پاکستان کے وزير خارجہ شاہ محمود قريشي نے دورہ امريکا کے دوران واشنگٹن ڈي سي ميں صحافيوں سے گفتگو کرتے ہوئے واضح کيا ہے کہ پاکستان، افغانستان اور امريکا کے درميان تين دن کے صلاح و مشورے کے بعد اب تينوں ملکوں کے درميان اعتماد کي فضاء بہتر ہو گئي ہے اور بداعتمادي ميں کافي حد تک کمي آ گئي ہے۔ اعتماد کو آج کل کي سفارت کاري ميں نہايت دلچسپ نظريئے کي حيثيت حاصل ہے۔
امريکي فوج کے سربراہ Mike Mullen نے اس سال فروري کے درميان ميں واشنگٹن پوسٹ ميں اسي موضوع يعني ”اعتماد ” کے عنوان سے ايک مضمون لکھا ہے۔ امريکا کے جوائنٹ چيفس آف اسٹاف کے چيئرمين Mullen نے اس مضمون ميں پاکستان اور افغانستان ميں اسلامي شدت پسندي کو شکست دينے کے لئے اعتماد کي اہميت اور کردار پر خيالات کا اظہار کيا ہے۔ انہوں نے خصوصي طور پر پاکستان کے معاملے ميں بداعتمادي اور پھر اس بداعتمادي کو ختم کرنے پر رائے کا اظہار کيا ہے۔ دراصل اس وقت ہميں جو خطرے درپيش ہيں اُن سے نمٹنے کا واحد حل ہي اعتماد کو بحال کرنا ہے۔
امريکي فوج ميں ايسے لوگوں کي تعداد کافي زيادہ ہے جو ايسا سوچتے ہيں کہ پاکستاني فوج کے اعليٰ حکام يہ سمجھنے ميں بہت دير کررہے ہيں کہ پاکستان کو زيادہ خطرہ بھارت سے نہيں بلکہ ملک کے اندر موجود انتہاپسندوں سے ہے۔ پاکستان کے صدر آصف علي زرداري نے القاعدہ اور طالبان کو شکست دينے کے لئے فوج قبائلي علاقوں ميں تو بھيج دي ہے، ليکن امريکي حکام کو يہ شک بھي کہ پاک فوج کے ادارے آئي ايس آئي کے بعض لوگ جنگجو گروپوں کو۔۔۔۔ کشمير اور افغانستان ميں بھارت کے خلاف استعمال کرنے کے لئے تحفظ دے رہے ہيں۔ ادھر اوباما انتظاميہ بھي يہ بات اچھي طرح جانتي ہے کہ پاکستان سے تعلقات بہت اہميت رکھتے ہيں اور بد اعتمادي بڑھني نہيں چاہيئے، اسي وجہ سے دونوں ملکوں کے درميان بڑھتے ہوئے فاصلوں کو کم کرنے کے لئے حال ہي ميں بعض دلچسپ فيصلے کئے گئے ہيں۔
انيس سو نوے ميں امريکي فوجي امداد بند ہونے کي وجہ سے پاک فوج کے افسروں کي بڑي تعداد کے امريکا سے رابطے نہيں رہے تھے اور وہ امريکي فيصلوں کو شک کي نظر سے ديکھنے لگے، اس شک اور شبہے کو ختم کرنے کے لئے جنرل مولن اور جنرل پيٹرياس نے پاکستان کے بہت سے دورے بھي کئے ہيں جن ميں انہوں نے فوج کے بڑے افسروں سے ملاقاتيں کي ہيں۔ پاک فوج کے سربراہ جنرل اشفاق پرويز کياني اور آئي ايس آئي کے سربراہ ليفٹيننٹ جنرل احمد شجاع پاشا نے گذشتہ ہفتے تين دن تک واشنگٹن ميں امريکي حکام سے ملاقاتيں کي ہيں، اسي طرح پاکستان اور افغانستان کے لئے امريکا کے خصوصي ايلچي رچرڈ ہالبروک نے پاکستان اور افغانستان کے دفاع اور خارجہ کے وزيروں کو واشگنٹن بلايا ہے جہاں اُن کو پاک افغان معاملات پر اوباما انتظاميہ کي پاليسيوں کے بارے ميں بتايا گيا۔ (اب آئندہ بھي اس طرح کي ملاقاتيں ہوتي رہيں گي)۔
گزشتہ ہفتے ان ملاقاتوں ميں دونوں ملکوں کے حکام کو ايک دوسرے سے بہت سي شکايتيں تھيں۔ امريکي حکام کو سوات ميں شريعت کے لئے لبرل مذہبي قوتوں سے معاہدے پر تشويش ہے۔ امريکا اس معاہدے کو مزاحمت کرنے والوں سے فوج کي ہار سمجھتا ہے۔ ادھر پاکستان کو القاعدہ اور طالبان کے ٹھکانوں پر امريکي جاسوس طياروں کے حملوں سے پريشاني ہے جن ميں
collateral damage ہو رہا ہے اور اس کے نتيجے ميں عوام کے جذبات بھي امريکا کے خلاف ہو رہے ہيں۔
