Uncategorized
ہیں کواکب کچھ، نظر آتے ہیں کچھ
October 4, 2009
3
, , , , , , , , ,

دنیا بھر میں Noam Chomsky کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ہے۔  اُن کی وجہ شہرت امریکا کی خارجہ پالیسیوں کو تنقید کا نشانہ بنانا ہے۔ یہ کام وہ آج سے نہیں بلکہ انیس سو ساٹھ کی دہائی میں ویتنام جنگ سے کر رہے ہیں۔ وہ متعدد کتابوں کے مصنف بھی ہیں۔

اس بار میں اُن سے ملاقات کے لئے پہنچا تو ذہن میں دو سوال تھے۔ ایک یہ کہ عالمی سطح پر بھارت کی خارجہ پالیسی کیا ہے اور دوسرا امریکا کے جنوبی ایشیاء میں کیا مقاصد ہیں؟۔ دل میں خوش تھا کہ اس بار بھی میں اُن سے انٹرویو کرنے والا پہلا پاکستانی صحافی ہوں گا، لیکن یہ دیکھ کر  حیرت کی انتہا نہ رہی کہ پاکستان کے نجی ٹی وی چینل ‘‘آج’’ کا نمائندہ پہلے سے وہاں موجود تھا۔ یقینی طور پر وہ بھی بہت سے پیچیدہ اور الجھے ہوئے سوالوں کے جواب تلاش کرنے آیا ہو گا، لیکن میرے لئے بہرحال یہ ایک خوشگوار حیرت تھی کہ کوئی دوسرا پاکستانی صحافی بھی Noam Chomsky کے خیالات پاکستان کے عوام تک پہنچانے کی کوشش کر رہا ہے۔

Noam Chomsky نے میرے سوال تحمل سے سنے اور نہایت دھیمے، لیکن مدلل انداز میں جواب دینا شروع کیے۔ بھارت کی پیچیدہ خارجہ پالیسی کے بارے میں Noam Chomsky نے تمہید باندھے بغیر کہا کہ بھارت پیچیدہ جنگ لڑ رہا ہے۔ ایک طرف چین سے اُس کے تعلقات استوار ہیں تو دوسری طرف تنازعات بھی چھیڑ رکھے ہیں، یہ تو مبہم بات ہے۔ کہنے لگے کہ بھارت نے ایران سے بھی تعلقات قائم رکھے ہوئے ہیں جبکہ یہ بات امریکا کو پسند نہیں ہے۔ اسی وجہ سے بھارت پاک ایران گیس پائپ لائن سے تو پیچھے ہٹ گیا ہے، لیکن اپنے مقاصد کے پیچھے اب بھی بھاگ رہا ہے۔ امریکا دیکھ رہا ہے کہ بھارت کیا کر رہا ہے۔ اُس کی نظریں ایران کی جانب سے ایٹمی ہتھیاروں کے حصول کی کوششوں پر بھی ہیں۔ آپ دیکھتے ہیں کہ ایسی خبریں روزانہ اخبارات کے پہلے صفحہ کی زینت بنتی ہیں۔ کبھی اُس کے نئے ایٹمی پلانٹ کا ذکر سامنے آجاتا ہے اور کبھی میزائلوں کا۔ یہ سوال بھی زیر بحث ہے کہ آیا وہ امریکا اور یورپ پر حملے کی صلاحیت رکھتا ہے یا نہیں۔ تو اس وقت ہماری تمام توجہ ایران کی ایٹمی سرگرمیوں پر ہے۔ اسی سلسلے میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے قرارداد بھی منظور کی ہے جس کا خصوصی ہدف ایران ہی تھا، لیکن آپ یہ دیکھیں کہ عین قرارداد کی منظوری کے وقت بھارت نے سرعام اعلان کیا وہ این پی ٹی پر دستخط نہیں کرے گا۔ وہ کہتا ہے کہ اُس کے پاس 2004 ٹن ایٹمی ہتھیار ہیں اور یہ امریکا اور روس کی جدید ترین جوہری صلاحیت کے برابر ہے۔ ابھی چند دن پہلے ہی آئی اے ای اے نے اپنی قرارداد میں اسرائیل سے کہا ہے وہ ایٹمی ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ کی کوششوں میں معاونت کرے اور اپنی تنصیبات کے معائنے کی اجازت دے۔ امریکا اور یورپ نے یہ قرارداد رکوانے کی کوشش کی اور ناکامی پر اس کی مخالفت میں ووٹ دیا۔ خود اسرائیل نے بھی یہ قرارداد مسترد کر دی ہے۔

