اماں کے نام

5 جولائی 2009 کو والدہ محترمہ کی وفات کے بعد میں نے متعدد بار کالم لکھنے کی کوشش کی، لیکن ہر بار آنسو لفظوںکو کاغذ سے مٹا دیتے۔ اب دوبارہ ہمت باندھی ہے تو سمجھ میں نہیں آتا کہ بات کہاں سے شروع کروں۔

تمہاری یاد کے جب زخم بھرنے لگتے ہیں
کسی بہانے تمہیں یاد کرنے لگتے ہیں

میری والدہ صاحبہ 80 سال کی عمر میں بھر پور زندگی گزارنے کے بعد سیکڑوں آنکھیں اشکبار چھوڑ کر ہمیشہ کے لئے چلی گئیں، لیکن اُن کی آواز ہمیشہ میرے کانوں میں گونجتی رہے گی۔ شاہد ڈھائی یا تین سال کی عمر میں پہلی بار مجھے احساس ہوا کہ ماں میرے وجود کا حصہ ہے۔ کسی رشتہ دار کی شادی میں وہ مجھے اور میرے چھوٹے بھائی کو کمرے میں سُلا کر دوسری خواتین کے ساتھ آنگن میں شادی کی رسم میں مصروف تھیں۔ میری آنکھ کھلی تو انہیں نہ پا کر پریشان ہو گیا۔ انہیں تلاش کرنے کے لئے کمرے سے باہر نکل کر آنگن کی طرف بڑھا تو وہاں بہت سی خواتین لال رنگ کی چادر کونوں سے ٹانگ اُس کے نیچے اور آس پاس کھڑی بلند آواز میں شادی کے گیت گا رہی تھیں، لیکن مجھے اماں نظر نہ آئیں۔ ایک لمحے کو جب مجھے لگا کہ وہ ہجوم میں کھو گئی ہیں تو میرے وجود سے جان نکل گئی، لیکن اگلے ہی لحے پرسکون ہو گیا کیونکہ اس ہجوم میں اماں کی آواز بالکل الگ اور واضح تھی جس نے مجھے اپنی طرف کھینچ لیا۔ میری زندگی کی پہلی یاد سے سفر آخرت کے لئے آنکھ بند ہونے تک اُن کی آواز سب سے منفرد رہی۔


ایک مدت سے میری ماں نہیں سوئی تابش
میں نے اک بار کہا تھا مجھے ڈر لگتا ہے

والدہ صاحبہ قمر جہاں بھارتی ریاست بہار کے شہر گیا میں پیدا ہوئیں۔ اسی شہر میں بدھا کو گیان آیا تھا۔ شاہد ہماری اماں کی پیدائش سے پہلے بہار میں گیان نہیں آیا ہو گا، لیکن مان لیتے ہیں کیونکہ بدھ مت اور ہندو مت کے بارے میں سب سے پہلے ہماری ماں نے ہی ہمیں بتایا۔ ہم نے اپنی اماں جیسا مسلمان کم ہی دیکھا۔ اُن کے ایمان کا ولولہ ہم جیسے گنہگار انسانوں کو بھی اللہ رسول کے ذکر کی طرف راغب کر دیتا ہے، لیکن اس کے باوجود انہوں نے اپنے دو صاحبزادوں کو غیر مسلم خواتین سے شادی کرنے کی اجازت دی۔ ہم چار بھائیوں کو اپنے آنچل کے سائے تلے اخلاق کے دائرے میں رہتے ہوئے شوق پورے کرنے کا موقع دیا۔ اماں کا فلسفہ تھا کہ بچوں کو گھر پر اُن کے شوق پورے کرنے دیئے جائیں تا کہ دوسروں کو دیکھ کر انہیں کوئی حسرت اور پریشانی نہ ہو۔ اس فلسفے کا ہمیں بہت فائدہ بھی حاصل ہوا۔

