Categorized | Uncategorized

يہاں بچے کھيلنے آتے تھے A Poem by Malik Akhtar Rashid

Posted on 09 March 2009 by Ibrahim Sajid Malick

 يہاں بچے کھيلنے آتے تھے

خوش ہوتے شور مچاتے تھے

سہ پہروں اور شاموں کي آوازوں ميں

ہم بھوک اور گرمي بھول کے گانے گاتے تھے

 
يہاں بچے کھيلنے آتے تھے
 

آج يہاں خاموشي ہے بچوں کا کوئي کھيل نہيں

اب کھيل ہے بندوقوں کا

اس کھيل ميں کوئي جيتا نہيں

سب جيتنے والے ہارے ہيں

ظالم کے بھي اوپر ديکھو

ظالم آنے والے ہیں

Leave a Reply

Click here to type in Urdu ( click again to disable)

Find Work in USA






  • Bookmark and Share