اپنی بات جاری رکھتے ہوئے Noam Chomsky  مزید کہنے لگے کہ اگر بھارت پہلے سے موجود اہم ایٹمی پروگرام کو توسیع دیتا ہے تو پاکستان بھی ایسا ہی کرے گا۔ ماضی میں یہ دونوں ملک دو بار ایٹمی جنگ کے قریب پہنچ چکے ہیں۔ دراصل دنیا میں تین ملکوں نے کبھی این پی ٹی پر دستخط نہیں کئے۔ اُن میں بھارت، پاکستان اور اسرائیل شامل ہیں۔ ان تینوں نے ایسا امریکا کی حمایت سے ہی کیا ہے۔ اسرائیل کو تو امریکا کی کھلی حمایت حاصل ہے۔ پاکستان کو امریکی صدر ریگن کے زمانے کی حمایت حاصل رہی جب وہاں ضیاء الحق امریکی انتظامیہ کا فیورٹ ڈکٹیٹر تھا، لیکن وہ ہتھیار تو بنا رہا تھا۔ بھارت نے ایک سال پہلے ہی امریکا سے ایٹمی شعبے میں تعاون کا معاہدہ کیا ہے۔ بظاہر تو اس کے الفاظ یہ ہیں کہ امریکا ایٹمی آپریشنل انرجی میں بھارت کی مدد کرے گا، لیکن حتمی طور پر یہ سب تو ایٹمی ہتھیاروں میں ہی بدل جائے گا۔ وہ یہاں Noam Chomsky کچھ دیر کو رکے اور اگلے ہی لمحے کہنے لگے ‘‘حقیقت میں اقوام متحدہ کی قرارداد صرف ایران کے خلاف ہی نہیں بلکہ ان تنیوں ملکوں کے خلاف بھی ہے جنہوں نے این پی ٹی پر دستخط نہیں کئے’’۔

وہ کہتے ہیں کہ سلامتی کونسل کی قرارداد تمام ملکوں پر زور دیتی ہے کہ وہ طاقت کے استعمال کی دھمکیاں نہ دیں۔ انہوں نے میری طرف دیکھتے ہوئے سوال کیا کہ طاقت کے استعمال کی دھمکیاں کون دے رہا ہے؟۔ پھر خود ہی کہنے لگے کہ ایسا تو امریکا اور اسرائیل ہی کر رہے ہیں ناں۔ تو یہ قرارداد بذات خود امریکا،ا بھارت، اسرائیل اور کسی حد تک پاکستان کے خلاف ہے۔

Noam Chomsky بحث کو مزید وسیع کرتے ہوئے یورپ میں امریکی میزائل ڈیفینس سسٹم کی تنصیب سے پیدا ہونے والے تنازع کی طرف لے گئے۔ کہنے لگے کہ یورپ میں امریکا کی جانب سے میزائل سسٹم نصب کرنے کا جو تنازع پیدا ہوا ہے، دراصل اُس کا محور بھی ایک ہی یعنی ممکنہ ایرانی حملے کا دفاع کرنا ہے۔ کیا کسی نے اس بات پر سنجیدگی سے غور کیا ہے کہ ایران کی جانب سے امریکا اور یورپ پر حملہ اُس کے لئے کس قدر تباہ کن ثابت ہو گا۔ اُس کے لئے تو یہ خودکشی کے برابر ہو گا۔ دراصل یہ دفاع کے لئے تیار کردہ میزائل نظام نہیں بلکہ پیشگی حملہ کرنے کا مہلک ہتھیار ہے۔ کوئی بھی میزائل نظام پیشگی حملے کا سسٹم ہی ہوتا ہے۔ دوسرا یہ کہ یہ امریکا اور اسرائیل کی جانب سے طاقت کے استعمال کی دھمکیوں کو توسیع دینے کی ایک اور کوشش ہے۔

اب اگر آپ دوسری طرف نظر دوڑائیں تو دیکھیں گے کہ امریکا کئی ممالک میں اپنے بڑے سفارتخانے بنا رہا ہے۔ اس سلسلے میں بغداد، کابل اور پاکستان کی مثال سامنے ہے۔ ایک طرح سے وہ ان ملکوں میں مستقل ٹھکانہ بنا رہا ہے جو طویل عرصے تک وہاں قیام کرنے کے اُس کے ارادوں کا مظہر ہے۔

