Tag Archive | "Clinton"

Tags: , , , ,

ابہام اور نصف سچائی سے بھری دنیا

Posted on 13 May 2009 by Ibrahim Sajid Malick

سیاست ایسی نظریاتی دنیا میں پنپتی ہے جہاں الفاظ کے معنی شازو نادر ہی بالکل واضح اور غیر مبہم ہوتے ہیں، اسی طرح نظریات بھی وہ نہیں ہوتے جو بیان کئے جاتے ہیں جبکہ وہ اپنے اندر کئی ممکنہ معنی سموئے ہوتے ہیں۔ ارادوں میں تضادات بھی ہوتے ہیں اور نتائج بھی غیر شعوری ، تحریکیں اُن راہوں سے گزرتی ہیں جن کے بارے میں پیش گوئی نہیں کی جاسکتی۔ خواہشات غیر مُبہَم اور کامل ہونے کے بجائے اسٹریٹیجک اور ایک دوسرے سے جڑی ہوتی ہیں۔ ابہام اور نصف سچائی سے بھری اس دنیا میں حقائق مسخ کر کے پیش کئے جاتے ہیں۔ یہاں دھوکا اور فریب ہے، خواب اور واہمے ہیں، لیکن اسی دنیا میں مقاصد کو سمجھا بھی جاتا ہے، اس کیلئے قواعد بھی طے ہوتے ہیں، اقدار قوت رکھتی ہیں، انقلابات مکمل ہوتے ہیں اور ریاستیں وجود میں آتی ہیں۔
گذشتہ ہفتے رياست ورجينيا ميں ایک نجی محفل کے دوران صدر آصف علی زردری کی انتظامیہ سے مستعفی پاکستان کی بااثر شخصیت نے یہ کہہ کر مجھے حیرت میں ڈال دیا کہ ”یہ سب نظر کا دھوکا ہے”۔ چونکہ میں محکمہ خارجہ، کانگریس، سینیٹ اور وہائٹ ہاؤس میں سجنے والے کئی تھیٹرز کی کوریج کرتا رہا ہوں، اس لئے اس جملے نے مجھے مزید حیرت میں ڈال دیا۔ میں نے جو cover کیا ہے اگر وہ نظر کا دھوکا تھا تو اس میں کیا کامیابی تھی، یہ جواب اس میں پوشیدہ ہے کہ آپ کا مخاطب کون ہے۔
یہاں سے مجھے کوئی خاص فوٹیج تو نہیں ملی، لیکن بیانات بہت خاص اور غیر معمولی تھے۔ ایک ٹی وی جرنلسٹ کی حیثیت سے مجھے اب دونوں چیزوں کا تال میل بنانا تھا۔
امریکی کانگریس سے لے کر سینیٹرز تک اور وزیر خارجہ ہیلری کلنٹن سے لے کر صدر اوباما تک۔۔ ہر شخص کو یہی کہتے سنا کہ پاکستانی قیادت کی ملاقاتیں ملک کے لئے بڑی کامیاب ثابت ہوئی ہیں، لیکن کوئی ہمیں یہ نہ سمجھا سکا کہ ان اجلاسوں کے کیا نتائج کا سامنے آئیں گے۔

حکومت پاکستان کو اوباما انتظامیہ کی توجہ اور اہمیت حاصل ہونے پر واشنگٹن میں پاکستان کے سفیر مسٹر حسین حقانی کی خوشی قابل دید تھی۔ پاکستان مالی سال 2010 کے لئے 1.9 ارب ڈالر امداد حاصل کرنے میں کامیاب ہوا ہے جبکہ کیری لوگر بل کے تحت اسلام آباد کے لئے1.5 ارب سے زائد امداد پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔ صدر زرداری کے ترجمان فرحت اللہ بابر نے مجھے بتایا کہ صدر مملکت نئے اعتماد کے ساتھ واپس جا رہے ہیں۔ اسلام آباد میں امریکا کی سفیر Anne Peterson بھی صدر زرداری کے دورہ امریکا کی کامیابی سے خاصی خوش تھیں۔ وہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان ٹریڈ اینڈ ٹرانزٹ کی مفاہمت کی یادداشت کو سنگ میل سمجھتی ہیں۔

