گذشتہ منگل کو جب سري لنکا کي کرکٹ ٹيم دوسرے ٹيسٹ کے تيسرے دن کا کھيل کھيلنے کے لئے لاہور کے ہوٹل سے قذافياسٹيڈيمکےلئےچليتوکھلاڑيوںکيآنکھوںميںجيتےکےکئيخوابسجےتھے۔ شاہد انہيں معلوم ہي نہيں تھا کہ اگلے موڑ پر دہشت اُن کا انتظار کر رہي ہے۔ پھر وہ منحوس لمحہ بھي آيا جب درجن بھر دہشت گردوں نے سري لنکا کي کرکٹ ٹيم پر حملہ کر ديا۔ يہ واقعہ اچانک سامنے نہيں آيا بلکہ اس کے پيچھے باقاعدہ تاريخ ہے۔
اس سے پہلے ملاؤں نے جب سائنس کے اداروں پر حملے کئے تو ہم نے نظريں پھير ليں۔
انہوں نے جب ہمارے آرٹ کو تباہ کيا تو ہم خاموش تماشائي بنے رہے۔
جب اسکول جلائے تو بھي ہم کچھ نہ کر سکے۔
جب ہم نے انہيں پوري قوت سے جواب نہيں ديا تو آج اُن کي ہمت اتني ہو گئي ہے کہ انہوں نے ايک مہمان کرکٹ ٹيم پر پاکستان کے مرکزي شہر لاہور ميں سر عام حملہ کر ديا۔
اب مزيد برداشتکي گنچاشنہيں
وقت آ گيا ہے کہ ہم ملاؤں کے اسلام کو قبول کرنے کے بجائے اسلام کي حقيقي روح کو پہچانيں جو امن، محبت اور خلوص کا سبق ديتا ہے۔
اب وقت آ گيا ہے کہ ہم اپني خاموشي توڑيں اور کھل کر دہشت گردوں کا مقابلہ کريں۔
لاہور ميں سري لنکا کي ٹيم پر بارہ دہشت گردوں کا حملہ اس بات کا ثبوت ہے کہ اب دہشت گرد کسي بھي جگہ پہنچ کر کارروائي کر سکتے ہيں۔
آج يہ تمام پاکستانيوں کي ذمہ داري ہے کہ اسلامي انتہا پسندوں کو مکمل طور پر مسترد کر ديں۔
عہدکرنيں کہان انتہا پسندوں،جہاديعناصراورخودکشبمباروںکواپنيزندگياںتباہکرنےکياجازتنہيںديںگے۔
ہم اپنے معاشرے ميں موجود ايسے لوگوں کو اس بات کي اجازت بالکل نہيں ديں گے کہ وہ اپني کمر سے بم باندھ کر کسي بھي مقام پر خود کو دھماکے سے اڑا ليں اور اس کے نتيجے ميں کئي زندگياں ختم کر ديں۔
ہميں اس بات کا وعدہ کرنا ہو گا کہ ہم ايسے لوگوں کو اپني عورتوں کو پردے کے نام پر قيد کرنے کي اجازت بھي ہر گز نہيںديںگے۔
ہميں فيصلہ کرنا ہو گا کہ ہم ان دہشت گرد لوگوں کو اپنا کلچر، سائنس اور انسانيت کو تباہ کر کے اپنے ملک کو کسي ويرانے ميں تبديل کرنے کي اجازت نہيں ديں گے۔
اب وہ وقت بھي نہيں ہے کہ ہم اپني ہر ناکامي کا ذمہ دار غير ملکي ہاتھ پر ڈال ديں اور پھر اپني ذمہ داري سے الگ ہو جائيں۔ ہميں اپني اندروني ناکاميوں کا ذمہ دار کسي اور کو نہيں ٹھہرانا چاہيئے بلکہ حقيقت يہ ہے کہ ايسے عناصر ہمارے اندر ہي موجود ہيں۔
جہادي عناصر کا مقصد کچھ بھي ہو، ليکن سچ يہ ہے کہ وہ ہمارے ملک کے دشمن ہيں۔ چاہے وہ فلسطيني، لبنان، عراقي، ايراني، افغاني يا کشميري عوام کے لئے لڑ رہے ہوں ليکن يہ بات تو طے ہے کہ وہ پاکستان کو نقصان پہنچا رہے ہيں۔
مجھ سميت زيادہ تو لوگوں نے اپني قسمت کا فيصلہ خود کرنا چھوڑ ديا ہے۔ہماپنےہرروزکےمعاملاتميںزبردستيمذہبکولانےکاسلسلہمستردکرنےکےبجائےملاؤںسےڈرتےرہےہيں۔
آج عہدکرنيںکہ اب ہم اپنے معاشرے کے اندر موجود انتہا پسندوں کے سامنے نہيں جھکيں گے۔
ابوقتآگياہےکہہماپنےآئينکودوبارہسےلکھيں۔ہمارےآئينميںلازميطورپردواصولوںکوشاملکياجاناچاہيئے۔ايکتويہکہمختلفمذہبوںاورفرقوںسےتعلقرکھنےوالےتماملوگقانون،آئيناورحکومتکيپاليسيکےسامنےبرابرہوںگے۔دوسرايہکہمذہباوررياستکوايکدوسرےسےالگہيں۔
ہميںاپنےآئينکوموجودہدورکےمطابقبناتےہوئےاسميںتبديليکرنيچاہيئےہماريسوسائٹيکےمعاملوںميںمذہبکوزبردستيداخلکرنےسےروکاجاناچاہيئے۔
