سیاست ایسی نظریاتی دنیا میں پنپتی ہے جہاں الفاظ کے معنی شازو نادر ہی بالکل واضح اور غیر مبہم ہوتے ہیں، اسی طرح نظریات بھی وہ نہیں ہوتے جو بیان کئے جاتے ہیں جبکہ وہ اپنے اندر کئی ممکنہ معنی سموئے ہوتے ہیں۔ ارادوں میں تضادات بھی ہوتے ہیں اور نتائج بھی غیر شعوری ، تحریکیں اُن راہوں سے گزرتی ہیں جن کے بارے میں پیش گوئی نہیں کی جاسکتی۔ خواہشات غیر مُبہَم اور کامل ہونے کے بجائے اسٹریٹیجک اور ایک دوسرے سے جڑی ہوتی ہیں۔ ابہام اور نصف سچائی سے بھری اس دنیا میں حقائق مسخ کر کے پیش کئے جاتے ہیں۔ یہاں دھوکا اور فریب ہے، خواب اور واہمے ہیں، لیکن اسی دنیا میں مقاصد کو سمجھا بھی جاتا ہے، اس کیلئے قواعد بھی طے ہوتے ہیں، اقدار قوت رکھتی ہیں، انقلابات مکمل ہوتے ہیں اور ریاستیں وجود میں آتی ہیں۔
گذشتہ ہفتے رياست ورجينيا ميں ایک نجی محفل کے دوران صدر آصف علی زردری کی انتظامیہ سے مستعفی پاکستان کی بااثر شخصیت نے یہ کہہ کر مجھے حیرت میں ڈال دیا کہ ”یہ سب نظر کا دھوکا ہے”۔ چونکہ میں محکمہ خارجہ، کانگریس، سینیٹ اور وہائٹ ہاؤس میں سجنے والے کئی تھیٹرز کی کوریج کرتا رہا ہوں، اس لئے اس جملے نے مجھے مزید حیرت میں ڈال دیا۔ میں نے جو cover کیا ہے اگر وہ نظر کا دھوکا تھا تو اس میں کیا کامیابی تھی، یہ جواب اس میں پوشیدہ ہے کہ آپ کا مخاطب کون ہے۔
یہاں سے مجھے کوئی خاص فوٹیج تو نہیں ملی، لیکن بیانات بہت خاص اور غیر معمولی تھے۔ ایک ٹی وی جرنلسٹ کی حیثیت سے مجھے اب دونوں چیزوں کا تال میل بنانا تھا۔
امریکی کانگریس سے لے کر سینیٹرز تک اور وزیر خارجہ ہیلری کلنٹن سے لے کر صدر اوباما تک۔۔ ہر شخص کو یہی کہتے سنا کہ پاکستانی قیادت کی ملاقاتیں ملک کے لئے بڑی کامیاب ثابت ہوئی ہیں، لیکن کوئی ہمیں یہ نہ سمجھا سکا کہ ان اجلاسوں کے کیا نتائج کا سامنے آئیں گے۔
حکومت پاکستان کو اوباما انتظامیہ کی توجہ اور اہمیت حاصل ہونے پر واشنگٹن میں پاکستان کے سفیر مسٹر حسین حقانی کی خوشی قابل دید تھی۔ پاکستان مالی سال 2010 کے لئے 1.9 ارب ڈالر امداد حاصل کرنے میں کامیاب ہوا ہے جبکہ کیری لوگر بل کے تحت اسلام آباد کے لئے1.5 ارب سے زائد امداد پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔ صدر زرداری کے ترجمان فرحت اللہ بابر نے مجھے بتایا کہ صدر مملکت نئے اعتماد کے ساتھ واپس جا رہے ہیں۔ اسلام آباد میں امریکا کی سفیر Anne Peterson بھی صدر زرداری کے دورہ امریکا کی کامیابی سے خاصی خوش تھیں۔ وہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان ٹریڈ اینڈ ٹرانزٹ کی مفاہمت کی یادداشت کو سنگ میل سمجھتی ہیں۔
یہ درست ہے کہ امریکی کانگریس نے مالی سال 2010 کے لئے 1.9 ارب ڈالر کی امداد منظور کی ہے، لیکن اس رقم میں سے 837 ملین ڈالر تو پاکستان میں امریکی سفارتخانے اور مختلف شہروں میں قونصل خانوں کے حفاظتی انتظامات بہتر بنانے پر خرچ ہو جائیں گے۔ مفاہمت کی یادداشت کی اہمیت کے حوالے سے میرے سوال پر وزیر خزانہ شوکت ترین زیادہ خوش دکھائی نہیں دیئے۔ اُن کا کہنا تھا کہ اس سمجھوتے میں کچھ نیا نہیں ہے۔ امریکی جاسوس طیاروں کے حملے ختم کرنے کے حوالے سے بھی واضح وعدے نہیں کئے گئے۔ ابھی میں ان شخصیات کے ساؤنڈ بائٹس لینے کی کوشش ہی کر رہا تھا کہ کراچی سے میرے پروڈیوسر نے ٹیلی فون کر کے بتایا کہ پاکستان کے وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے صوبہ سرحد اور فاٹا کے بعض علاقوں میں دہشت گردوں کے مکمل خاتمے کے لئے بھر پور فوجی کارروائی کا حکم دے دیا ہے۔
