دیا۔ انہوں نے پرویز مشرف کو وردی میں انتخابات میں حصہ لینے کو جائز قرار دے کر الیکشن کميشن کو اُن کی کامیابی کا نوٹیفکیشن جاری کرنے کے احکامات دیئے۔ چیف جسٹس عبدالحمید ڈوگر اور حلف اُٹھانے والے باقي جج وکيلوں میں اچھي نظر سے نہيں ديکھے گئے اور وکيلوں کی ایک بڑی تعداد نے اُن کو تسلیم نہيں کيا۔
 
پندرہ دسمبر سن دو ہزار سات کو آئین بحال کیا گیا اور پی سی او کے ججوں نے دوبارہ حلف لیا۔ معزول ججوں میں سے کئي نے حلف اُٹھا لیا لیکن افتخار محمد چوہدری سمیت سپریم کورٹ کے پانچ ججوں نے حلف نہیں اُٹھایا۔ اس دوران ايک وقت ايسا بھي آيا جب ججوں کی بحالی کی کوشش بہت ہي خراب ہو گئي، لیکن چیف جسٹس عبدالحمید ڈوگر کی بیٹی کو اضافی نمبر دینے کا معاملہ سامنے آنے کے بعد وکيلوں نے پھر جان پکڑ لي۔ وکلاء کے علاوہ سیاسی جماعتوں نے بھی عبدالحمید ڈوگر سے عہدہ چھوڑنے کا مطالبہ شروع کر ديا۔ وزيراعظم سید یوسف رضا گیلانی نے وزیراعظم بننے کے بعد سب سے پہلے اُن ججوں کو رہا کرنے کا حکم ديا جن کو پرویز مشرف کی حکومت نے گھروں ميں بند کردیا تھا۔ افتخار محمد چوہدری دنیا کے واحد چیف جسٹس ہیں جنہیں دو دفعہ معزول کیا گیا اور پھر دوبارہ بحال کیا گیا۔ اب جبکہ وہ بحال ہو گئے ہيں تو بلوچستان کے لوگ اپنے ہي وسائل پر اپنا جائز حق مانگنے اور گم ہونے والوں کے رشتہ دار بھي انہي کي طرف ديکھيں گے۔ پاکستان کے حکمرانوں کو اگر ایک طرف قانون کے سامنے سر جھکانے کی عادت پڑ سکتی ہے تو دوسری جانب سیاستدانوں کو بھی یہ موقع ملے گا کہ سیاست میں قانون کی پاسداری اور سر بلندی کامیابی بھي دلا سکتي ہے۔ جسٹس افتخار چوہدری کی بحالی کا اصل فائدہ پاکستانی عوام کو ہونا ہے جس کو اس تاریخی کامیابی سے یہ حوصلہ ملا ہے کہ عوام کی طاقت ملک کی تقدیر کا اہم ترین فیصلہ کرا سکتی ہے۔ قیام پاکستان کے بہت بعد پیدا ہونے والی نسل کے لیے اگر نو مارچ دو ہزار سات قرارداد پاکستان کے برابر تھا تو سولہ مارچ دو ہزار نو کی تاریخ صبحِ آزادی سے کم نہیں ہے۔
 
اس تمام کہاني سے مجھے چين کي ايک پراني بات ياد آ جاتي ہے کہ ”جب آپ اپنے اندر خود کو دھوکہ ديئے بغير چيزوں کو اُن کي اصلي حالت ميں ديکھنے کي ہمت پيدا کر ليتے ہيں تو پھر آپ کو راستہ دکھانے والي روشني مل جاتي ہے اور اسي روشني سے آپ کو راستے کا پتا چلتا ہے”۔
 
ميرے نزديک اس تمام بات کا مطلب يہ ہے کہ ہميں مشکل اور پريشان کرنے والي سچائي کو ديکھنے کے لئے کچھ وقت کے لئے آئيڈيلزم سے خود کو دور کرنا چاہيئے اور پھر اس کے بدلے ميں يہ سچائي ہميں ايسا موقع ديتي ہے کہ ہم آئيڈيلزم کا اور بھي اچھا نتيجہ ديکھ سکتے ہيں۔
 
پاکستان ميں جسٹس افتخار محمد چوہدري کے دوبارہ اُن کے عہدے پر آنے سے ايسے نتيجے نکليں گے جن سے ہماري زندگيوں پر کافي اچھا اثر پڑے گا۔ آنے والے مہينوں ميں ہميں ايسے حالات پيش آئيں گے کہ جو ہميں اس بات پر مجبور کريں کہ ہم حقيقت کے بارے ميں اپنے سوچ کو تبديل کريں۔ ہميں اپنے خيالات کو ہوش ميں اور دلوں کو کھول کر رکھنا ہو گا تا کہ ہم اپنے آس پاس ہونے والي تبديليوں کو محسوس کر سکيں۔ پروپيگنڈے کے رش ميں سچ کو تلاش کرنے کے لئے خود کو بہتر بنانا اور نفرت سے آزاد کرنا ہو گا۔ خود کو کسي دھوکے سے بچانے کے لئے ہميں خود کو بدل کر سچائي کو اپنانا ہو گا۔ سچا بولنا دراصل مزاحمت کو مضبوط بنانے اور اس کو فروغ دينے کا سبب بنتا ہے۔ پاکستان ميں يہ صرف ايک شخص کي بحالي نہيں بلکہ پورے جوڈيشل سسٹم کي بحالي ہے جس کا ہم سب بہت خيال کرتے ہيں۔ ان سابقہ چند مہينوں کے دوران لوگوں نے سبق سيکھا ہے کہ مزاحمت کي آواز ہميشہ سنائي ديتي رہے گي۔ جب لوگ طاقت سے ٹکراتے ہيں اور سچ بولنا شروع کر ديتے ہيں تو ناں صرف دوسرے شہروں بلکہ دوسرے ملکوں کے لوگ بھي اُن کي آواز سننے اور اُس کا جواب ديتے ہيں۔

Comments (0)

Find Work in USA






  • Bookmark and Share