Tag Archive | "Array"

Tags: , , , , , , , , ,

سوات کی سترہ سالہ لڑکی کی التجائی چیخ

Posted on 07 April 2009 by Ibrahim Sajid Malick

سوات کی سترہ سالہ لڑکی کو کوڑے لگنے اور اس کی التجائی چیخ دنیا بھر میں گونج رہی ہے اور یہ دیکھنے والوں کے رونگٹھے کھڑے کر دینے کے لئے کافی ہے۔ یہاں واشنگٹن میں امریکی انتظامیہ، میڈیا اور سیاسی کارکنوں نے اس ویڈیو کو دیکھ کر شدید افسوس اور پریشانی کا اظہار کیا ہے۔

لیکن افسوس اس بات کا ہے کہ اتنے سارے پاکستانی امریکا میں رہتے ہیں جو کہ ہر دوسرے دن جلسے اور جلوس منعقد کرتے ہیں، لیکن کسی نے بھی اس واقعہ کی مذمت کرتے ہوئے کوئی مظاہرہ نہیں کیا۔

بیوقوفی کا عالم تو یہ ہے کہ ان میں سے کئی اس کو بھی امریکی، یہودی اور ہندوستانی سازش سمجھتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اس سلسلے میں مزید گفتگو کرنا بھی اسلام کو بدنام کرنے کے برابر ہے۔

پاکستانی ٹیلی ویژن کو دیکھیں تو کئی اور مستند بیوقوف اس معصوم لڑکی کو کوڑے مارنے کی سزا کو جائز قرار دے رہے ہیں۔ یقین نہ آئے تو آپ تحریک نفاذ شریعت محمدی کے رہنما مولانا صوفی محمد کا بیان پڑھ لیں۔ موصوف فرماتے ہیں کہ یہ اشتعال انگیز ویڈیو سوات امن معاہدے کو سبوتاژ کرنے کی سازش ہے اور اس میں طالبان نہیں بلکہ بھارتی ہاتھ ہے۔

عینی شاہدین کے حوالے سے چھپنے والے رپورٹس میں بتایا جاتا ہے کہ یہ واقعہ مارچ کے دوسرے ہفتے میں تحصل کبل کے کالا کلی گاؤں میں پیش آیا۔ گاؤں والوں کے مطابق اس لڑکی کے والد نے بجلی ٹھیک کرانے کے لئے الیکٹریشن کو اپنے گھر بلایا تھا۔ ایک طالب ٹھگ نے گلی سے گزرتے ہوئے ایک نوجوان الیکٹریشن کو گھر سے باہر نکلتے دیکھا اور اخذ کر لیا۔ جو کچھ بھی اُس کے گندے اور بیمار ذہن میں آ سکتا تھا اس نے اخذ کر لیا۔

اطلاعات کے مطابق پہلے لڑکے کو کوڑے مارے گئے اور پھر لڑکی کو کوڑے مارے گئے۔ بعد ازاں ’’کوڑے مار‘‘ تقریب ہوئی جسے دیکھنے کے لئے سارے گاؤں کے بیشتر مرد موجود تھے۔ ان دونوں کا زبردستی نکاح کرا دیا گیا۔

اس واقعہ کی تفصیلات اوپر نیچے ہو سکتی ہیں، لیکن اس کے صحیح ہونے کے بارے میں کسی شک و شبہے کی گنجائش نہیں ہے

سماء ٹی وی سے بات کرتے ہوئے ہیومن رائٹس واچ کی ڈائریکٹر کا کہنا تھا کہ انہیں جو اطلاعات مل رہی ہیں اُن کے مطابق طالبان کے ظلم اس سے بھی کہیں زیادہ ہیں۔ اُن کا کہنا تھا کہ شریعت کے نفاذ کے بعد سوات میں سنگسار کئے جانے کی اطلاعات بھی موصول ہوئی ہیں، لیکن اس کے باوجود بھی امریکا میں موجود پاکستانیوں کی سوچ خاصی ناقص ہے۔

