دنيا ميں چند ہي ترقي پذير ملکوں کي معيشتيں مستحکم ہيں، ليکن موجودہ دور ميں معاشي طور پر مضبوط ملکوں کو بھي کئي مسائل کا سامنا ہے۔ ان مسائل ميں انفرااسٹرکچر اور افرادي قوت کا ناکافي ہونا، پھيلتي ہوئي بدعنواني، اسٹاک مارکيٹوں ميں مندي، کرنسي کو درپيش خطرات اور اجناس پر ضرورت سے زيادہ انحصار شامل ہيں۔ پاکستان ايسا ملک ہے جس کي معيشت ميں يہ تمام کمزورياں موجود ہيں بلکہ اس کو ان سے بھي زيادہ مسائل کا سامنا ہے۔
تاريخي لحاظ سے پاکستان معاشي طور پر کمزور، انتظامي طور پر نااہل اور بدعنوان رياست ہے۔ زراعت کو پاکستاني معيشت ميں ريڑھ کي ہڈي کي حيثيت حاصل ہے۔ يہ شعبہ تقريباً چواليس فيصد لوگوں کو ملازمتيں تو فراہم کرتا ہے، ليکن مجموعي قومي آمدني ميں اس کا شيئر صرف اکيس فيصد ہے۔ معاشي ترقي ميں خدمات کے شعبے کا حصہ ترپن فيصد اور صنعت کا حصہ ستائيس فيصد ہے۔
پاکستان کے معاشي مسائل کي بنيادي وجہ قدرتي وسائل کا ناکافي استعمال ہے۔ ملک کے شمالي علاقوں ميں امن و امان کي ابتر صورتحال سے ترقي کا عمل متاثر ہو رہا ہے۔ صنعتي ترقي کے لئے آمدني ميں اضافے کے ذرائع پيدا کئے بغير پاکستان ضرورت کي ہر چيز درآمد کرنے پر مجبور رہا ہے۔ قرضوں کي نماياں شرح اور تجارتي خسارے جيسے بڑے مسائل بھي اس کے لئے درد سر بنے ہوئے ہيں۔ اگر صرف سال دو ہزار آٹھ کي بات کي جائے تو قومي قرضوں کا حجم جي ڈي پي کے ساٹھ فيصد سے زيادہ جبکہ تجارتي خسارہ جي ڈي پي کا تقريباً نو اعشاريہ تين فيصد تھا۔ اگرچہ زراعت سے کئي ممالک ترقي کي منزليں طے کر رہے ہيں، ليکن پاکستان ميں زرعي شعبہ بھي کوئي خاطر خواہ کارکردگي نہيں دکھا سکا۔ دريائے سندھ سے فائدہ اٹھاتے ہوئے پاکستان دنيا ميں گندم کا گيارہواں بڑا پيداواري ملک بن سکتا تھا، ليکن ملک کي آبادي سولہ کروڑ اسي لاکھ نفوس تک پہنچنے کي وجہ سے خوراک کے لئے بھي درآمد پر ہي انحصار کرنا پڑا رہا ہے۔ پاکستان چاول برآمد کرنے والا پانچواں بڑا اور کپاس برآمد کرنے والا سب سے بڑا ملک ہے، ليکن کئي سال سے سيلابوں نے ان دونوں فصلوں کو شديد نقصان پہنچايا ہے۔ اگر مالي سال دو ہزار آٹھ کا ہي جائزہ ليا جائے تو زرعي شعبے ميں ترقي کي شرح ايک اعشاريہ پانچ فيصد ريکارڈ کي گئي ہے۔
پاکستان کي برآمدات ميں بڑا حصہ ٹيکسٹائل اور کيميکلز کي کم معياري ويليو ايڈڈ مصنوعات پر مشتمل ہے، ليکن ان شعبوں سے منسلک ديگر وسائل سے آمدني بھي تين عشروں سے کم ہو رہي ہے۔ بعض معاملات ميں تو ان شعبوں کے مکمل طور پر ختم ہونے کا خطرہ بھي نظر آنے لگا ہے۔
عالمي تجارتي تنظيم نے ٹيکسٹائل مصنوعات کے لئے مکمل يا کسي حد تک تجارتي قواعد سے مطابقت لازمي قرار دي ہے۔ پاکستان مسابقت ماحول سے زيادہ فائدہ حاصل نہيں ہو سکا کيونکہ چين، بنگلہ ديش ار بھارت باقاعدہ طور پر کم لاگت کي ٹيکسٹائل مصنوعات تيار کر کے فروخت کر رہے ہيں۔