والدہ صاحبہ عارضہ قلب میں مبتلا تھیں۔ اور کیوں نہ ہوتیں۔ وہ زندگی بھر دوسروں کے دکھ درد بھی اپنے دل میں سموتی رہیں۔ اولاد ہو یا رشتہ دار، محلے دار ہوں یا گھر پر کام کرنے والے، امیر ہوں یا غریب، قریب ہوں یا دور، اُن کی محبت کا چشمہ سب کے لئے بہتا تھا۔ اگر کوئی اپنی پریشانی انہیں بتا دیتا تو مسئلہ حل ہونے تک چین سے نہیں بیٹھتیں۔ ہم نے انہیں غربت کے دور میں بھی دیکھا اور قدرے اطمینان کے دور میں بھی، لیکن اُن کا ایمان اور عزم کبھی متزلزل نہ ہوا۔ نامساعد حالات میں بھی وہ نہ صرف روشن شمع کی طرح اندھیرے دور بھگاتی رہیں بلکہ پریشانی میں حق و صداقت کا مجسمہ بن کر اُن کا چہرہ کچھ اور کھل اٹھتا اور روشن ستارے کی مانند زیادہ درخشاں ہو جاتیں۔ اُن کے چہرے اور تاثرات سے روشنی کی نئی کرنیں پھوٹنے لگتی تھیں۔ اگر کبھی کسی نے اُن سے کہ دیا کہ اُس کا کوئی عزیز اسپتال میں ہے اور ڈاکٹر علاج کے لئے پچاس ہزار روپے طلب کرتے ہیں تو کہتیں کہ اللہ کی ذات پر بھروسہ رکھو، ہم مدد کی پوری کوشش کرتے ہیں۔ پھر وہ ٹیلی فون پر رقم جمع کرنے کی مہم شروع کر دیتیں۔۔ ڈائری میں لکھے تمام ٹیلی فون نمبرز انہیں تقریباً زبانی یاد تھے۔ جاننے والے سے ٹیلی فون پر دوسرے کی پریشانی کا ذکر ایسے کرتیں گویا یہ کسی اور کا نہیں بلکہ اُن کی اولاد کا مسئلہ ہو۔ اس مقصد کے لئے وہ اپنے بچوں، بھائی، پڑوسی یا رشتہ دار سے چندہ جمع کرتیں۔ کسی سے زیادہ اصرار بھی نہ کرتیں، لیکن پہلے رقم کی موجودگی کا پوچھ ضرور لیا کرتی تھیں۔ وہ سمجھتی تھیں کہ پہلے سے مشکل میں گھرے ہوئے لوگوں کو مزید پریشانی میں مبتلا نہ کیا جائے۔

دیکھا جائے تو وہ فرد واحد کی صورت میں ایسی این جی او تھیں جن کا مشن دوسروں کا دُکھ درد بانٹنا تھا۔ دوسروں کی پریشانی دور کرنے کی خاطر وہ پہلے اپنے گھر ہی سے زیادہ رقم جمع کرتیں۔ اُن کا دل دوسروں کے درد کی شدت سے لبریز تھا تو زندگی تسکین کی مظہر۔


میری ہر ناکامی وابستہ مجھ سے ہے
میری جیت کا راز ہے مری ماں
چھپا لیتی ہے زخم کو وہ مرہم کی طرح
میرے ہر درد کی دوا ہے مری ماں

وہ ایمان اور یقین کی جگماہٹ، حوصلہ، عزم اور حکمت کی جیتی جاگتی تصویر تھیں۔ مجھے دو بار اُن کے ہمراہ عمرے کی سعادت حاصل ہوئی۔ مکہ مکرمہ پہنچ کو وہ اللہ تعالیٰ کے بہت قریب ہو جاتیں۔ کبھی یوں لگنے لگتا کہ وہ اس مقام اقدس پر خاص کیفیت میں ہیں اور اُن کے لئے دنیا کی کوئی اہمیت نہیں۔ اُن کا عقیدے کی پختگی ہمیشہ ہمارے لئے باعث فخر رہی۔ ہجوم میں بھی وہ بجلی کی سی تیزی سے اپنی جگہ بنا کر جب عبادت میں مصروف ہوتیں تو اُن کی کیفیت بالکل مختلف ہو جاتی، لیکن سکون قلب حاصل ہونے کے بعد وہ ہمیں اس قدر پیار سے گلے لگاتیں کہ ہم زندگی کا ہر رنج و غم بھول جاتے۔

