صدر اوباما نے جمعہ کو جب يہ اعلان کيا کہ وہ سن 2011 تک عراق سے امريکي فوجيں واپس بلا ليں گے تو اُن کي سيکورٹي اسٹيبلشمنٹ کو کافي حيراني ہوئي۔ واشنگٹن پوسٹ کےThomas Ricks نے حال ہي ميں اپني کتاب The Gamble ميں اس بات کي طرف اشارہ کيا تھا کہ صدر اوباما پچيس ہزار سے پچاس ہزار تک فوج نامعلوم مدت تک عراق ميں ہي رکھيں گے۔
Ricks لکھتے ہيں کہ جنرلDavid Petraeus اور Raymond Odiernoجيسے فوجي افسران بھي يہي توقع کر رہے تھے کہ اتنے فوجي ہي عراق ميں باقي رکھے جائيں گے۔ وہ يہ بھي کہتے ہيں کہ عراق ميں مزيد کئي سال تک لڑائي جاري رہے گي۔ اوباما کي اس نئي پاليسي سے Ricks
اور اُن فوجي افسروں کو ضرور حيرت ہوئي ہو گي جن کے وہ انٹرويو کرتے رہے ہيں۔ کافي عرصے سے ايسا لگ رہا تھا کہ وہ عراق ميں باقي بچي ہوئي فوج کو کم کريں گے اور کافي عرصے کے بعد اب اُن کا سرکاري موقف سامنے آيا ہے۔ امن کے حامي بہت سے لوگوں کو اس بات پر يقين ہے کہ اسي طرح سے آہستہ آہستہ مزاحمت کا مقابلہ کيا جائے گا اور اسي پر عمل کرتے ہوئے مکمل فوجي قبضہ کيا جائے گا۔
اوباما نے جو کچھ کہا ہے اُس سے جمعہ کو نارتھ کيلورينا ميں Camp Lejeune ميں اُن کے خطاب تک تنقيد کرنے والوں نے کسي بھي رائے کا اظہار نہيں کيا۔ اوباما کے اپنے قريبي حلقوں ميں سينٹر فار امريکن پروگريس اور مشير John Podesta ہي ايسے شخص ہيں جو سر عام اس بات کي حمايت کرتے نظر آتے ہيں کہ تمام فوجيوں، ٹرينرز اور مشيروں کو عراق سے ايک سال کے اندر ہي واپس بلا ليا جائے۔ Ricks کي کتاب ميں ايک اور ملتے جُلتے معاملے پر بھي غلطي پائي جاتي ہے اور وہ يہ ہے کہ اس عمل کے دوران جنگ کے خلاف تحريک کا کردار کتنا ہے۔ Ricks جنرل پيٹرياس کو اس بات کا کريڈٹ ديتے ہيں کہ وہ دو ہزار سات اور دو ہزار آٹھ ميں سياسي جنگ جيتنے ميں کامياب رہے۔ Petraeusکي سوچ عراق سے امريکي فوج کي تيزي سے واپسي جبکہ اليکشن کے اس سال ميں عراقي فوج کي تعداد ميں اضافہ تھا۔
Ricks کے مطابق اُنہوں نے اس بات کو ذہن سے نکال ديا تھا۔ وہ کہتے ہيں کہ ستمبر دو ہزار سات ميں جب پيٹرياس نے کانگريس کے سامنے بيان ديا تو ملک کے اندر اُن پر تنقيد کم ہو گئي۔ چونکہ ٹيلي ويژن نيٹ ورکس نے عراق کي نکلنا شروع کر ديا تھا، اس لئے نيوز کوريج ميں بھي کافي حد تک کمي آ گئي۔ وہ لکھتے ہيں کہ مارچ دو ہزار آٹھ ميں جنگ کے خلاف مظاہرے بھي بہت ہي کم ہو گئے تھے۔ جنرل پيٹرياس نے جب کانگريس کے سامنے بيان ديا تو ڈيموکريٹک پارٹي کے رہنما اور بڑے ڈونرز عراق کے مسئلے سے پيچھے ہٹ گئے۔ اس کے نتيجے ميں امريکا ميں جو بحران پيدا ہوا وہ کبھي حل نہ کيا جا سکا، ليکن ڈيموکريٹ پارٹي کو اس کا فائدہ ہوا اور اوباما کو ہيلري کلنٹن کے مقابلے ميں زيادہ ووٹ ملے۔ ايک ايسے وقت ميں جب باراک اوباما اور اليکٹرول سياست کي حمايت کے درميان کسي ايک چيز کا لوگوں کو انتخاب کرنا تھا، اُسي وقت گراس روٹس امن تحريک کئي ہزار لوگوں کے ساتھ آگے بڑھ رہي تھي۔