آج ہميں اچھي طرح سمجھ لينا چاہيئے کہ جمہوريت کا مطلب صرف لوگوں کو ووٹ کاسٹ کرنے کا حق دينا ہي نہيں بلکہ اس کے اداروں تک لوگوں کو پہنچ بھي دينا ضروريہے۔
دہشتگردوںکےخلافکارروائيکےلئےصرفسيکورٹيکاانتظامبہتربنانےسےکامنہيںچلےگابلکہيہبھيضروريہےکہپاکستانکےعوامکوانصافدياجائے۔
معاشرتي اور معاشي کاميابي کا نتيجہ تمام لوگوں تک پہنچنا چاہيئے۔
ہم نے اس سے پہلے ايک لمبے عرصے تک جن مسئلوں کي طرف توجہ نہيں دي تو آج ہم اس کا نتيجہ بھي ديکھ رہے ہيں،اسيلئےآجضروريہوگياہےکہہماسباتکواچھيطرحسمجھيںکہترقيکےساتھساتھلوگوںکيبھلائيکےکامبھيکئےجائيںاوراسيطريقےسےانتہاپسنديکےمسئلےکاايساحلنکالاجاسکتاہےجولمبےعرصےتککامکرسکے۔
اب وقت آ گيا ہے کہ حکومت لوگوں کو تعليم دے تا کہ اُن کي سوچ اور زندگي گزارنے کا طريقہ تبديل ہو سکے اور وہ کسي بہتر انداز ميں اچھے شہري بن سکيں۔
آج وقت آ گيا ہے کہ اب ہم زبردستي عقيدوں پر عمل کرنے والوں کو مسترد کر ديں۔اپنيزندگياورمعاشرےکودنياکيذمہداريوںکومحسوسکريںاورنبھانےکيکوششکريں۔
وقتآگياہےکہہممسائلحلکرنےکےلئےسائنسيطريقےاختيارکريںاوراسکيبنياديوجہتلاشکريں۔ہميںلوگوںکيشخصيزندگي،اسکيآزادياورذمہداريکااحساسکرناہوگا۔ہميںانسانيقدروںکومحفوظبنانےاوربرداشتکرنےکوفروغديناہوگا۔
ابوقتآگياہےکہہمتشدداورماردھاڑکومستردکرتےہوئےانچيزوںکےخلافاُٹھکھڑےہوںاوراُنکامقابلہکريںتاکہہماپنينئينسلکيزندگياںمحفوظبناسکيں۔
Ibrahim Sajid Malick is a Pakistani-American writer, technologist, and social entrepreneur. He has been writing on Pakistani society and politics since 1986. He has held several media, communications, and technology positions for organizations large and small. Mr. Malick graduated from New School for Social Research with a master’s degree in anthropology. He holds several technology and management certifications. He works for a leading technology firm and blogs at www.ibrahimsajidmalick.com
Ibrahim Malick Sb it is pointed out in your precious column, …..I remember the Kabul of 1988-89, when Dr. Najibullah still ruled after Soviet withdrawal. It was a city ravaged by war but still a beautiful place where men and women freely walked the streets. I remember meeting a gorgeous young woman name Zoya who was training to be a pilot. Another woman, a Kabul Radio anchor with eyes deeper than Lake George, and another, the smartest doctor I have ever seen in my life who worked at the local Kabul hospital. Would I be able to even see those women now? I remember schools where boys and girls sat together to learn math and science. I remember a state that was almost a nation, a nation as defined by my graduate school professor, Partha Chatterjee………. But why our ISI, MI and Emperialist World was in fear from Afghanistan? The World was one side but ISI and Punjabi Factor was the most iterested one in that so ISI and Punjabi Establishment are to pay the bill ………