اگرچہ انہوں نے باقاعدہ تعلیم تو حاصل نہیں کی تھی، لیکن اردو ادب اور مذہبی علوم پر عبور حاصل تھا۔ آج کل کے حالات سے بے خبر نہیں تھیں اور سیاسی بصیرت بھی خوب تھی۔ 11 ستمبر 2001 کو امریکا پر فضائی حملوں کے بعد جب میں اُن سے ملا تو گھر میں اسامہ بن لادن کا ذکر ہونے لگا۔ فرمانے لگیں‘‘کم بخت مارا اسلام کا دشمن ہے’’۔

اماں کی کئی باتیں ہمیشہ یاد رہیں۔ کچھ باتوں پر تو کبھی عمل نہ کر سکا، لیکن کچھ پر ہمیشہ عمل کرنے کی کوشش کرتا رہا۔ وہ کہا کرتی تھیں ‘‘زبان شیرں تو ملک گیریں’’۔ اُن کی یہ نصیحت میرے ساتھ رہتی ہے۔ کبھی تلخ بات منہ سے نکل جائے تو اُن کی نصیحت یاد آتے ہی تلخی بھول جاتا ہوں۔ جب تلخ لہجہ شیریں ہوتا ہے تو دل کو بہت سکون ملتا ہے۔

اماں کہتی تھیں کہ اگرچہ آپ کے پاس ایک پیسہ نہ ہو اور لاچاری سے اپنا بوجھ اٹھانا بھی محال ہو، لیکن کسی سے تلخ بات نہ کرو۔ پیسہ نہ ہو تو دوسرے کو مانگنے سے پہلے ہی سلام کر دو۔ گلیوں بازاروں میں مسکینوں اور غریبوں کی خیریت ضرور پوچھ لیا کرو، بزرگوں کے ساتھ عزت اور بچوں سے شفقت کے ساتھ پیش آؤ۔ کسی سے ملو تو ایسے کہ وہ ملاقات کو یاد رکھے اور شرافت کا دلدادہ ہو جائے۔

ہمارے کئی رشتہ دار سعودی عرب سے واپسی پر وہابی رنگ لایا کرتے تھے۔ وہ رنگ تصویر کو دشمن اور پنج سورہ کو غیر اسلامی سمجھتے تھے۔ والدہ صاحبہ کو اُن سے بہت کوفت ہوتی کیونکہ اُن کے عقیدے میں پنج سورہ پڑھنا ثواب تھا اور خوشی کے موقع پر میلاد پڑھی جاتی تھی، لیکن اُن کے رہتے دنیا بدلتی جا رہی تھی۔

میری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ انہیں جنت الفردوس میں اپنے والدین،بھائی بہنوں میرے اور والد کے ساتھ اعلیٰ مقام عطاء فرمائے۔ (آمین)

رنگ و خوشبو کے حسن و خوبی کے
تم سے تھے جتنے استعارے تھے

4 Responses

Page 1 of 1
  1. Nadeem Kiani
    Nadeem Kiani July 28, 2009 at 4:56 pm |

    May Allah rest her soul in peace. Amin

  2. Aamir Qureshi
    Aamir Qureshi July 28, 2009 at 6:22 pm |

    I am sorry to hear about your loss. Everything returns to him The Almighty Allah.

    I never met her but remember those good old days when me and Mansoor used to come to your place and knew that she is there or this tea might be made by her.

    A door of easy earning deeds is closed. However what we can still deliver to them after their death is remains open. Do whatever you can to agument the deeds she took with her. Its only Sadqa’s Jariah and good deeds of piased children that she will continue to receive (and not the traditional recitation of Quran by madarsa students). We have a lot of responsibilities, to raise our kids to high value and to live up to our parent’s expectations and to do what we failed or neglected to do when they were alive.

    May Allah bless her. I don’t have courage to call you and to say a word of condolence – nothing can fill the void.

  3. Zubair Anjum
    Zubair Anjum August 9, 2009 at 8:46 pm |

    bohot hi shandaar shakhsi khaka likha hey ibrahim sahab , wesey hi aik sawal paida hua zehn men ke aap ke do bhayon ne kis mazhab ki khawateen se shadi ki hey ???

  4. Ramla Akhtar
    Ramla Akhtar August 15, 2009 at 12:35 pm |

    A touching eulogy for an inspiring woman — who I have come to learn of through these words.

    A thoughtful blog, Ibrahim! Look forward to your posts.

Leave a Reply