امریکا میں رہنے والے دوسرے ملکوں کے لوگوں کي مخالفت کرنے والوں نے معاشي بحران اور
کساد بازاري کو اچھا موقع سمجھا اور اس تمام صورتحال کو یہاں رہنے والے اُن غیر ملکي شہریوں
سے جوڑنے میں کوئي دیر نہیں کي جن کے پاس قانوني کاغذات نہیں ہیں۔ اسي طرح بڑي تعداد میں
بے روزگاري اور قومي سطح پر غم و غصے کي فضاء نے بھي اس الزام کو سہارا دیا۔ غیر ملکي
روکرز پر پابندي کے حامي گروپوں نے بھي غصے میں آکر انہي کي طرف انگلي اٹھائي ہے۔ قانوني
کاغذات کے بغیر امریکا میں رہنے والے مزدوروں پر پہلے ہي جذام، بڑھتے ہوئے جرائم، ماحولیات
کے مسائل، بین الاقوامي سطح پر درجہ حرارت میں اضافے اور مغربي تہذیب کے خاتمے کا الزام
لگایا جاتا رہا ہے، اس لئے خراب معیشت کا تعلق بھي اُن سے جوڑنا قدرتي بات لگتي ہے۔ لیکن ہمیں
زرا دوسري طرف بھي غور کر لینا چاہیئے۔ قانوني کاغذات کے بغیر یہاں رہنے والے مزدوروں کي
مجموعي تعداد کل افرادي قوت کي تعداد کا بیسواں حصہ ہے، لیکن یہ لوگ بہت ہي زیادہ خطرناک،
گندي اور کم آمدني والي نوکریاں کر رہے ہیں۔ غیر قانوني طور پر امریکا میں مقیم ورکرز کي چھانٹي
کي وجہ سے بے روزگار امریکي شہریوں کے لئے ملازمت کے مواقع تو پیدا ہوئے ہیں، لیکن یہ
کوئي زیادہ عقل مندي والا فیصلہ نہیں۔ امریکي کانگریس میں سخت موقف رکھنے والے ارکان نے
بھي ایسے غیر قانوني تارکین وطن ورکرز پر پابندي کا مطالبہ نہیں کیا جو کہ موجودہ منظور ہونے
والے معاشي پیکیج کي رقم سے فائدہ اٹھائیں گے۔ وہ چاہتے ہیں کہ معاشي پیکیج کي رقم حاصل
کرنے والے تمام کاروباري ادارے ایک ایمپلائمنٹ ویري فکیشن سسٹم یا اي ویري فائي سسٹم استعمال
کریں۔ یہ آئیڈیا سمجھ میں آنے والا نہیں۔ یہ جاننا تو ناممکن ہے کہ اس معاشي پیکیج کے ذریعے کتنے
ایسے ورکرز کو ملازمت پر رکھا جائے گا جن کے پاس قانوني دستاویزات نہیں ہیں، لیکن کانگریس
کا بجٹ آفس پہلے ہي اس رقم کو ہزاروں بے روزگاروں کو نوکریاں دینے اور ٹیکس ریونیو میں
ہونے والے اربوں ڈالر کے نقصان کو پورا کرنے کا تعین کر چکا ہے، تاہم غیر رجسٹرڈ ورکرز کي
چھانٹي ہو جائے گي۔ امریکي اقدار کے تحفظ اور عام انسان کي سمجھ بوجھ کي بہتري کے لئے یہ
ایک اچھي حکمت عملي ہو سکتي ہے جس سے ایسے تمام ورکرز کو سہولت ملے گي جن کے نام
حکومت کے پاس درج ہیں یا نہیں۔ اسي کي مدد سے اُن غلط چیزوں کا مقابلہ کیا جا سکتا ہے جن
چیزوں نے ہر ایک کے لئے کام کرنے اور آمدني کے حالات بہت ہي خراب کر دیئے ہیں۔ اسي طریقہ
کار سے غیر قانونيلیبر اور ٹیکس چوري کرنے کے کاروبار پر بھي روشني ڈالي جا سکتي ہے۔
امریکا کي مزدور تنظیمیں اس بات کو اچھي طرح سے سمجھنے لگي ہیں۔ شاپنگ مال اور پُل بنانے
والے مزدوروں کي نمائندہ تنظیم شمالي امریکا کي لیبرز انٹرنیشنل یونین دوسرے ملکوں کے ورکرز