پھر میرے ذہن میں آیا کہ کیا یہی وہ سنگ میل اور کامیابی ہے جس کا اشارہ صدر اوباما کرتے رہے تھے۔ شاہد یہی ہو۔۔ کیونکہ 1.9 ارب ڈالر کی امداد، ٹریڈ ٹرانزٹ سمجھوتہ اور ”نئے صدر زردری” سمجھ سے بالاتر ہیں۔ دراصل صوبہ سرحد اور فاٹا میں طالبان کے خلاف بالکل واضح اور فیصلہ کن کارروائی شروع کرنے کے لئے زرداری انتظامیہ پر سخت دباؤ تھا۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آیا پاکستان کے لئے بھی یہ کوئی بڑی کامیابی ثابت ہوئی ہے؟
سوات میں تقریباً پانچ ہزار طالبان کے خلاف کارروائی کے لئے پندرہ ہزار فوجی بھیجنے اور بھاری ہتھیاروں کے استعمال سے پاکستان فوج کو وقتی طور پر تو کامیابی مل سکتی ہے، لیکن اس کے نتیجے میں ملک کے مستحکم مشرقی علاقوں میں مختلف اہداف پر دہشت گردوں کے حملوں میں اضافہ بھی ہو سکتا ہے۔
طالبان کی جانب سے امن معاہدے کی خلاف ورزی کے بعد پاکستان آرمی کے پاس فیصلہ کن کارروائی کے علاوہ کوئی چارہ نہیں تھا جبکہ دوسری جانب امریکی انتظامیہ بھی حتمی کارروائی کیلئے حکومت پاکستان پر دباؤ ڈال رہی تھی۔ انہی حالات میں سرحدوں کے بارے میں حکمت عملی کی مکمل تبدیلی کی ضرورت ہے۔
پاکستان آرمی اعتراف کر چکی ہے کہ طالبان کی جانب سے امن معاہدے کی خلاف ورزی سے ایسی صورتحال پیدا ہوئی کہ نہ وہ نظر انداز کر سکتی تھی اور نہ ہی کارروائی میں ناکامی کا کوئی آپشن تھا۔ اسی لئے طالبان کے خلاف کارروائی کے لئے بھاری ہتھیاروں سمیت تمام ممکنہ طریقے استعمال کئے جا رہے ہیں۔ مذاحمت سے نمٹنے کی کارروائی کے دوران کسی موقع پر سنجیدہ جنگ بھی شروع کرنا پڑتی ہے، لیکن اس کے باوجود ایک عام تاثر یہ ہے کہ کسی منظم اور باقاعدہ نظام کے تحت شروع کئے گئے فوجی آپریشن کا ردعمل کسی اور جگہ سے سامنے آ سکتا ہے۔
لیکن میرے خیال میں اب پاکستان آرمی کے پاس طالبان کے خلاف بھر پور کارروائی کرتے ہوئے انہیں ختم کرنے کے علاؤہ کوئی دوسرا راستہ نہیں بچا۔ اس سلسلے میں اُنہیں کسی اور جگہ حملہ بھی کرنا پڑے تو گریز نہیں کرنا چاہیئے۔ اگرچہ یہ کوئی اچھی بات نہیں، لیکن اگر آپ جنگ جیتنا چاہتے ہیں تو آپ کو ایسا کرنا پڑے گا۔ طالبان اور اُن کے ساتھی ردعمل کے طور پر پاکستان کے دوسرے علاقوں میں حملوں میں اضافہ کر دیں گے جس سے دو اہم سوال پیدا ہوں گے۔
پہلا یہ کہ کیا پاکستان آرمی اور پولیس سوات کے فتح کئے گئے علاقوں پر اپنا کنٹرول قائم رکھ سکیں گی؟۔ دوسرا اہم اور بڑا سوال یہ ہے کہ کیا وہ امریکی فوج کی خواہش کے مطابق افغانستان کی سرحد کے قریب ایسے علاقوں پر بھی اپنا قبضہ جمانے کیلئے آگے بڑھے گی جو اُن کے ہاتھ سے نکل چکے ہیں؟