ايک پڑھے لکھے صاحب جو کہ ذوالفقار علي بھٹو کي برسي منانے آئے تھے، کہنے لگے کہ اسلام اور مسلمانوں پر اعتراضات کرنے والوں کو ہمارے خلاف پروپيگينڈا کرنے کا موقع مل گيا ہے اور ہميں ان اسلام دشمن عناصر يعنی امریکی میڈیا کو اسلام کو بدنام کرنے کے روکنا چاہیئے۔ تو قبلہ چاہتے ہیں کہ مظاہرہ اُن لوگوں کے خلاف ہو جہوں نے اس معصوم لڑکی کی آواز کو آگے بڑھایا ناں کہ اُن جاہلوں کے خلاف جو کہ ہمارے معاشرے کو صدیوں پیچھے دھکیل رہے ہیں۔

ایک دوسرے صاحب کا خیال تھا کہ بلکہ انہیں یقین تھا کہ یہ واقعہ سوات کے معاہدے سے پہلے پیش آیا اور امریکی اس معاہدے کے خلاف ہیں، لہٰذا یہ سازش کی گئی ہے۔

مسئلہ یہ نہیں ہے کہ یہ واقعہ معاہدے سے پہلے یا بعد میں ہوا۔ مسئلہ یہ بھی نہیں ہے کہ کیا کوئی نامحرم کسی عورت کو کوڑے مار سکتا ہے یا نہیں۔ مسئلہ یہ بھی نہیں ہے کہ یہ لڑکی تھی۔ کیا لڑکے کو مارنا جائز ہے؟۔

افسوس اس بات کا ہے کہ ہمارے ملک کے ماہیا ناز اخبارات اور ٹی وی چینلز اس بحث میں پڑے ہیں کہ اسلام میں کیا جائز ہے اور کیا نہیں۔ ہر کوئی جو اس واقعہ کے خلاف ہے وہ اپنی بات شروع اس طرح کرتا ہے کہ اسلام کتنا پر امن مذہب ہے۔ اس مذہب نے عورتوں کو حقوق دیئے۔ اس طرح کی بحث سے یہ طالبان ٹھگ اور زیادہ مضبوط ہوتے ہیں۔

جی میں نے مان لیا کہ اسلام نے عورتوں کو چودہ سو سال پہلے بہت حقوق دلوائے تھے، لیکن یہ حقوق چودہ سو سال پہلے منجمد بھی ہو گئے۔ اگر آپ مجھ سے یہ بحث کریں کہ عورت کو سعودی عرب میں زیادہ حقوق حاصل ہیں یا اسپین میں تو آپ بحث کرتے کرتے نیلے بھی کیوں ناں پڑ جائیں آپ کسی بھی پڑے لکھے انسان کو راضی نہیں کر سکتے ۔ تو یہ بحث تو چھوڑ دیں مولانا۔

یہ واقعہ تمام پاکستانیوں کے لئے لمحہ فکریہ ہے کہ اس طرح کے واقعات ناں صرف حکومت اور ملک کی بدنامی کا باعث بنتے ہیں بلکہ اس سے سماجی سطح پر خوف و ہراس بھی بڑھتا ہے۔ اور ایک ایسا ملک جس کے عوام خوفزدہ ہوں وہ کبھی ترقی نہیں کر سکتا۔

امریکا میں موجود پاکستانیوں کو چاہیئے کہ وہ پاکستان کی ایمبینسی اور قونصلیٹ کے باہر مظاہرہ کریں اور حکومت پاکستان سے مطالبہ کریں کہ محض مذمتی بیانات جاری کرنے سے کچھ نہیں ہوتا۔ پورے ملک میں اپنی رٹ قائم کی جائے ورنہ اس ملک کی شکل بدل جائے گی۔

Comments (0)