کو سن بلٹ میں منظم کرنے کي کوششوں میں مصروف ہے۔ یہ وہ ورکرز ہیں جنہوں نے بہترین
معاشي حالات کے دوران مکانات تعمیر کرتے ہوئے فائدہ اٹھایا اور اب بے روزگار ہیں۔ ان لوگوں کو
اس وقت مدد کي ضرورت ہے۔ یونین کے صدر
۔۔۔ کا کہنا ہے کہ
”یہ وہ ورکرز نہیں ہیں جنہوں نے رہائشي عمارتوں کي
Terrence O’Sullivan
تعمیر کي صنعت میں اجرت کم کرنے کي کوشش کي ہے بلکہ وہ تو بے ایمان مالکان تھے جنہوں نے
ان ورکز کے غیر قانوني پوزیشن کو یہ کام کرنے کے لئے استعمال کیا۔
”
ادھر لاس اینجلس میں
یونائیٹڈ اسٹیل ورکرز نے بھي بدنام گندي صنعتوں کے حالات بہتر کرنے کي مہم کي حمایت کا اعلان
کیا ہے۔ کاریں دھونے والے زیادہ تر ورکرز کا تعلق لاطیني امریکا اور یورپ سے ہے اور وہ نہایت
کم اجرت پر طویل گھنٹے کام کرتے ہیں۔ اُن کي شکایت ہے کہ اجرت کے معاملے میں اُن سے اکثر
دھوکا ہوتا ہے۔ انہیں کام کے دوران وقفہ نہیں ملتا اور ایسے کیمیکل میں کام کرایا جاتا ہے جس سے
اُن کي جلد اور آنکھیں جل جاتي ہیں۔
گذشتہ ہفتے لاس اینجلس کے سٹي اٹارني جنرل کاروں کي صفائي سے متعلق چھ کمپنیوں کے مالکان
کے خلاف عدالت گئے ہیں۔ ان مالکان پر ورکرز کو کم اجرت دینے اور دیگر غیر قانوني کاموں کا
الزام لگایا گیا ہے۔ ادھر نیو یارک میں اسٹیٹ لیبر کمشنر
نے بیوٹي پارلرز اور ریسٹورنٹس میں کام کرنے والے غیر ملکیوں کي
M. Patricia Smith
فہرست بنانا شروع کر دي ہے تا کہ وہاں ہونے والي زیادتیوں کا ریکارڈ رکھا جا سکے۔ یہاں یہ سوال
پیدا ہوتا ہے کہ کیا حکومت ورکرز کا ساتھ دے گي؟۔۔ بظاہر ان حالات میں یہ ایک بے عقلي کا سوال
لگتا ہے، لیکن یہ کسي بھي دوسرے قدم کے مقابلے میں بہتر عمل ہو گا۔
لاس اینجلس کي یونیورسٹي آف کیلیفورنیا میں شہري منصوبہ بندي کے پروفیسر
اس بات پر زور دیتے ہیں کہ موجودہ قانون مصنوعي طور پر کم اجرت
l Hinojosa-OjedaRْa
کو سپورٹ کرتا ہے جس سے دراصل قانوني کاغذات کے بغیر ورکرز کیلئے طلب پیدا ہوتي ہے۔ غیر
ملکي ورکرز کو تحفظ دینے کا نظریہ انساني شائستگی کا معاملہ ہے لیکن مشکل حالات میں اس پر
عمل کرنا آسان نہیں ہوتا۔ کسي بھي ملک کي معیشت گر جانے کي صورت میں حکومت مصنوعي
طور پر اس کو سہارا دینے کي کوشش کرتي ہے۔
ختم
Ibrahim Sajid Malick is a Pakistani-American writer, technologist, and social entrepreneur. He has been writing on Pakistani society and politics since 1986. He has held several media, communications, and technology positions for organizations large and small. Mr. Malick graduated from New School for Social Research with a master’s degree in anthropology. He holds several technology and management certifications. He works for a leading technology firm and blogs at www.ibrahimsajidmalick.com