یہ درست ہے کہ امریکی کانگریس نے مالی سال 2010 کے لئے 1.9 ارب ڈالر کی امداد منظور کی ہے، لیکن اس رقم میں سے 837 ملین ڈالر تو پاکستان میں امریکی سفارتخانے اور مختلف شہروں میں قونصل خانوں کے حفاظتی انتظامات بہتر بنانے پر خرچ ہو جائیں گے۔ مفاہمت کی یادداشت کی اہمیت کے حوالے سے میرے سوال پر وزیر خزانہ شوکت ترین زیادہ خوش دکھائی نہیں دیئے۔ اُن کا کہنا تھا کہ اس سمجھوتے میں کچھ نیا نہیں ہے۔ امریکی جاسوس طیاروں کے حملے ختم کرنے کے حوالے سے بھی واضح وعدے نہیں کئے گئے۔ ابھی میں ان شخصیات کے ساؤنڈ بائٹس لینے کی کوشش ہی کر رہا تھا کہ کراچی سے میرے پروڈیوسر نے ٹیلی فون کر کے بتایا کہ پاکستان کے وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے صوبہ سرحد اور فاٹا کے بعض علاقوں میں دہشت گردوں کے مکمل خاتمے کے لئے بھر پور فوجی کارروائی کا حکم دے دیا ہے۔

پھر میرے ذہن میں آیا کہ کیا یہی وہ سنگ میل اور کامیابی ہے جس کا اشارہ صدر اوباما کرتے رہے تھے۔ شاہد یہی ہو۔۔ کیونکہ 1.9 ارب ڈالر کی امداد، ٹریڈ ٹرانزٹ سمجھوتہ اور ”نئے صدر زردری” سمجھ سے بالاتر ہیں۔ دراصل صوبہ سرحد اور فاٹا میں طالبان کے خلاف بالکل واضح اور فیصلہ کن کارروائی شروع کرنے کے لئے زرداری انتظامیہ پر سخت دباؤ تھا۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آیا پاکستان کے لئے بھی یہ کوئی بڑی کامیابی ثابت ہوئی ہے؟

سوات میں تقریباً پانچ ہزار طالبان کے خلاف کارروائی کے لئے پندرہ ہزار فوجی بھیجنے اور بھاری ہتھیاروں کے استعمال سے پاکستان فوج کو وقتی طور پر تو کامیابی مل سکتی ہے، لیکن اس کے نتیجے میں ملک کے مستحکم مشرقی علاقوں میں مختلف اہداف پر دہشت گردوں کے حملوں میں اضافہ بھی ہو سکتا ہے۔

طالبان کی جانب سے امن معاہدے کی خلاف ورزی کے بعد پاکستان آرمی کے پاس فیصلہ کن کارروائی کے علاوہ کوئی چارہ نہیں تھا جبکہ دوسری جانب امریکی انتظامیہ بھی حتمی کارروائی کیلئے حکومت پاکستان پر دباؤ ڈال رہی تھی۔ انہی حالات میں سرحدوں کے بارے میں حکمت عملی کی مکمل تبدیلی کی ضرورت ہے۔

پاکستان آرمی اعتراف کر چکی ہے کہ طالبان کی جانب سے امن معاہدے کی خلاف ورزی سے ایسی صورتحال پیدا ہوئی کہ نہ وہ نظر انداز کر سکتی تھی اور نہ ہی کارروائی میں ناکامی کا کوئی آپشن تھا۔ اسی لئے طالبان کے خلاف کارروائی کے لئے بھاری ہتھیاروں سمیت تمام ممکنہ طریقے استعمال کئے جا رہے ہیں۔ مذاحمت سے نمٹنے کی کارروائی کے دوران کسی موقع پر سنجیدہ جنگ بھی شروع کرنا پڑتی ہے، لیکن اس کے باوجود ایک عام تاثر یہ ہے کہ کسی منظم اور باقاعدہ نظام کے تحت شروع کئے گئے فوجی آپریشن کا ردعمل کسی اور جگہ سے سامنے آ سکتا ہے۔