پہلے سوال کا اس قدر تفصیلی اور جامع جواب پا کر میں نے دوسرا سوال کیا کہ امریکا جنوبی ایشیاء میں کیا چاہتا ہے اور وہاں اس کے مقاصد کیا ہیں؟۔ Noam Chomsky کا کہنا تھا کہ افغانستان اور پاکستان نہایت اسٹریٹیجک مقام پر واقع ہیں۔ ایک طرف اس خطے کی سرحدیں مشرق وسطیٰ سے ملتی ہیں تو دوسری طرف بے پناہ وسائل سے مالا مال ہے۔ توانائی کے وسائل اور پیداوار کے حوالے سے اس کی اہمیت اور حیثیت مسلمہ ہے اور بیک وقت سورس آف انرجی اور سیکنڈ سورس آف انرجی ہے۔ یہ خطہ سرحدوں اور وسائل پر کنٹرول کے لحاظ سے بھی کئی تنازعات میں گھرا ہوا ہے۔ شنگھائی تعاون تنظیم خطے کے لحاظ سے اہم کردار ادا کر رہی ہے جس میں چین، روس اور وسط ایشیائی ریاستیں شامل ہیں جبکہ پاکستان نے مبصر کے طور پر شرکت کی ہے۔ اس تنظیم کا مقصد ایشین انرجی سیکورٹی کا قیام عمل میں لانا ہے جو امریکا سے بالکل الگ ہے۔ دراصل اس تنظیم کے رکن ملک طے کر چکے ہیں کہ امریکا خطے سے واپس چلا جائے اور  انہیں وسائل پر حق دیا جائے۔ جنوبی ایشیاء میں ایک اور اہم تنازع ابھرتی ہوئی معیشت بھارت کی جانب سے توانائی کے حصول کی کوششیں ہیں۔ دیکھنا یہ ہے کہ بھارت کس طرح توانائی کی ضروریات پوری کرتا ہے کیونکہ ایران سے گیس کے حصول کا ارادہ اس نے ترک کر دیا ہے۔ اگر وہ اس منصوبے میں حصہ لیتا ہے تو امریکا اس کی مخالفت کرے گا کیونکہ امریکا ایران کو تنہا کرنا چاہتا ہے۔ اب امریکا کی خواہش ہو گی کہ بھارت اپنی ضروریات ترکمانستان کے گیس کے وسیع ذخائر سے پوری کرے۔ افغانستان، بھارت، پاکستان اور ترکمانستان کے درمیان گیس پائپ لائن پرانا آئیڈیا ہے، لیکن یہ ابھی بھی ڈرائنگ بورڈ پر موجود ہے۔ امریکا کا مقصد بھارت کو ایران سے گیس کے حصول سے روک کر ترکمانستان کی طرف راغب کرنا ہے تا کہ وہ تہران پر ایٹمی پروگرام روکنے کے لئے دباؤ ڈال سکے جبکہ روس بھی نئی دہلی کا دوست ہے۔ خطے میں افغانستان کی اہمیت کے حوالے سے Noam Chomsky کا کہنا تھا کہ افغان صوبہ قندھار متنازع ہونے کے ساتھ ساتھ نہایت اہمیت کا حامل بھی ہے۔

بعض ماہرین کا حوالہ دیتے ہوئے وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ جنوبی ایشیاء میں دراصل وسائل پر قبضے کی جنگ جاری ہے۔ امریکا مشرق وسطیٰ میں تیل کے ذخائر کی عالمی اہمیت کو سمجھ چکا ہے اور مستقبل میں طاقت کا انحصار اسی خطے کے وسائل کے استعمال پر ہو گا۔ اسٹریٹیجک لحاظ سے یہ دنیا کا سب سے اہم علاقہ ہے اور اس کے قدرتی وسائل پر قبضہ کرنے والا ملک ہی پوری دنیا پر قبضہ کر سکتا ہے۔ امریکا اپنے اسی خواب کو شرمندہ تعبیر کرنا چاہتا ہے۔ یہ تمام باتیں کسی سے ڈھکی چھپی نہیں بلکہ دنیا کے سامنے آ چکی ہیں۔ ہاں مگر۔ اس معاملے میں پاکستان کو مرکزی حیثیت حاصل ہو چکی ہے ۔ پاکستان کے چین سے نہ صرف دوستانہ تعلقات ہیں بلکہ معاشی اور اقتصادی میدان میں بھی دونوں کے رابطے کافی گہرے ہیں۔ امریکا کو اس بات پر تشویش ہے کہ مستقبل میں چین خودمختار طاقت کے طور  پر سامنے آ سکتا ہے۔ اس سلسلے میں بڑی پیش رفت شنگھائی تعاون تنظیم کا قیام ہے۔ اس تنظیم کو اقوام متحدہ قبول کر چکی ہے جبکہ امریکا اس سے خوش نہیں ہے۔