Tags: , , , , , , , , , , , , , ,

ملاؤں کو پوري قوت سے جواب دينا ہو گا

Posted on 09 March 2009 by Ibrahim Sajid Malick

گذشتہ منگل کو جب سري لنکا کي کرکٹ ٹيم دوسرے ٹيسٹ کے تيسرے دن کا کھيل کھيلنے کے لئے لاہور کے ہوٹل سے قذافياسٹيڈيمکےلئےچليتوکھلاڑيوںکيآنکھوںميںجيتےکےکئيخوابسجےتھے۔ شاہد انہيں معلوم ہي نہيں تھا کہ اگلے موڑ پر دہشت اُن کا انتظار کر رہي ہے۔ پھر وہ منحوس لمحہ بھي آيا جب درجن بھر دہشت گردوں نے سري لنکا کي کرکٹ ٹيم پر حملہ کر ديا۔ يہ واقعہ اچانک سامنے نہيں آيا بلکہ اس کے پيچھے باقاعدہ تاريخ ہے۔
اس سے پہلے ملاؤں نے جب سائنس کے اداروں پر حملے کئے تو ہم نے نظريں پھير ليں۔
انہوں نے جب ہمارے آرٹ کو تباہ کيا تو ہم خاموش تماشائي بنے رہے۔
جب اسکول جلائے تو بھي ہم کچھ نہ کر سکے۔
جب ہم نے انہيں پوري قوت سے جواب نہيں ديا تو آج اُن کي ہمت اتني ہو گئي ہے کہ انہوں نے ايک مہمان کرکٹ ٹيم پر پاکستان کے مرکزي شہر لاہور ميں سر عام حملہ کر ديا۔
اب مزيد برداشتکي گنچاشنہيں
وقت آ گيا ہے کہ ہم ملاؤں کے اسلام کو قبول کرنے کے بجائے اسلام کي حقيقي روح کو پہچانيں جو امن، محبت اور خلوص کا سبق ديتا ہے۔
اب وقت آ گيا ہے کہ ہم اپني خاموشي توڑيں اور کھل کر دہشت گردوں کا مقابلہ کريں۔
لاہور ميں سري لنکا کي ٹيم پر بارہ دہشت گردوں کا حملہ اس بات کا ثبوت ہے کہ اب دہشت گرد کسي بھي جگہ پہنچ کر کارروائي کر سکتے ہيں۔
آج يہ تمام پاکستانيوں کي ذمہ داري ہے کہ اسلامي انتہا پسندوں کو مکمل طور پر مسترد کر ديں۔
عہدکرنيں کہان انتہا پسندوں،جہاديعناصراورخودکشبمباروںکواپنيزندگياںتباہکرنےکياجازتنہيںديںگے۔
ہم اپنے معاشرے ميں موجود ايسے لوگوں کو اس بات کي اجازت بالکل نہيں ديں گے کہ وہ اپني کمر سے بم باندھ کر کسي بھي مقام پر خود کو دھماکے سے اڑا ليں اور اس کے نتيجے ميں کئي زندگياں ختم کر ديں۔
ہميں اس بات کا وعدہ کرنا ہو گا کہ ہم ايسے لوگوں کو اپني عورتوں کو پردے کے نام پر قيد کرنے کي اجازت بھي ہر گز نہيںديںگے۔
ہميں فيصلہ کرنا ہو گا کہ ہم ان دہشت گرد لوگوں کو اپنا کلچر، سائنس اور انسانيت کو تباہ کر کے اپنے ملک کو کسي ويرانے ميں تبديل کرنے کي اجازت نہيں ديں گے۔
اب وہ وقت بھي نہيں ہے کہ ہم اپني ہر ناکامي کا ذمہ دار غير ملکي ہاتھ پر ڈال ديں اور پھر اپني ذمہ داري سے الگ ہو جائيں۔ ہميں اپني اندروني ناکاميوں کا ذمہ دار کسي اور کو نہيں ٹھہرانا چاہيئے بلکہ حقيقت يہ ہے کہ ايسے عناصر ہمارے اندر ہي موجود ہيں۔
