حالیہ تجزیوں سے ثابت ہوا ہے کہ نہ صرف شمالی امریکا بلکہ دنیا بھر میں مُشترک قومیت یا ثقافتی روایات رکھنے والے میڈیا یا نسل کی بنیاد پر ذرائع ابلاغ نے تیزی سے ترقی اور کامیابی کی مزلیں طے کی ہیں۔ اس میڈیا میں خصوصی پروگرامز، مطبوعات اور اشاعتی مواد اور پروموشن کی دیگر چیزیں شامل ہیں۔ اسی ذریعے کسی مُشترک قومیت یا ثقافتی روایات رکھنے والے گروپ یاکسی خاص نسل کے گروہ کی ثقافت سے متعلق پیغام پہنچایا جاتا ہے۔
ماضی میں تو میڈیا کے اعلیٰ حکام اس مفروضے پر چلتے رہے ہیں کہ وہ ناظرین کی اکثریت کے لیے تیار کیے گئے پیغامات اور صف اول کے میڈیا کے ذریعے ہی مشترک ثقافتی روایات رکھنے والی اقلیت تک اپنے مطلب کی بات پہنچا سکتے ہیں، تاہم اب صورتحال بدل گئی ہے۔ اب اقلیتی برادریوں کی بڑھتی ہوئی تعداد اور قوت خرید کے باعث میڈیا بھی اُن کے بارے میں بہتر سوچ اپنانے لگا ہے۔ اقلیتی برادریوں کی ثقافت سے متعلق میڈیا اور پیغامات کے ذریعے بھی اُن تک پہنچنے کی زبردست کوششیں کی جاتی رہی ہیں۔
تحقیق سے یہ بات واضح ہو گئی ہے کہ صف اول کے میڈیا کے بجائے اقلیتی برادری کا میڈیا اقلیتی گروپس تک پہنچنے اور پیغام پہنچانے کا موثر ترین ذریعہ ثابت ہو سکتا ہے۔ حال ہی میں نیو امریکن میڈیا فاؤنڈیشن نے بتایا ہے کہ کسی مخصوص ثقافت کا میڈیا اپنی کمیونیٹی کے 84 فیصد افراد تک پہنچنے میں کامیاب رہتا ہے۔ ان اقلیتوں میں سیاح فام، ہسپانوی اور ایشیائی نژاد امریکی شہری ہیں۔ اسی فیصد سے زائد اقلیتی برادریوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ وہ زیادہ تر معلومات اپنے ہی کسی مخصوص ثقافت کے ٹی وی، ریڈیو اور دیگر اشاعتی مواد سے حاصل کرتے ہیں۔ اسی طرح دو تہائی افراد کا کہناہے کہ وہ صف اول کے ذرائع ابلاغ کے بجائے کسی اقلیتی میڈیا کو ترجیح دیتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اقلتیی میڈیا اپنے ہی گروپس کے مسائل اجاگر کرتا ہے۔
1996 میں نیو یارک ٹائمز نے ‘‘صف اول کے اخبارت کی تعداد کم ہو رہی ہے، اقلیتی پریس فروغ پا رہا ہے۔’’ کے عنوان سے ایک اسٹوری شائع کی تھی۔ آپ کی سہولت کے لیے اس کا لنک حاضر خدمت ہے۔
نیو یارک ٹائمز 22 جولائی 1996 کو لکھتا ہے کہ ‘‘ساؤتھ ایشین میڈیا وائس کے صدر ابراہیم ملک مین ہٹن میں ایک ادارے کے جیسا کردار ادا کر رہے ہیں اور ایشیاء اور عرب کمیونیٹز کی نمائندگی کرتے ہوئے اُن کے مسائل اجاگر کر رہے ہیں۔’’ یہ مہاجرین نہ صرف خاموش انداز میں ریونیو کا بڑا حصہ پیدا کرتے ہیں بلکہ مردم شماری سے پتا چلتا ہے کہ ان کے کچھ طبقات عام عوام سے زیادہ تعلیم یافتہ اور دولت مند بھی ہیں۔
جی ہاں، نیو یارک ٹائمز نے اسی عاجز کا ذکر ہے جس کی تحریر آپ اس وقت پڑھ رہے ہیں۔ پندرہ سال گزر گئے اور آج بھی یہ ہیڈ لائن ‘‘صف اول کے اخبارت کی تعداد کم ہو رہی ہے، اقلیتی پریس فروغ پا رہا ہے’’ دوبارہ اسی طرح لکھی جا سکتی ہے۔ کچھ سال پہلے میں نے بڑی ٹیلی کمیونیکیشن کمپنیوں اور فنانشنل سروسز کو تجویز دی تھی کہ وہ کس طرح جنوبی ایشیاء کی مارکیٹ سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ مجھے خوشی ہے کہ میرے بعض ساتھی اب ترقی کی منزلیں طے کر رہے ہیں اور مشکل وقت میں بھی ان اقلیتی میڈیا گروپس نے اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے۔
لیکن میں اُن اردو اخبارات سے خوش نہیں ہوں جو یہاں ہماری نمائندگی کا دعویٰ کرتے ہوئے خود کو پاکستانی نژاد امریکی کہلاتے ہیں۔ کسی بھی اقلیتی میڈیا کی یہ ذمہ داری ہوتی ہے کہ وہ اپنی کمیونٹی کے دکھ سکھ میں برابر شریک ہو اور مشکل وقت میں اُن کا درد بانٹے۔ بدقستمی سے یہ اخبارات اپنی کمیونیٹی کی خوشیوں میں تو شامل ہوتے ہیں، لیکن دیار غیر میں اپنوں کا دکھوں میں شامل ہونا بھول جاتے ہیں۔