لیکن میرے خیال میں اب پاکستان آرمی کے پاس طالبان کے خلاف بھر پور کارروائی کرتے ہوئے انہیں ختم کرنے کے علاؤہ کوئی دوسرا راستہ نہیں بچا۔ اس سلسلے میں اُنہیں کسی اور جگہ حملہ بھی کرنا پڑے تو گریز نہیں کرنا چاہیئے۔ اگرچہ یہ کوئی اچھی بات نہیں، لیکن اگر آپ جنگ جیتنا چاہتے ہیں تو آپ کو ایسا کرنا پڑے گا۔ طالبان اور اُن کے ساتھی ردعمل کے طور پر پاکستان کے دوسرے علاقوں میں حملوں میں اضافہ کر دیں گے جس سے دو اہم سوال پیدا ہوں گے۔
پہلا یہ کہ کیا پاکستان آرمی اور پولیس سوات کے فتح کئے گئے علاقوں پر اپنا کنٹرول قائم رکھ سکیں گی؟۔ دوسرا اہم اور بڑا سوال یہ ہے کہ کیا وہ امریکی فوج کی خواہش کے مطابق افغانستان کی سرحد کے قریب ایسے علاقوں پر بھی اپنا قبضہ جمانے کیلئے آگے بڑھے گی جو اُن کے ہاتھ سے نکل چکے ہیں؟

Comments (0)

Tags: , , , , , ,

اعتماد کو بحال کرنا ہے۔

Posted on 03 March 2009 by Ibrahim Sajid Malick

پاکستان کے وزير خارجہ شاہ محمود قريشي نے دورہ امريکا کے دوران واشنگٹن ڈي سي ميں صحافيوں سے گفتگو کرتے ہوئے واضح کيا ہے کہ پاکستان، افغانستان اور امريکا کے درميان تين دن کے صلاح و مشورے کے بعد اب تينوں ملکوں کے درميان اعتماد کي فضاء بہتر ہو گئي ہے اور بداعتمادي ميں کافي حد تک کمي آ گئي ہے۔ اعتماد کو آج کل کي سفارت کاري ميں نہايت دلچسپ نظريئے کي حيثيت حاصل ہے۔

 

 امريکي فوج کے سربراہ Mike Mullen نے اس سال فروري کے درميان ميں واشنگٹن پوسٹ ميں اسي موضوع يعني ”اعتماد ” کے عنوان سے ايک مضمون لکھا ہے۔ امريکا کے جوائنٹ چيفس آف اسٹاف کے چيئرمين Mullen نے اس مضمون ميں پاکستان اور افغانستان ميں اسلامي شدت پسندي کو شکست دينے کے لئے اعتماد کي اہميت اور کردار پر خيالات کا اظہار کيا ہے۔ انہوں نے خصوصي طور پر پاکستان کے معاملے ميں بداعتمادي اور پھر اس بداعتمادي کو ختم کرنے پر رائے کا اظہار کيا ہے۔ دراصل اس وقت ہميں جو خطرے درپيش ہيں اُن سے نمٹنے کا واحد حل ہي اعتماد کو بحال کرنا ہے۔

 