پاکستان ميں اگر کوئي شعبہ ترقي کر رہا ہے تو وہ افغانستان ميں نيٹو افواج کو ايندھن کي فراہمي ميں اس کي اجارہ داري ہے۔ اس کے علاوہ پاکستاني معشيت کے تمام شعبوں کو شديد چيلنجز کا سامنا ہے اور يہ تباہي کي طرف بڑھ رہے ہيں۔ معيشت کي اس بدحالي کے باعث ناں صرف ترقياتي کام متاثر ہو رہے ہيں بلکہ انفرااسٹرکچر، تعليم اور مالياتي شعبوں ميں بھي سرمايہ کاري کم ہو گئي ہے، تاہم دو مرکزي اور بين الاقوامي شہروں کراچي اور لاہور ميں کافي حد تک ترقياتي کام ہوئے ہيں۔ پاکستان ميں سرمائے کا بڑا حصہ بيرون ملک سے آتا ہے اور اس سرمائے تک رسائي کا انحصار بھي کرنسي ريٹس، عالمي معاشي صورتحال اور تيل کي قيمتوں پر ہے۔ يہ وہ عوامل ہيں جن پر حکومت پاکستان کا کوئي اختيار بھي نہيں ہے۔ ملک کو اس وقت سرمائے کے نئے ذرائع کي ضرورت ماضي کي نسبت کہيں زيادہ ہے۔ حاليہ چند سال ميں انفرااسٹرکچر تقريباً تباہ ہو چکا ہے اور ملک بھر ميں بجلي کي چھ گھنٹے تک يوميہ بندش کي جاتي ہے۔ سن دو ہزار آٹھ ميں توانائي اور خوراک کي قيمتوں ميں اضافے نے ملک کو تقريباً ديوالہ پن کے قريب پہنچا ديا ہے۔ رواں مالي سال کي اب تک کي مدت کے دوران خوراک کي اشياء کي قيمتيں گذشتہ سال کي نسبت چھياليس فيصد جبکہ تيل کا درآمدي بل چھپن فيصد بڑھ چکا ہے۔ تمام بڑے شہروں کو خوف و وحشت نے لپيٹ ميں رکھا ہے جبکہ اسلام آباد، لاہور اور کراچي بھي اب محفوظ شہر نہيں رہے۔ اسي وجہ سے غير ملکي اور ختيٰ کہ مقامي سرمايہ کار بھي سرمايہ لگانے کترانے لگے ہيں۔ ملک کي سالانہ في کس آمدني بتيس ڈالر تک کم ہو چکي ہے جبکہ افريقہ کے ممالک ميں في کس آمدني پچاس ڈالر تک ہے۔
پاکستان کي حکومت عوام کو ريليف دينے کيلئے بھي اپني ضرورت کي رقم خرچ کر رہي ہے۔ معاشرتي استحکام کا زيادہ تر انحصار خوراک اور توانائي پر ہے جبکہ ان دونوں کا مہنگائي کي سالانہ شرح ميں حصہ پچيس فيصد ہے۔ سبسڈيز اور جاري فوجي ترقياتي اخراجات کے باعث بجٹ خسارہ جي ڈي پي کے سات اعشاريہ چار فيصد تک پہنچ چکا ہے جو پوري دنيا ميں سب سے زيادہ ہے۔ حاليہ نماياں اخراجات کے بعد پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر پچہتر فيصد کم ہو کر تين ارب پينتاليس کروڑ تک پہنچ چکے ہيں۔ زرمبادلہ کے ذخائر کي يہ ماليت صرف ايک ماہ کے درآمدي بل کے برابر ہے جبکہ قرضوں کي مد ميں ملک ديواليہ ہونے کے قريب پہنچ چکا ہے۔ اگرچہ تيل کي عالمي قيمتوں ميں کمي سے معيشت کو کچھ سہارا ملا ہے، ليکن قرض اتارنے کے بانڈ کے اجراء کي صلاحيت تقريباً ختم ہو چکي ہے۔ صورتحال يہاں تک پہنچ گئي ہے کہ سرمايہ کار پاکستان کي نسبت انتظامي طور پر بہتر کسي بھي دوسرے ملک ميں سرمايہ کاري کو ترجيح دينے لگے ہيں۔
