3 Responses

Page 1 of 1
  1. ابوشامل
    ابوشامل October 6, 2009 at 4:34 am |

    بہت اہم اور تفصیلی انٹرویو ہے۔ اس انٹرویو سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ جنوبی ایشیا کے خطے میں تیزی سے آنے والی تبدیلیاں دراصل امریکہ کی توانائی کے عالمی وسائل پر اثر و رسوخ حاصل کرنے کی کوششوں کا حصہ ہیں۔ اگر صرف اس نظر سے دیکھا جائے تو 96ء میں طالبان کی آمد سے لے کر اب تک کی تمام صورتحال واضح ہو جاتی ہے کہ افغانستان میں ایک مستحکم حکومت کا خاتمہ کر کے طالبان سے کس طرح خطے کو ایک دوراہے پر لا کھڑا کیا اور کس طرح امریکہ کو خطے پر اثر و رسوخ قائم کرنے میں مدد دی۔

    پس تحریر یہ کہنا چاہوں گا کہ آپ کا بلاگ بہت منفرد حیثیت رکھتا ہے۔ ایک تجربہ کار صحافی اور دنیا کی سیاست کے قلب میں موجودگی کی حیثیت سے آپ کی انفرادیت میں مزید اضافہ ہو جاتا ہے۔

  2. Subhan
    Subhan October 6, 2009 at 1:05 pm |

    extremely long article!

  3. *ساجد*
    *ساجد* October 7, 2009 at 11:50 pm |

    اپنی کمزور ہوتی معیشت اور بیروزگاری کے باوجود امریکہ ماضی میں کئیے گئے غلط اقدامات کا نا صرف دفاع کر رہا ہے بلکہ ان کو جائز ثابت کرنے کے لئیے بے تحاشا وسائل بھی استعمال کر رہا ہے۔ اب وقت تیزی سے بدل رہا ہے اور اگر امریکہ نے اپنے فیصلوں پہ نظر ثانی نہ کی تو اس کو سوویت یونین جیسے حالات کا سامنا کرنے کے لئیے تیار رہنا ہو گا۔
    معروف تجزیہ کار جناب ہارون الرشید نے بھی سما ٹی وی پہ چند روز قبل یہی کہا تھا کہ امریکی تھنک ٹینکس اور فوجی مشیران اوبامہ کو جو مزید فوج افغانستان میں بھیجنے کا مشورہ دے رہے ہیں وہ طاقت کے گھمنڈ کا مظہر ہے اور امریکہ اپنے ساتھ ساتھ اس خطے کو بھی مزید مشکلات میں پھنسا دے گا۔

Leave a Reply