امريکي فوج ميں ايسے لوگوں کي تعداد کافي زيادہ ہے جو ايسا سوچتے ہيں کہ پاکستاني فوج کے اعليٰ حکام يہ سمجھنے ميں بہت دير کررہے ہيں کہ پاکستان کو زيادہ خطرہ بھارت سے نہيں بلکہ ملک کے اندر موجود انتہاپسندوں سے ہے۔ پاکستان کے صدر آصف علي زرداري نے القاعدہ اور طالبان کو شکست دينے کے لئے فوج قبائلي علاقوں ميں تو بھيج دي ہے، ليکن امريکي حکام کو يہ شک بھي کہ پاک فوج کے ادارے آئي ايس آئي کے بعض لوگ جنگجو گروپوں کو۔۔۔۔ کشمير اور افغانستان ميں بھارت کے خلاف استعمال کرنے کے لئے تحفظ دے رہے ہيں۔ ادھر اوباما انتظاميہ بھي يہ بات اچھي طرح جانتي ہے کہ پاکستان سے تعلقات بہت اہميت رکھتے ہيں اور بد اعتمادي بڑھني نہيں چاہيئے، اسي وجہ سے دونوں ملکوں کے درميان بڑھتے ہوئے فاصلوں کو کم کرنے کے لئے حال ہي ميں بعض دلچسپ فيصلے کئے گئے ہيں۔

 

انيس سو نوے ميں امريکي فوجي امداد بند ہونے کي وجہ سے پاک فوج کے افسروں کي بڑي تعداد کے امريکا سے رابطے نہيں رہے تھے اور وہ امريکي فيصلوں کو شک کي نظر سے ديکھنے لگے، اس شک اور شبہے کو ختم کرنے کے لئے جنرل مولن اور جنرل پيٹرياس نے پاکستان کے بہت سے دورے بھي کئے ہيں جن ميں انہوں نے فوج کے بڑے افسروں سے ملاقاتيں کي ہيں۔ پاک فوج کے سربراہ جنرل اشفاق پرويز کياني اور آئي ايس آئي کے سربراہ ليفٹيننٹ جنرل احمد شجاع پاشا نے گذشتہ ہفتے تين دن تک واشنگٹن ميں امريکي حکام سے ملاقاتيں کي ہيں، اسي طرح پاکستان اور افغانستان کے لئے امريکا کے خصوصي ايلچي رچرڈ ہالبروک نے پاکستان اور افغانستان کے دفاع اور خارجہ کے وزيروں کو واشگنٹن بلايا ہے جہاں اُن کو پاک افغان معاملات پر اوباما انتظاميہ کي پاليسيوں کے بارے ميں بتايا گيا۔ (اب آئندہ بھي اس طرح کي ملاقاتيں ہوتي رہيں گي)۔

 

 گزشتہ ہفتے ان ملاقاتوں ميں دونوں ملکوں کے حکام کو ايک دوسرے سے بہت سي شکايتيں تھيں۔ امريکي حکام کو سوات ميں شريعت کے لئے لبرل مذہبي قوتوں سے معاہدے پر تشويش ہے۔ امريکا اس معاہدے کو مزاحمت کرنے والوں سے فوج کي ہار سمجھتا ہے۔ ادھر پاکستان کو القاعدہ اور طالبان کے ٹھکانوں پر امريکي جاسوس طياروں کے حملوں سے پريشاني ہے جن ميں

 collateral damage ہو رہا ہے اور اس کے نتيجے ميں عوام کے جذبات بھي امريکا کے خلاف ہو رہے ہيں۔

 