جہادي عناصر کا مقصد کچھ بھي ہو، ليکن سچ يہ ہے کہ وہ ہمارے ملک کے دشمن ہيں۔ چاہے وہ فلسطيني، لبنان، عراقي، ايراني، افغاني يا کشميري عوام کے لئے لڑ رہے ہوں ليکن يہ بات تو طے ہے کہ وہ پاکستان کو نقصان پہنچا رہے ہيں۔
مجھ سميت زيادہ تو لوگوں نے اپني قسمت کا فيصلہ خود کرنا چھوڑ ديا ہے۔ہماپنےہرروزکےمعاملاتميںزبردستيمذہبکولانےکاسلسلہمستردکرنےکےبجائےملاؤںسےڈرتےرہےہيں۔
آج عہدکرنيںکہ اب ہم اپنے معاشرے کے اندر موجود انتہا پسندوں کے سامنے نہيں جھکيں گے۔
ابوقتآگياہےکہہماپنےآئينکودوبارہسےلکھيں۔ہمارےآئينميںلازميطورپردواصولوںکوشاملکياجاناچاہيئے۔ايکتويہکہمختلفمذہبوںاورفرقوںسےتعلقرکھنےوالےتماملوگقانون،آئيناورحکومتکيپاليسيکےسامنےبرابرہوںگے۔دوسرايہکہمذہباوررياستکوايکدوسرےسےالگہيں۔
ہميںاپنےآئينکوموجودہدورکےمطابقبناتےہوئےاسميںتبديليکرنيچاہيئےہماريسوسائٹيکےمعاملوںميںمذہبکوزبردستيداخلکرنےسےروکاجاناچاہيئے۔
آج ہميں اچھي طرح سمجھ لينا چاہيئے کہ جمہوريت کا مطلب صرف لوگوں کو ووٹ کاسٹ کرنے کا حق دينا ہي نہيں بلکہ اس کے اداروں تک لوگوں کو پہنچ بھي دينا ضروريہے۔
دہشتگردوںکےخلافکارروائيکےلئےصرفسيکورٹيکاانتظامبہتربنانےسےکامنہيںچلےگابلکہيہبھيضروريہےکہپاکستانکےعوامکوانصافدياجائے۔
معاشرتي اور معاشي کاميابي کا نتيجہ تمام لوگوں تک پہنچنا چاہيئے۔
ہم نے اس سے پہلے ايک لمبے عرصے تک جن مسئلوں کي طرف توجہ نہيں دي تو آج ہم اس کا نتيجہ بھي ديکھ رہے ہيں،اسيلئےآجضروريہوگياہےکہہماسباتکواچھيطرحسمجھيںکہترقيکےساتھساتھلوگوںکيبھلائيکےکامبھيکئےجائيںاوراسيطريقےسےانتہاپسنديکےمسئلےکاايساحلنکالاجاسکتاہےجولمبےعرصےتککامکرسکے۔
اب وقت آ گيا ہے کہ حکومت لوگوں کو تعليم دے تا کہ اُن کي سوچ اور زندگي گزارنے کا طريقہ تبديل ہو سکے اور وہ کسي بہتر انداز ميں اچھے شہري بن سکيں۔
آج وقت آ گيا ہے کہ اب ہم زبردستي عقيدوں پر عمل کرنے والوں کو مسترد کر ديں۔اپنيزندگياورمعاشرےکودنياکيذمہداريوںکومحسوسکريںاورنبھانےکيکوششکريں۔
وقتآگياہےکہہممسائلحلکرنےکےلئےسائنسيطريقےاختيارکريںاوراسکيبنياديوجہتلاشکريں۔ہميںلوگوںکيشخصيزندگي،اسکيآزادياورذمہداريکااحساسکرناہوگا۔ہميںانسانيقدروںکومحفوظبنانےاوربرداشتکرنےکوفروغديناہوگا۔
ابوقتآگياہےکہہمتشدداورماردھاڑکومستردکرتےہوئےانچيزوںکےخلافاُٹھکھڑےہوںاوراُنکامقابلہکريںتاکہہماپنينئينسلکيزندگياںمحفوظبناسکيں۔

Comments (1)

Find Work in USA






  • Bookmark and Share