مجھے میرے سوالوں کا مکمل اور تفصیلی جواب مل گیا تھا۔ جو آپ کی خدمت میں حاضر ہے۔ 

دنیا بھر میں Noam Chomsky   کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ہے۔  اُن کی وجہ شہرت امریکا کی خارجہ پالیسیوں کو تنقید کا نشانہ بنانا ہے۔ یہ کام وہ آج سے نہیں بلکہ انیس سو ساٹھ کی دہائی میں ویتنام جنگ سے کر رہے ہیں۔ وہ متعدد کتابوں کے مصنف بھی ہیں۔

اس بار میں اُن سے ملاقات کے لئے پہنچا تو ذہن میں دو سوال تھے۔ ایک یہ کہ عالمی سطح پر بھارت کی خارجہ پالیسی کیا ہے اور دوسرا امریکا کے جنوبی ایشیاء میں کیا مقاصد ہیں؟۔ دل میں خوش تھا کہ اس بار بھی میں اُن سے انٹرویو کرنے والا پہلا پاکستانی صحافی ہوں گا، لیکن یہ دیکھ کر  حیرت کی انتہا نہ رہی کہ پاکستان کے نجی ٹی وی چینل ‘‘آج’’ کا نمائندہ پہلے سے وہاں موجود تھا۔ یقینی طور پر وہ بھی بہت سے پیچیدہ اور الجھے ہوئے سوالوں کے جواب تلاش کرنے آیا ہو گا، لیکن میرے لئے بہرحال یہ ایک خوشگوار حیرت تھی کہ کوئی دوسرا پاکستانی صحافی بھی Noam Chomsky   کے خیالات پاکستان کے عوام تک پہنچانے کی کوشش کر رہا ہے۔

Noam Chomsky   نے میرے سوال تحمل سے سنے اور نہایت دھیمے، لیکن مدلل انداز میں جواب دینا شروع کیے۔ بھارت کی پیچیدہ خارجہ پالیسی کے بارے میں Noam Chomsky   نے تمہید باندھے بغیر کہا کہ بھارت پیچیدہ جنگ لڑ رہا ہے۔ ایک طرف چین سے اُس کے تعلقات استوار ہیں تو دوسری طرف تنازعات بھی چھیڑ رکھے ہیں، یہ تو مبہم بات ہے۔ کہنے لگے کہ بھارت نے ایران سے بھی تعلقات قائم رکھے ہوئے ہیں جبکہ یہ بات امریکا کو پسند نہیں ہے۔ اسی وجہ سے بھارت پاک ایران گیس پائپ لائن سے تو پیچھے ہٹ گیا ہے، لیکن اپنے مقاصد کے پیچھے اب بھی بھاگ رہا ہے۔ امریکا دیکھ رہا ہے کہ بھارت کیا کر رہا ہے۔ اُس کی نظریں ایران کی جانب سے ایٹمی ہتھیاروں کے حصول کی کوششوں پر بھی ہیں۔ آپ دیکھتے ہیں کہ ایسی خبریں روزانہ اخبارات کے پہلے صفحہ کی زینت بنتی ہیں۔ کبھی اُس کے نئے ایٹمی پلانٹ کا ذکر سامنے آجاتا ہے اور کبھی میزائلوں کا۔ یہ سوال بھی زیر بحث ہے کہ آیا وہ امریکا اور یورپ پر حملے کی صلاحیت رکھتا ہے یا نہیں۔ تو اس وقت ہماری تمام توجہ ایران کی ایٹمی سرگرمیوں پر ہے۔ اسی سلسلے میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے قرارداد بھی منظور کی ہے جس کا خصوصی ہدف ایران ہی تھا، لیکن آپ یہ دیکھیں کہ عین قرارداد کی منظوری کے وقت بھارت نے سرعام اعلان کیا وہ این پی ٹی پر دستخط نہیں کرے گا۔ وہ کہتا ہے کہ اُس کے پاس 2004 ٹن ایٹمی ہتھیار ہیں اور یہ امریکا اور روس کی جدید ترین جوہری صلاحیت کے برابر ہے۔ ابھی چند دن پہلے ہی آئی اے ای اے نے اپنی قرارداد میں اسرائیل سے کہا ہے وہ ایٹمی ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ کی کوششوں میں معاونت کرے اور اپنی تنصیبات کے معائنے کی اجازت دے۔ امریکا اور یورپ نے یہ قرارداد رکوانے کی کوشش کی اور ناکامی پر اس کی مخالفت میں ووٹ دیا۔ خود اسرائیل نے بھی یہ قرارداد مسترد کر دی ہے۔