 پاکستان نے امريکا سے يہ شکايت بھي کي ہے کہ انہيں ضرورت کے مطابق ہتھيار اور آلات نہيں ديئے گئے ہيں۔ گزشتہ ہفتے انہوں نے سوات ميں طالبان کے ايک کمانڈر کي ريڈيو پر نشريات روکنے کے لئے امريکا سے کوبرا ہيلي کاپٹرز، رات کو ديکھنے والے آلات  اور ٹرانسميشن روکنے والي چيزيں مانگي تھيں۔ امريکا سے چھوٹے جاسوس طيارے بھي مانگے گئے ہيں۔ ملاقاتوں کے نتيجے ميں اچھي باتوں اور تبديلي کے اشارے بھي مل رہے ہيں۔ پاک فوج امريکا کے مزيد ٹرينرز کو قبول کرنے پر رضامند ہو گئي ہے، ليکن اُس کا يہ کہنا ہے کہ اس کے فوجي جوانوں کے پاس دہشت گردوں کا مقابلہ کرنے کے لئے مناسب صلاحيت موجود ہے۔ پاک فوج نے اب تک قبائلي علاقوں ميں جنگجوؤں کے ساتھ لڑائي کا جو طريقہ اختيار کيا ہے وہ بھارت کے ساتھ زميني جنگ کے لئے زيادہ موزوں ہے، اسي طريقے کي وجہ سے وہاں سے بڑي تعداد ميں لوگ نکل کر دوسرے علاقوں ميں چلے گئے ہيں اور ہو سکتا ہے کہ آنے والے دنوں ميں طالبان اپنے علاقے چھوڑ کر دوسري جگہ جانے والوں کو ہي اپنے ساتھ ملا ليں گے۔ (پاکستان نے اس لڑائي سے متاثر ہونے والوں کي امداد کے لئے امريکا سے پندرہ ملين ڈالر مانگے تھے، ليکن حکام نے شکايت کي ہے کہ يہ رقم نہيں ملي)، ليکن اب امريکا کي فوج کے ستر ايڈوائزرز پاک فوج اور پيراملٹري فورسز کو مزاحمت کرنے والوں سے لڑنے کے لئے تربيت دينے کے لئے پاکستان گئے ہوئے ہيں۔ پاکستان امريکا کے ٹرينرز کي تعداد دو گنا کرنا چاہتا ہے اور اس کي يہ بھي خواہش ہے کہ اُس کے زيادہ افسروں کو خصوصي تربيت کے لئے امريکا بھيجا جائے تا کہ ملک کے اندر کسي مسئلے سے بچا جا سکے، اس طرح تربيت حاصل کرنے والے پاکستاني افسر مزيد فوجيوں کو تربيت دے سکيں گے۔ امريکي وار کالجز ميں تربيت کے لئے پاکستاني افسران کي تعداد ميں آہستہ آہستہ اضافہ بھي کيا جائے گا۔ يہ بات بھي بالکل واضح ہو چکي ہے کہ امريکا کي امداد اور ٹيکنيکل مدد سرحدي علاقوں پر خرچ کي جائے گي، اسي طرح شہريوں کے منصوبوں کے لئے امريکا مزيد مالي امداد بھي بھيج رہا ہے۔ يہاں اس بات کے اشارے بھي ملتے ہيں کہ پاکستان کے سيکورٹي ادارے تبديلي کي ضرورت کو سمجھتے ہيں۔ آئي ايس آئي کے چيف احمد شجاع پاشا نے جنوري ميں جرمني کے ايک ميگزين کو انٹرويو ديتے ہوئے کہا ”ہو سکتا ہم پاکستان کے معاملے ميں جذباتي ہوں، ليکن ہم پاگل بالکل نہيں ہيں۔” ہم يہ بات اچھي طرح جانتے ہيں کہ ہمارا دشمن بھارت نہيں بلکہ دہشت گرد ہيں۔ پاکستان نے آخر يہ بات بھي مان ہي لي ہے کہ ممئي حملوں ميں ملوث بعض دہشت گرد پاکستان سے آئے تھے، ليکن اس معاملے ميں حکومت کا ہاتھ کسي طرح بھي نہيں ہے۔ يہ بات بھي واضح ہے کہ اعتماد اتني جلدي قائم نہيں ہوتا ۔ اب جبکہ القاعدہ اور طالبان پاکستان کے اداروں پر دباؤ بڑھا رہي ہيں تو سوال يہ پيدا ہوتا ہے کہ کيا مناسب وقت پر ان اداروں کا اعتماد بحال کيا جا سکتا ہے؟۔

 

Comments (0)

Find Work in USA






  • Bookmark and Share