پاکستان نے امريکا سے يہ شکايت بھي کي ہے کہ انہيں ضرورت کے مطابق ہتھيار اور آلات نہيں ديئے گئے ہيں۔ گزشتہ ہفتے انہوں نے سوات ميں طالبان کے ايک کمانڈر کي ريڈيو پر نشريات روکنے کے لئے امريکا سے کوبرا ہيلي کاپٹرز، رات کو ديکھنے والے آلات اور ٹرانسميشن روکنے والي چيزيں مانگي تھيں۔ امريکا سے چھوٹے جاسوس طيارے بھي مانگے گئے ہيں۔ ملاقاتوں کے نتيجے ميں اچھي باتوں اور تبديلي کے اشارے بھي مل رہے ہيں۔ پاک فوج امريکا کے مزيد ٹرينرز کو قبول کرنے پر رضامند ہو گئي ہے، ليکن اُس کا يہ کہنا ہے کہ اس کے فوجي جوانوں کے پاس دہشت گردوں کا مقابلہ کرنے کے لئے مناسب صلاحيت موجود ہے۔ پاک فوج نے اب تک قبائلي علاقوں ميں جنگجوؤں کے ساتھ لڑائي کا جو طريقہ اختيار کيا ہے وہ بھارت کے ساتھ زميني جنگ کے لئے زيادہ موزوں ہے، اسي طريقے کي وجہ سے وہاں سے بڑي تعداد ميں لوگ نکل کر دوسرے علاقوں ميں چلے گئے ہيں اور ہو سکتا ہے کہ آنے والے دنوں ميں طالبان اپنے علاقے چھوڑ کر دوسري جگہ جانے والوں کو ہي اپنے ساتھ ملا ليں گے۔ (پاکستان نے اس لڑائي سے متاثر ہونے والوں کي امداد کے لئے امريکا سے پندرہ ملين ڈالر مانگے تھے، ليکن حکام نے شکايت کي ہے کہ يہ رقم نہيں ملي)، ليکن اب امريکا کي فوج کے ستر ايڈوائزرز پاک فوج اور پيراملٹري فورسز کو مزاحمت کرنے والوں سے لڑنے کے لئے تربيت دينے کے لئے پاکستان گئے ہوئے ہيں۔ پاکستان امريکا کے ٹرينرز کي تعداد دو گنا کرنا چاہتا ہے اور اس کي يہ بھي خواہش ہے کہ اُس کے زيادہ افسروں کو خصوصي تربيت کے لئے امريکا بھيجا جائے تا کہ ملک کے اندر کسي مسئلے سے بچا جا سکے، اس طرح تربيت حاصل کرنے والے پاکستاني افسر مزيد فوجيوں کو تربيت دے سکيں گے۔ امريکي وار کالجز ميں تربيت کے لئے پاکستاني افسران کي تعداد ميں آہستہ آہستہ اضافہ بھي کيا جائے گا۔ يہ بات بھي بالکل واضح ہو چکي ہے کہ امريکا کي امداد اور ٹيکنيکل مدد سرحدي علاقوں پر خرچ کي جائے گي، اسي طرح شہريوں کے منصوبوں کے لئے امريکا مزيد مالي امداد بھي بھيج رہا ہے۔ يہاں اس بات کے اشارے بھي ملتے ہيں کہ پاکستان کے سيکورٹي ادارے تبديلي کي ضرورت کو سمجھتے ہيں۔ آئي ايس آئي کے چيف احمد شجاع پاشا نے جنوري ميں جرمني کے ايک ميگزين کو انٹرويو ديتے ہوئے کہا ”ہو سکتا ہم پاکستان کے معاملے ميں جذباتي ہوں، ليکن ہم پاگل بالکل نہيں ہيں۔” ہم يہ بات اچھي طرح جانتے ہيں کہ ہمارا دشمن بھارت نہيں بلکہ دہشت گرد ہيں۔ پاکستان نے آخر يہ بات بھي مان ہي لي ہے کہ ممئي حملوں ميں ملوث بعض دہشت گرد پاکستان سے آئے تھے، ليکن اس معاملے ميں حکومت کا ہاتھ کسي طرح بھي نہيں ہے۔ يہ بات بھي واضح ہے کہ اعتماد اتني جلدي قائم نہيں ہوتا ۔ اب جبکہ القاعدہ اور طالبان پاکستان کے اداروں پر دباؤ بڑھا رہي ہيں تو سوال يہ پيدا ہوتا ہے کہ کيا مناسب وقت پر ان اداروں کا اعتماد بحال کيا جا سکتا ہے؟۔
Ibrahim Sajid Malick is a Pakistani-American writer, technologist, and social entrepreneur. He has been writing on Pakistani society and politics since 1986. He has held several media, communications, and technology positions for organizations large and small. Mr. Malick graduated from New School for Social Research with a master’s degree in anthropology. He holds several technology and management certifications. He works for a leading technology firm and blogs at www.ibrahimsajidmalick.com