اپنی بات جاری رکھتے ہوئے Noam Chomsky   مزید کہنے لگے کہ اگر بھارت پہلے سے موجود اہم ایٹمی پروگرام کو توسیع دیتا ہے تو پاکستان بھی ایسا ہی کرے گا۔ ماضی میں یہ دونوں ملک دو بار ایٹمی جنگ کے قریب پہنچ چکے ہیں۔ دراصل دنیا میں تین ملکوں نے کبھی این پی ٹی پر دستخط نہیں کئے۔ اُن میں بھارت، پاکستان اور اسرائیل شامل ہیں۔ ان تینوں نے ایسا امریکا کی حمایت سے ہی کیا ہے۔ اسرائیل کو تو امریکا کی کھلی حمایت حاصل ہے۔ پاکستان کو امریکی صدر ریگن کے زمانے کی حمایت حاصل رہی جب وہاں ضیاء الحق امریکی انتظامیہ کا فیورٹ ڈکٹیٹر تھا، لیکن وہ ہتھیار تو بنا رہا تھا۔ بھارت نے ایک سال پہلے ہی امریکا سے ایٹمی شعبے میں تعاون کا معاہدہ کیا ہے۔ بظاہر تو اس کے الفاظ یہ ہیں کہ امریکا ایٹمی آپریشنل انرجی میں بھارت کی مدد کرے گا، لیکن حتمی طور پر یہ سب تو ایٹمی ہتھیاروں میں ہی بدل جائے گا۔ وہ یہاں Noam Chomsky کچھ دیر کو رکے اور اگلے ہی لمحے کہنے لگے ‘‘حقیقت میں اقوام متحدہ کی قرارداد صرف ایران کے خلاف ہی نہیں بلکہ ان تنیوں ملکوں کے خلاف بھی ہے جنہوں نے این پی ٹی پر دستخط نہیں کئے’’۔

وہ کہتے ہیں کہ سلامتی کونسل کی قرارداد تمام ملکوں پر زور دیتی ہے کہ وہ طاقت کے استعمال کی دھمکیاں نہ دیں۔ انہوں نے میری طرف دیکھتے ہوئے سوال کیا کہ طاقت کے استعمال کی دھمکیاں کون دے رہا ہے؟۔ پھر خود ہی کہنے لگے کہ ایسا تو امریکا اور اسرائیل ہی کر رہے ہیں ناں۔ تو یہ قرارداد بذات خود امریکا،ا بھارت، اسرائیل اور کسی حد تک پاکستان کے خلاف ہے۔

Noam Chomsky بحث کو مزید وسیع کرتے ہوئے یورپ میں امریکی میزائل ڈیفینس سسٹم کی تنصیب سے پیدا ہونے والے تنازع کی طرف لے گئے۔ کہنے لگے کہ یورپ میں امریکا کی جانب سے میزائل سسٹم نصب کرنے کا جو تنازع پیدا ہوا ہے، دراصل اُس کا محور بھی ایک ہی یعنی ممکنہ ایرانی حملے کا دفاع کرنا ہے۔ کیا کسی نے اس بات پر سنجیدگی سے غور کیا ہے کہ ایران کی جانب سے امریکا اور یورپ پر حملہ اُس کے لئے کس قدر تباہ کن ثابت ہو گا۔ اُس کے لئے تو یہ خودکشی کے برابر ہو گا۔ دراصل یہ دفاع کے لئے تیار کردہ میزائل نظام نہیں بلکہ پیشگی حملہ کرنے کا مہلک ہتھیار ہے۔ کوئی بھی میزائل نظام پیشگی حملے کا سسٹم ہی ہوتا ہے۔ دوسرا یہ کہ یہ امریکا اور اسرائیل کی جانب سے طاقت کے استعمال کی دھمکیوں کو توسیع دینے کی ایک اور کوشش ہے۔

