سوات کی سترہ سالہ لڑکی کو کوڑے لگنے اور اس کی التجائی چیخ دنیا بھر میں گونج رہی ہے اور یہ دیکھنے والوں کے رونگٹھے کھڑے کر دینے کے لئے کافی ہے۔ یہاں واشنگٹن میں امریکی انتظامیہ، میڈیا اور سیاسی کارکنوں نے اس ویڈیو کو دیکھ کر شدید افسوس اور پریشانی کا اظہار کیا ہے۔
لیکن افسوس اس بات کا ہے کہ اتنے سارے پاکستانی امریکا میں رہتے ہیں جو کہ ہر دوسرے دن جلسے اور جلوس منعقد کرتے ہیں، لیکن کسی نے بھی اس واقعہ کی مذمت کرتے ہوئے کوئی مظاہرہ نہیں کیا۔
بیوقوفی کا عالم تو یہ ہے کہ ان میں سے کئی اس کو بھی امریکی، یہودی اور ہندوستانی سازش سمجھتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اس سلسلے میں مزید گفتگو کرنا بھی اسلام کو بدنام کرنے کے برابر ہے۔
پاکستانی ٹیلی ویژن کو دیکھیں تو کئی اور مستند بیوقوف اس معصوم لڑکی کو کوڑے مارنے کی سزا کو جائز قرار دے رہے ہیں۔ یقین نہ آئے تو آپ تحریک نفاذ شریعت محمدی کے رہنما مولانا صوفی محمد کا بیان پڑھ لیں۔ موصوف فرماتے ہیں کہ یہ اشتعال انگیز ویڈیو سوات امن معاہدے کو سبوتاژ کرنے کی سازش ہے اور اس میں طالبان نہیں بلکہ بھارتی ہاتھ ہے۔
عینی شاہدین کے حوالے سے چھپنے والے رپورٹس میں بتایا جاتا ہے کہ یہ واقعہ مارچ کے دوسرے ہفتے میں تحصل کبل کے کالا کلی گاؤں میں پیش آیا۔ گاؤں والوں کے مطابق اس لڑکی کے والد نے بجلی ٹھیک کرانے کے لئے الیکٹریشن کو اپنے گھر بلایا تھا۔ ایک طالب ٹھگ نے گلی سے گزرتے ہوئے ایک نوجوان الیکٹریشن کو گھر سے باہر نکلتے دیکھا اور اخذ کر لیا۔ جو کچھ بھی اُس کے گندے اور بیمار ذہن میں آ سکتا تھا اس نے اخذ کر لیا۔
اطلاعات کے مطابق پہلے لڑکے کو کوڑے مارے گئے اور پھر لڑکی کو کوڑے مارے گئے۔ بعد ازاں ’’کوڑے مار‘‘ تقریب ہوئی جسے دیکھنے کے لئے سارے گاؤں کے بیشتر مرد موجود تھے۔ ان دونوں کا زبردستی نکاح کرا دیا گیا۔
اس واقعہ کی تفصیلات اوپر نیچے ہو سکتی ہیں، لیکن اس کے صحیح ہونے کے بارے میں کسی شک و شبہے کی گنجائش نہیں ہے
سماء ٹی وی سے بات کرتے ہوئے ہیومن رائٹس واچ کی ڈائریکٹر کا کہنا تھا کہ انہیں جو اطلاعات مل رہی ہیں اُن کے مطابق طالبان کے ظلم اس سے بھی کہیں زیادہ ہیں۔ اُن کا کہنا تھا کہ شریعت کے نفاذ کے بعد سوات میں سنگسار کئے جانے کی اطلاعات بھی موصول ہوئی ہیں، لیکن اس کے باوجود بھی امریکا میں موجود پاکستانیوں کی سوچ خاصی ناقص ہے۔
ايک پڑھے لکھے صاحب جو کہ ذوالفقار علي بھٹو کي برسي منانے آئے تھے، کہنے لگے کہ اسلام اور مسلمانوں پر اعتراضات کرنے والوں کو ہمارے خلاف پروپيگينڈا کرنے کا موقع مل گيا ہے اور ہميں ان اسلام دشمن عناصر يعنی امریکی میڈیا کو اسلام کو بدنام کرنے کے روکنا چاہیئے۔ تو قبلہ چاہتے ہیں کہ مظاہرہ اُن لوگوں کے خلاف ہو جہوں نے اس معصوم لڑکی کی آواز کو آگے بڑھایا ناں کہ اُن جاہلوں کے خلاف جو کہ ہمارے معاشرے کو صدیوں پیچھے دھکیل رہے ہیں۔
ایک دوسرے صاحب کا خیال تھا کہ بلکہ انہیں یقین تھا کہ یہ واقعہ سوات کے معاہدے سے پہلے پیش آیا اور امریکی اس معاہدے کے خلاف ہیں، لہٰذا یہ سازش کی گئی ہے۔
مسئلہ یہ نہیں ہے کہ یہ واقعہ معاہدے سے پہلے یا بعد میں ہوا۔ مسئلہ یہ بھی نہیں ہے کہ کیا کوئی نامحرم کسی عورت کو کوڑے مار سکتا ہے یا نہیں۔ مسئلہ یہ بھی نہیں ہے کہ یہ لڑکی تھی۔ کیا لڑکے کو مارنا جائز ہے؟۔
افسوس اس بات کا ہے کہ ہمارے ملک کے ماہیا ناز اخبارات اور ٹی وی چینلز اس بحث میں پڑے ہیں کہ اسلام میں کیا جائز ہے اور کیا نہیں۔ ہر کوئی جو اس واقعہ کے خلاف ہے وہ اپنی بات شروع اس طرح کرتا ہے کہ اسلام کتنا پر امن مذہب ہے۔ اس مذہب نے عورتوں کو حقوق دیئے۔ اس طرح کی بحث سے یہ طالبان ٹھگ اور زیادہ مضبوط ہوتے ہیں۔
جی میں نے مان لیا کہ اسلام نے عورتوں کو چودہ سو سال پہلے بہت حقوق دلوائے تھے، لیکن یہ حقوق چودہ سو سال پہلے منجمد بھی ہو گئے۔ اگر آپ مجھ سے یہ بحث کریں کہ عورت کو سعودی عرب میں زیادہ حقوق حاصل ہیں یا اسپین میں تو آپ بحث کرتے کرتے نیلے بھی کیوں ناں پڑ جائیں آپ کسی بھی پڑے لکھے انسان کو راضی نہیں کر سکتے ۔ تو یہ بحث تو چھوڑ دیں مولانا۔
یہ واقعہ تمام پاکستانیوں کے لئے لمحہ فکریہ ہے کہ اس طرح کے واقعات ناں صرف حکومت اور ملک کی بدنامی کا باعث بنتے ہیں بلکہ اس سے سماجی سطح پر خوف و ہراس بھی بڑھتا ہے۔ اور ایک ایسا ملک جس کے عوام خوفزدہ ہوں وہ کبھی ترقی نہیں کر سکتا۔
Ibrahim Sajid Malick is a Pakistani-American writer, technologist, and social entrepreneur. He has been writing on Pakistani society and politics since 1986. He has held several media, communications, and technology positions for organizations large and small. Mr. Malick graduated from New School for Social Research with a master’s degree in anthropology. He holds several technology and management certifications. He works for a leading technology firm and blogs at www.ibrahimsajidmalick.com