یہ پاکستانی نژاد امریکی اخبارات عید شوز اور پریڈ وغیرہ زور و شور سے کرتے ہیں۔ پریس کانفرنسیں، مشاعرے اور ثقافتی ایونٹس کا بھی اہتمام ہوتا ہے، لیکن یہ آپ کو احتجاج، مظاہروں، عدالتی سماعتوں، ہنگامی حالات یا کسی ہم وطن کو ملک بدر کرنے کی کارروائی میں نظر نہیں آئیں گے۔
اس کی ایک مثال پیر 11 جنوری 2010 کو بھی سامنے آئی جب ڈاکٹر عافیہ صدیقی کو مقدمے سے پہلے عدالت لایا گیا۔ ماضی کی طرح اُس روز بھی ان اخبارات کا کوئی نمائندہ وہاں موجود نہیں تھا۔
لوہر مین ہٹن میں فہد ہاشمی کے حق کے لیے ہر شام چھ سے سات بجے تک لوہر مین ہٹن میں میٹروپولیٹن کوریکشنل سینٹر کے سامنے ہوتا ہے، لیکن کیا آپ کو پتا ہے کہ اس کو کون اسپانسر کرتا ہے؟۔ یہاں کوئی ایک پاکستانی تنظیم بھی نظر نہیں آتی اور اس کی وجہ یہ ہے کہ ہمارا لوکل پاکستانی میڈیا اس کو کوریج نہیں دیتا۔ اس ہفتہ وار تقریب کو Theaters Against War (THAW), نامی تنظیم اسپانسر کرتی ہے ۔ ہر ہفتے کچھ سخت جان قسم کے حامی خراب موسم کے باجود یہاں جمع ہو کر اپنے عزم کا اظہار کرتے ہیں۔
لیکن پاکستانی پریس موجود نہیں ۔ مجھے سمجھ نہیں آتا کہ پاکستانی میڈیا خوف کے مارے چپ ہے یا کاہلی کا مظاہرہ کر رہا ہے۔ میں یہ نہیں کہتا کہ آپ ان لوگوں کی حمایت کریں، لیکن کیا انصاف پر مبنی رپورٹنگ آپ کا فرض نہیں ہے۔ کیا انہیں یہ سوال نہیں اٹھانا چاہیے کہ فہد ہاشمی کا مقدمہ ایک بار پھر کیوں ملتوی کیا جا رہا ہے۔ کیا انہیں نہیں پوچھنا چاہیے کہ اسے کیوں قید تنہائی میں ڈالا گیا ہے۔ کیا وہ یہ سوال نہیں اٹھا سکتے کہ فہد ہاشمی کو دیگر قیدیوں کے ساتھ رابطے کیوں نہیں کرنے دیا جا رہا، اسے سورج کی روشنی کیوں نہیں ملتی، تازہ ہوا کیوں نہیں دیتے۔ کسی سے بات کرنے کی اجازت کیوں نہیں، اُسے کوئی ریڈیو دستیاب ہے اور نہ ٹی وی، اخبار میسیر ہے اور نہ اُسے کوئی خط مل سکتا ہے۔ دو ہفتوں میں صرف ایک بار گھر والے یا وکیل کو اُس سے ملنے کی اجازت ہے۔ ڈھائی سال کی قید میں وہ پنجرے کے اندر رہتے ہوئے صرف ایک گھنٹہ ورزش کر سکتا ہے ۔
سب سے اہم بات یہ ہے کہ جیکسن ہائیٹس پر سینہ چوڑا اور سر فخر سے بلند کر کے چلنے اور اپنی کمیونٹی کے چیمپئن کہلانے والے ہمارے پاکستانی صحافی یہ کیوں پوچھتے کہ فعد ہاشمی پر کسی بھی الزام میں فرم جرم کیوں عائد نہیں کی گئی۔
امریکا میں انصاف کے نظام پر مجھے یقین ہے۔ میں جانتا ہوں کہ اُسے عدالت میں پیش کیا جائے گا۔ صحافی کی حیثیت سے ہو سکتا ہے کہ ہم کسی حمایت نہیں کرتے ہوں، لیکن کم از کم ہمیں وہ سب کچھ چھپانا تو نہیں چاہیے جس کی وجہ سے دوسرے تکلیف میں مبتلا ہیں۔
اگر ہمارا لوکل پاکستانی میڈیا صرف شادی بیاہ، مہندی اور ولیموں یا پھر سازشی گٹھ جوڑ کی رپورٹنگ کرتا رہا تو کیا پھر ہم اُسے اپنی کمیونٹی کا نمائندہ اور دکھ سکھ کا ساتھی سمجھتے رہیں گے۔؟
Ibrahim Sajid Malick is a Pakistani-American writer, technologist, and social entrepreneur. He has been writing on Pakistani society and politics since 1986. He has held several media, communications, and technology positions for organizations large and small. Mr. Malick graduated from New School for Social Research with a master’s degree in anthropology. He holds several technology and management certifications. He works for a leading technology firm and blogs at www.ibrahimsajidmalick.com