Ricks کے قريب واشنگٹن ميں جنگ کے خلاف ريلي اس بات کا ثبوت تھي کہ گراس روٹس امن تحريک آگے بڑھے گي اور اوباما کي انتخابي مہم کے دوران يہ ايک طاقت بن کر سامنے آئے گي۔ پھر نومبر ميں جب John McCain کو شکست ہوئي تو پيس موومنٹ کے لئے يہ ايک درست حکمت عملي بن گئي، ليکن پھر بھي بہت سے لوگوں کو اس بات پر حيرت تھي کہ کيا اوباما نے نئے فوجي قبضے کے اندر رہتے ہوئے ادھورے امن کے وعدے سے زيادہ کوئي بات کي تھي؟۔ اب يہ بات واضح ہو گئي ہے کہ اسي راستے پر چلتے ہوئے اوباما نے يہ سمجھ ليا تھا کہ جب پينٹاگون ايک لاکھ پچاس ہزار فوجيوں کے ساتھ عراق کي جنگ نہيں جيت سکا تو ايسي صورت ميں پچاس ہزار فوجي وہاں چھوڑنے کا کيا فائدہ ہو گا؟۔ ايسے حالات ميں کہ جب امريکا کي معيشت بحران کا شکار ہے اور اُس کو پاکستان اور افغانستان کے مسئلے کا بھي سامنا ہے تو عراق جنگ کا مسئلہ زيادہ پيچيدہ ہو جاتا ہے۔ عراق ميں صورتحال اب بھي ايسي نہيں ہے کہ جس کے بارے ميں کچھ کہا جا سکے۔
عراق ميں ايک طرف قوم پرستي ہے تو دوسري طرف اس کے حکمران بھي آمريت کو پسند کرنے والے ہيں، ايک طرف فرقوں ميں بٹي پوليس ہے تو دوسري طرف سات سال کي جنگ کے نتيجے ميں ہزاروں افراد قيد ميں ہيں۔
Ricks لکھتے ہيں کہ يہاں کي کمانڈ ميں ہزار سني قيدي موجود ہيں۔ ابھي کچھ ہي دن پہلے Bob Woodward کي کتاب بھي سامنے آئي ہے جس ميں کچھ مزيد باتيں سامنے آئي ہيں۔ کتاب ميں بغداد ميں زبردستي امن قائم کرنے کے لئے امريکا کے ايک ايسے پروگرام کا ذکر کيا گيا ہے جس کے تحت غير قانوني طور پر لوگوں کے قتل کي بات کي گئي ہے۔ سني بلاک سے تعلق رکھنے والوں نے دو ہزار سات ميں فيصلہ کر ليا تھا کہ امريکي فوج سے اتحاد کي صورت ميں انہيں شيعہ اکثريت سے تحفظ مل سکے گا۔ اُن کي سوچ ٹھيک تھي کيونکہ عراق کے نام نہاد بيٹوں کو امريکي فوجيوں پر حملے نہ کرنے کے بدلے بيس ملين ڈالر ادا کئے گئے جبکہ دوسري طرف شيعہ برادري کا امريکا سے لڑنے کا کوئي سوال ہي پيدا نہيں ہوتا کيونکہ امريکا ہي تو انہيں اس مقام تک لے آيا تھا۔ انہوں نے ايسا اُس وقت بھي نہيں کيا جب مقتديٰ الصدر کے حامي مسلح لوگوں نے ايک ماہ کے لئے ہي سہي ليکن اقتدار ميں آنے کے لئے سياسي راستہ اختيار کيا تھا۔ ادھر ايران بھي امريکي فوج کے نکلنے سے خوش ہو گا کيونکہ اس کے بعد عراق ميں جو بھي شعيہ جماعت اقتدار ميں آئے گي۔۔ وہ اُس کے ساتھ اچھے تعلقات رکھے گا۔ کردوں کے علاقے ميں کرد مسئلہ تو پيدا کر سکتے تھے، ليکن يہ زيادہ بڑا مسئلہ نہيں کيونکہ يہ مقامي طور پر ہي حل کيا جا سکتا ہے۔ چيزيں تبديل ہو سکتي ہيں، ليکن زيادہ تر عراقيوں کي خواہش ہے کہ امريکا عراق سے نکلنے کے معاہدے پر عمل کرے۔ يہ بھي ہو سکتا ہے کہ جب امريکي فوجي عراق سے واپس جائيں تو وہ اُن پرجوتے برسانے کے بجائے پھول نچھاور کر رہے ہوں۔ اوباما کو عراق سے نکلنے پر اُس صورت ميں زيادہ سياسي خطرہ ہو سکتا ہے کہ جب ري پبلکن پارٹي کے رہنما اور فوجي جنرل قومي سطح کے ميڈيا کے ساتھ اُن کے عراق سے نکلنے کے منصوے کي مخالفت شروع کرديں۔
Ricksاس بات کا تجزيہ يوں کرتے ہيں کہ صدر اوباما اپنے اقتدار کے شروع ميں ہي فوج کے ساتھ کسي قسم کا کوئي مسئلہ پيدا نہيں کرنا چاہيں گے۔ پھر اوباما کو کلنٹن کي طرح فوج اور کانگريس ميں موجود ريپبلکن پارٹي کے ارکان کي جانب سے کسي بڑي تبديلي سے روکنے کي کوشش کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
Ricks نے اوباما کے صَبَر اور ہِمَّت کا بھي غلط اندازہ لگايا اور ہو سکتا ہے کہ انہوں نے سياہ فام ہونے کے بارے ميں بھي درست اندازہ نہ لگايا ہو۔ واشنگٹن ميں بيٹھے ناراض تھنک ٹينک کچھ بھي سوچيں ليکن امريکا کے عوام عراق ميں ايسي جنگ نہيں چاہتے جو ہميشہ چلتي ہي رہے۔ ايسي صورت ميں افغانستان اور پاکستان جلتے ہوئے شعلوں ميں رہ جائيں گے۔ ان دونوں ملکوں ميں سياسي عمل تقريباً رُک سا گيا ہے۔ اوباما نے پاکستان ميں جاسوس طياروں کے حملوں کے ذريعے القاعدہ کو شکست دينے کا وعدہ کيا جبکہ وہ افغانستان ميں مزيد فوجي بھيجنے کا اعلان کر چکے ہيں۔ اب تک وہ اپنے منصوبے پر نہايت محتاط انداز ميں عمل کرتے رہے ہيں۔ اوباما نے شروع ميں جنگ کو فوجي طريقے کے بجائے سفارتي طريقے سے جيتنے کي جو طريقہ اختيار کيا اُس سے neoconservativeاور فوجي افسر دونوں ہي خوش نہيں تھے۔ اس نکتے پر تو وزير دفاع رابرٹ گيٹس بھي صدر اوباما کي حمايت کرتے نظر آتے ہيں اور وہ کئي بار وارننگ دے چکے ہيں کہ فوجي طريقے سے مسئلے حل نہيں کئے جا سکتے ، ليکن اس کے باوجود اوباما افغانستان ميں مزيد سترہ ہزار فوجي بھيجنے والے ہيں جس کے بعد يہاں فوجيوں کي تعداد بڑھ کر پچاس ہزار ہو جائے گي۔۔ اگر دونوں کا جائزہ ليا جائے تو جنوبي ويتنام کے ميدان جنگ ميں امريکا نے پانچ لاکھ فوجي اتارے تھے جبکہ اس کا رقبہ 67 مربع ميل اور آبادي انيس ملين تھي۔ عراق ميں ہم نے ايک لاکھ ساٹھ ہزار فوجي بھيجے جبکہ اس کا رقبہ 168,745مربع ميل اور آبادي 26 ملين افراد پر مشتمل ہے۔ صدر اوباما نے افغانستان ميں ساٹھ ہزار فوجي بھيجنے کي منصوبہ بندي کي ہے جبکہ اس کا رقبہ 250,001 مربع ميل اور آبادي تيس ملين ہے۔ پاکستان کي سرزمين پر امريکا کے ايک سو خصوصي لوگ ہيں جبکہ پچاسي ہزار قبائلي پيراملٹري اہلکاروں کے لئے چار سو ملين ڈالر خرچ کرنے کا منصوبہ بنايا گيا ہے۔ ان ملکوں کي جيوگرافي اور آبادي کي خوبياں بھي الگ الگ ہيں۔ ايسا ممکن نہيں ہے کہ صدر اوباما ان ملکوں ميں فوج کي تعداد ميں مسلسل اضافے ساتھ ساتھ فوجي حل کے بارے ميں بھي نہيں سوچتے ہوں گے، اب کسي بھي طرح يہ بات نہيں سوچي جا سکتي کہ وہ ويتنام کي طرز پر کوئي منصوبہ بنا رہے ہوں گے۔ جس طرح سے افغانستان ميں اخراجات چل رہے ہيں اس لحاظ سے اوباما کي پہلي مدت ختم ہونے تک اخراجات ايک ٹريلن ڈالر تک پہنچ جائيں گے جبکہ اگر معاشي بحران حل نہيں ہوا تو اُن کا عہدہ بھي خطرے ميں پڑ جائے گا۔ افغانستان جنگ پر تنقيد کرنے والوں کو بھرپور بحث کے ذريعے يہ بتانا ہو گا کہ يہ جنگ بہت لمبي ہے۔ انہيں بتانا ہو گا کہ سترہ ہزار مزيد فوجي افغانستان بھيجنے کي مخالفت کرنا ايسا ہي ہے جيسے طالبان کو حملے کرنے کے لئے سترہ ہزار نئے موقع ديئے جائيں۔ اس مسئلے کا سفارتي حل اور وہاں سے نکلنے کے لئے منصوبہ بھي تيار کرنا ہو گا۔ اس بحث ميں پہلا قدم يہ ہو سکتا ہے کہ تعليمي اداروں ميں انيس سو پينسٹھ کي ويتنام جنگ سے سيکھا گيا سبق ياد کيا جئے۔ دوسرا يہ کہ کانگريس ميں اس پر بحث کي جائے گي۔ اس کا تيسرا حصہ دو ہزار دس کے انتخابات ہوں گے جب اس موضوع پر ہر ضلع ميں براہ راست بات چيت کي جائے گي۔ آنے والے وقت ميں صدر اوباما کو ايران پر حملے سے انکار کرتے ہوئے اُس کو عراق اور افغانستان ميں حالات بہتر بنانے کے لئے کام ميں لانے کيلئے ساتھ لے کر چلنا ہو گا۔ اسي طرح اوباما کو فلسطيني عوام کي خواہش کے مطابق الگ رياست کے لئے بھي حمايت حاصل کرنے کا راستہ تلاش کرنا ہو گا۔ اس سلسلے ميں سب سے اچھي بات يہ ہو سکتي ہے کہ فلسيطني رياست کي خاطر جہاد کے لئے عرب اور ديگر اسلامي ملکوں کي حمايت کم کي جائے۔
ابھي اس راستے پر بہت لمبا سفر کرنا ہے ليکن انہوں نے مشرق وسطيٰ کے لئے George Mitchell کو خصوصي نمائندہ اور سب سے بڑے انٹيلي جنس عہدے پر
کو مقرر کر کے کئي سالوں کے بعد اس سلسلے ميں بہت اچھا قدم اٹھايا ہے۔
Ibrahim Sajid Malick is a Pakistani-American writer, technologist, and social entrepreneur. He has been writing on Pakistani society and politics since 1986. He has held several media, communications, and technology positions for organizations large and small. Mr. Malick graduated from New School for Social Research with a master’s degree in anthropology. He holds several technology and management certifications. He works for a leading technology firm and blogs at www.ibrahimsajidmalick.com