معاشي کارکردگي کے نکتہ نظر سے ايک طرف جغرافيائي اہميت پاکستان کو ديگر ملکوں سے الگ کرتي ہے تو دوسري جانب يہي اس کے لئے معاشي مواقع محدود کرنے کي وجہ بھي ہے۔ کراچي واحد شہر ہے جو کئي وجوہات کے باعث عالمي سطح پر مسابقت کے قابل ہے۔ کراچي ميں ہي ملک کي سب سے بڑي بندرگاہ واقع ہے جہاں سے تمام بڑي جہاز راں کمپنيوں تک رسائي ممکن ہو سکتي ہے۔ دريائے سندھ کے کنارے کا علاقہ دلدل پر مشتمل ہے تو مشرقي علاقے ميں طويل صحرا ہے جبکہ جنوبي علاقہ سنگلاخ چٹانوں پر مشتمل ہے۔۔ اس جغرافيائي تقسيم کے باعث کراچي ملک کي شاہ رگ کا کام کرتي ہے اور بڑي تعداد ميں لوگ روزگار کيلئے بھي اسي شہر کا ہي رخ کرتے ہيں۔
دريائے سندھ کے بالائي حصے ميں بہترين انفرااسٹرکچر تو موجود ہے اور يہاں مربوط ترقي بھي ممکن ہے، ليکن تين وجوہات کي بناء پر يہاں بھي ترقي نہيں ہو سکتي۔ پہلي وجہ يہ ہے کہ يہاں کي زيادہ تر آبادي کا انحصار زراعت پر ہے جس کے باعث دريائے سندھ ميں پاني کي سطح کم ہو جاتي ہے اور يہ صرف چھوٹے بحري جہازوں کيلئے کارآمد ہو سکتا ہے۔ ريل اور سڑک کے مہنگے ذرائع آمد و رفت کي وجہ بھي يہ علاقہ کراچي سے تقريباً کٹ جاتا ہے۔۔ ترقي نہ ہونے کي ايک اور وجہ اس علاقے کي تجارت کے لئے بھارت کے سوا کوئي دوسرا راستہ نہ ہونا ہے۔ پاکستان اور بھارت کے درميان کشيدگي اس علاقے کي ترقي ميں سب سے بڑي رکاوٹ ہے۔ آخري اور سب سے بڑي وجہ يہ ہے کہ دريائے سندھ کا پاني پاکستان کے کنٹرول ميں نہيں ہے بلکہ پاني کے ديگر بڑے وسائل بھي پاکستان کے بجائے بھارت کے زير انتظام ہيں۔ بھارت ان درياؤں کو بجلي پيدا کرنے اور طاقت کا توازن برقرار رکھنے کي غرض سے اپنے مقصد کے لئے استعمال کرتا ہے۔ پاکستان کي باقي آبادي صوبہ سرحد اور وفاق کے زير انتظام پہاڑي علاقوں ميں مقيم ہے۔ يہ وہ علاقے ہيں جہاں حالات بہتر نہ ہونے تک ترقي نہيں ہو سکتي۔ کراچي کے علاوہ پاکستان کي ترقي اُس وقت تک ناممکن ہے جب تک بھارت کے ساتھ تنازعات کو کسي طرح سے طے نہيں کر ليا جاتا۔
ان حالات کو ديکھ کر يہ سوال پيدا ہوتا ہے کہ پاکستان کي بقاء کيسے ممکن ہے۔ اس سوال کا جواب بہت آسان ہے کہ کيا حکومت پاکستان ترقي کيلئے کوئي نيا راستہ تلاش کر پاتي ہے۔ پاکستان کو ترقي کے لئے جغرافيائي اہميت کو مدنظر رکھتے ہوئے سياسي استحکام کے ساتھ ساتھ امن و امان کي صورتحال بھي بہتر بنانا ہو گي۔
جغرافيائي مسائل ترقي ميں رکاوٹ کے ساتھ ساتھ ترقي کي نئي راہيں بھي کھول سکتے ہيں۔ پاکستان کئي ملکوں، ثقافتوں اور مذاہب کے سنگم پر واقع ہے۔ بعض اوقات يہ عوامل حکومت کے لئے مسائل بھي کھڑے کرتے ہيں، ليکن يہي عوامل اس کي اہميت کو بھي زيادہ کر ديتے ہيں کيونکہ پاکستان کے ہمسايہ ملک اپنے مفادات کے تحت اس کو ناکام نہيں ديکھنا چاہتے۔