اب اگر آپ دوسری طرف نظر دوڑائیں تو دیکھیں گے کہ امریکا کئی ممالک میں اپنے بڑے سفارتخانے بنا رہا ہے۔ اس سلسلے میں بغداد، کابل اور پاکستان کی مثال سامنے ہے۔ ایک طرح سے وہ ان ملکوں میں مستقل ٹھکانہ بنا رہا ہے جو طویل عرصے تک وہاں قیام کرنے کے اُس کے ارادوں کا مظہر ہے۔

پہلے سوال کا اس قدر تفصیلی اور جامع جواب پا کر میں نے دوسرا سوال کیا کہ امریکا جنوبی ایشیاء میں کیا چاہتا ہے اور وہاں اس کے مقاصد کیا ہیں؟۔ Noam Chomsky کا کہنا تھا کہ افغانستان اور پاکستان نہایت اسٹریٹیجک مقام پر واقع ہیں۔ ایک طرف اس خطے کی سرحدیں مشرق وسطیٰ سے ملتی ہیں تو دوسری طرف بے پناہ وسائل سے مالا مال ہے۔ توانائی کے وسائل اور پیداوار کے حوالے سے اس کی اہمیت اور حیثیت مسلمہ ہے اور بیک وقت سورس آف انرجی اور سیکنڈ سورس آف انرجی ہے۔ یہ خطہ سرحدوں اور وسائل پر کنٹرول کے لحاظ سے بھی کئی تنازعات میں گھرا ہوا ہے۔ شنگھائی تعاون تنظیم خطے کے لحاظ سے اہم کردار ادا کر رہی ہے جس میں چین، روس اور وسط ایشیائی ریاستیں شامل ہیں جبکہ پاکستان نے مبصر کے طور پر شرکت کی ہے۔ اس تنظیم کا مقصد ایشین انرجی سیکورٹی کا قیام عمل میں لانا ہے جو امریکا سے بالکل الگ ہے۔ دراصل اس تنظیم کے رکن ملک طے کر چکے ہیں کہ امریکا خطے سے واپس چلا جائے اور  انہیں وسائل پر حق دیا جائے۔ جنوبی ایشیاء میں ایک اور اہم تنازع ابھرتی ہوئی معیشت بھارت کی جانب سے توانائی کے حصول کی کوششیں ہیں۔ دیکھنا یہ ہے کہ بھارت کس طرح توانائی کی ضروریات پوری کرتا ہے کیونکہ ایران سے گیس کے حصول کا ارادہ اس نے ترک کر دیا ہے۔ اگر وہ اس منصوبے میں حصہ لیتا ہے تو امریکا اس کی مخالفت کرے گا کیونکہ امریکا ایران کو تنہا کرنا چاہتا ہے۔ اب امریکا کی خواہش ہو گی کہ بھارت اپنی ضروریات ترکمانستان کے گیس کے وسیع ذخائر سے پوری کرے۔ افغانستان، بھارت، پاکستان اور ترکمانستان کے درمیان گیس پائپ لائن پرانا آئیڈیا ہے، لیکن یہ ابھی بھی ڈرائنگ بورڈ پر موجود ہے۔ امریکا کا مقصد بھارت کو ایران سے گیس کے حصول سے روک کر ترکمانستان کی طرف راغب کرنا ہے تا کہ وہ تہران پر ایٹمی پروگرام روکنے کے لئے دباؤ ڈال سکے جبکہ روس بھی نئی دہلی کا دوست ہے۔ خطے میں افغانستان کی اہمیت کے حوالے سے Noam Chomsky کا کہنا تھا کہ افغان صوبہ قندھار متنازع ہونے کے ساتھ ساتھ نہایت اہمیت کا حامل بھی ہے۔