برطانيہ کي جانب سے سفارتي اور معاشي تعاون کے باعث پاکستان اور بھارت کے درميان طاقت کا توازن برقرار ہے۔ پھر ايٹمي ٹيکنالوجي کے شعبے ميں تعاون سميت چين کي بھر پور حمايت کے باعث پاکستان۔۔ بھارت جيسي طاقت کے سامنے مضبوطي سے کھڑا ہے۔ عرب ملکوں کي حمايت کے باعث بھي پاکستان کافي پراعتماد ہے۔ سب سے بڑھ کر يہ کہ پاکستان کو سرد جنگ کے دوران شروع ہونے والي امريکي حمايت آج اسلامي انتہا پسندوں کے ساتھ جنگ کي صورت ميں حاصل ہے۔
اگر پاکستان اپني جغرافيائي اہميت سے فائدہ اٹھانے ميں کامياب ہو جاتا ہے تو اس کا مطلب يہ ہو گا کہ کئي عشروں سے کئے جانے والے معاشي فيصلے درست نہيں تھے۔ پاکستان کو لچک دار سيکورٹي پاليسيوں سے ہي اپني جغرافيائي اہميت کو اجاگر نہيں کرنا بلکہ مالياتي ذمہ دارياں بھي ادا کرني ہيں۔ اس کا اظہار حال ہي ميں اُس وقت ہوا ہے جب امريکي سينٹرل کمانڈ کے سربراہ جنرل ڈيوڈ پيٹرياس کے علاوہ کسي بھي ملک نے آئي ايم ايف سے پاکستان کو نومبر ميں سات اعشاريہ چھ ارب ڈالر کا قرض دلانے کے لئے مداخلت نہيں کي۔ آئي ايم ايف کے اس قرضے کے لئے پاکستان مطلوبہ اہليت پر پورا نہيں اترتا تھا۔ سعودي عرب اور متحدہ عرب امارات نے بھي دو ارب ڈالر کا قرض ديا ہے جبکہ چين نے پانچ سو ملين ڈالر اور ايشيائي ترقياتي بينک نے تين سو ملين ڈالر کا قرض فراہم کيا ہے۔ يہ تمام رقم گذشتہ چند ہفتوں کے دوران پاکستان کو فراہم کي گئي ہے۔ اگرچہ يہ تمام امداد وقتي طور پر تو پاکستاني معيشت کو سہارا دے گي، ليکن مستقبل ميں معاشي عدم استحکام کا خطرہ موجود رہے گا۔
پاکستاني معشيت کو کئي مسائل کا سامنا ہے اور اب وقت آن پہنچا ہے کہ معاشي استحکام کے لئے فوجي اخراجات اور سبسڈي کم کرنے سميت تمام ضروري ٹھوس اقدامات کئے جائيں۔
اس وقت پاکستان کے لئے سب سے بڑا خطرہ دنيا کا اس سے دور ہونا ہے اور يہي وجہ جغرافياتي اہميت سے فائدہ اٹھانے ميں اس کے لئے مشکل پيدا کر سکتي ہے۔ امريکا يہ سمجھتا ہے کہ پاکستان افغانستان ميں مزاحمت کا اُتنا ہي ذمہ دار ہے جتنا اس مسلئے کے حل ميں مدد گار ثابت ہو سکتا ہے۔ عالمي مارکيٹ ميں پانچ ماہ کے دوران تيل کي قيمتيں ايک سو ڈالر کم ہونے کے باعث عرب ملکوں کي جانب سے فنڈز کي فراہمي بھي متاثر ہو سکتي ہے۔ ادھر اسلامي انتہا پسندوں کي کارروائياں چين کے مغربي صوبے تک پہنچ چکي ہيں جس کے باعث وہ بھي پاکستان کے ساتھ تعلقات پر نظر ثاني کر رہا ہے۔ ان تمام عوامل کے نتيجے ميں فنڈز کي فراہمي مکمل طور پر رک تو نہيں سکتي، ليکن پاکستان کي حمايت کم ہوتي چلي جائے گي۔ بيروني حمايت کے بغير پاکستان کي حکومت کو اپني بقاء کے لئے خود ہي کچھ کرنا ہو گا ليکن ماضي پر نظر دوڑائيں تو پتا چلتا ہے کہ پاکستان کبھي بھي اپنے طور پر کچھ نہيں کر سکا ہے۔