بعض ماہرین کا حوالہ دیتے ہوئے وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ جنوبی ایشیاء میں دراصل وسائل پر قبضے کی جنگ جاری ہے۔ امریکا مشرق وسطیٰ میں تیل کے ذخائر کی عالمی اہمیت کو سمجھ چکا ہے اور مستقبل میں طاقت کا انحصار اسی خطے کے وسائل کے استعمال پر ہو گا۔ اسٹریٹیجک لحاظ سے یہ دنیا کا سب سے اہم علاقہ ہے اور اس کے قدرتی وسائل پر قبضہ کرنے والا ملک ہی پوری دنیا پر قبضہ کر سکتا ہے۔ امریکا اپنے اسی خواب کو شرمندہ تعبیر کرنا چاہتا ہے۔ یہ تمام باتیں کسی سے ڈھکی چھپی نہیں بلکہ دنیا کے سامنے آ چکی ہیں۔ ہاں مگر۔ اس معاملے میں پاکستان کو مرکزی حیثیت حاصل ہو چکی ہے ۔ پاکستان کے چین سے نہ صرف دوستانہ تعلقات ہیں بلکہ معاشی اور اقتصادی میدان میں بھی دونوں کے رابطے کافی گہرے ہیں۔ امریکا کو اس بات پر تشویش ہے کہ مستقبل میں چین خودمختار طاقت کے طور  پر سامنے آ سکتا ہے۔ اس سلسلے میں بڑی پیش رفت شنگھائی تعاون تنظیم کا قیام ہے۔ اس تنظیم کو اقوام متحدہ قبول کر چکی ہے جبکہ امریکا اس سے خوش نہیں ہے۔

مجھے میرے سوالوں کا مکمل اور تفصیلی جواب مل گیا تھا۔ جو آپ کی خدمت میں حاضر ہے۔

About author

Related items

/ You may check this items as well

AI, ML and Deep Learning “cheat sheet” for the busy professionals

دنیا بھر میں Noam Chomsky کا نام ک...

Read more

‘My God, it’s better’: Emma can write again thanks to a prototype watch, raising hope for Parkinson’s disease – Transform

Microsoft researcher Haiyan Zhang created a watch ...

Read more

Malala Yousafzai and Kailash Satyarthi share Nobel Peace Prize

Malala Yousafzai and Kailash Satyarthi share Nobel...

Read more

There are 3 comments

  • بہت اہم اور تفصیلی انٹرویو ہے۔ اس انٹرویو سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ جنوبی ایشیا کے خطے میں تیزی سے آنے والی تبدیلیاں دراصل امریکہ کی توانائی کے عالمی وسائل پر اثر و رسوخ حاصل کرنے کی کوششوں کا حصہ ہیں۔ اگر صرف اس نظر سے دیکھا جائے تو 96ء میں طالبان کی آمد سے لے کر اب تک کی تمام صورتحال واضح ہو جاتی ہے کہ افغانستان میں ایک مستحکم حکومت کا خاتمہ کر کے طالبان سے کس طرح خطے کو ایک دوراہے پر لا کھڑا کیا اور کس طرح امریکہ کو خطے پر اثر و رسوخ قائم کرنے میں مدد دی۔

    پس تحریر یہ کہنا چاہوں گا کہ آپ کا بلاگ بہت منفرد حیثیت رکھتا ہے۔ ایک تجربہ کار صحافی اور دنیا کی سیاست کے قلب میں موجودگی کی حیثیت سے آپ کی انفرادیت میں مزید اضافہ ہو جاتا ہے۔

  • Subhan says:

    extremely long article!

  • *ساجد* says:

    اپنی کمزور ہوتی معیشت اور بیروزگاری کے باوجود امریکہ ماضی میں کئیے گئے غلط اقدامات کا نا صرف دفاع کر رہا ہے بلکہ ان کو جائز ثابت کرنے کے لئیے بے تحاشا وسائل بھی استعمال کر رہا ہے۔ اب وقت تیزی سے بدل رہا ہے اور اگر امریکہ نے اپنے فیصلوں پہ نظر ثانی نہ کی تو اس کو سوویت یونین جیسے حالات کا سامنا کرنے کے لئیے تیار رہنا ہو گا۔
    معروف تجزیہ کار جناب ہارون الرشید نے بھی سما ٹی وی پہ چند روز قبل یہی کہا تھا کہ امریکی تھنک ٹینکس اور فوجی مشیران اوبامہ کو جو مزید فوج افغانستان میں بھیجنے کا مشورہ دے رہے ہیں وہ طاقت کے گھمنڈ کا مظہر ہے اور امریکہ اپنے ساتھ ساتھ اس خطے کو بھی مزید مشکلات میں پھنسا دے گا۔

  • Leave a Reply

    Your email address will not be published. Required fields are marked *